اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی این سی سی آئی اے کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس میں متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت سے قبل انٹرویوز اور جانچ پڑتال کا عمل مکمل کرکے نتائج پر مشتمل جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے توقیر احمد جدون کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔
عدالت میں ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق وفاقی پبلک سروس کمیشن کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ’ قانون کے بغیر شہریوں کو آف لوڈ نہیں کرسکتے‘، اسلام آباد ہائیکورٹ ایف آئی اے پر برہم
حکمنامے کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کی ابتدائی بھرتیاں ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت کی گئی تھیں، جسے بعد ازاں نان ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزاروں کے انٹرویوز اور جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے، جبکہ ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرلز مشترکہ طور پر انٹرویوز کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت ’ای کورٹ‘ بن گئی
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ملازمین کی ملازمتیں مستقل کرنے کے لیے وفاقی پبلک سروس کمیشن کی منظوری قانونی تقاضا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو انٹرویوز اور جانچ پڑتال کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرلز کو انٹرویوز کے نتائج بھی رپورٹ میں شامل کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل انٹرویوز کے نتائج پر مشتمل جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کر دی۔










