پاک چین شراکت داری خطے اور باہر امن و استحکام کے لیے مضبوط اور قابل اعتماد ذریعہ ہے، اسحاق ڈار کا چین پاکستان گورننس سیمینار سے خطاب

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے ایک مضبوط اور قابل اعتماد ذریعہ ہے دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی صرف بین الحکومتی تعاون پر منحصر نہیں بلکہ مسلسل سیاسی مفاہمت، ادارہ جاتی روابط اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تبادلوں پر استوار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل، دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے، چینی وزیر

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں چین کے صدر شی جن پنگ کے پارٹی سازی سے متعلق نظریات کے موضوع پر سمپوزیم اور چین پاکستان گورننس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقعے پر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبہ (آئی ڈی سی پی سی) کے وزیر لیو ہائی شینگ اور پاکستان میں چین کے سفیر بھی موجود تھے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ آج کے سمپوزیم نے حکمرانی، ادارہ سازی اور قومی ترقی میں سیاسی جماعتوں کے دیرپا کردار پر غور و فکر اور پاک چین دیرینہ جماعتی روابط کو مزید گہرا کرنے کا اہم موقع فراہم کیا ہے۔ ہم صدر شی جن پنگ کے پارٹی سازی سے متعلق نظریات کی فکری خدمات اور کمیونسٹ پارٹی کے اس تجربے کو سراہتے ہیں جس کے ذریعے اس نے اپنے اصولوں کو موثر حکمرانی اور ترقی کے ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین کے وزیر کے خطاب نے صدر شی جن پنگ کے پارٹی سازی سے متعلق نظریات کو 5 جہتوں بشمول نظریاتی بنیادیں، عملی اطلاق، عوام کو مرکز بنانا، ثقافتی جڑیں اور عالمی اہمیت سے سمجھنے کا موقع دیا۔ ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ قومی اتحاد، ادارہ جاتی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے بصیرت افروز قیادت ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیے: پاک چین دوستی اسپتال کا افتتاح، ملک بھر سے آنے والے مریضوں کا مفت علاج ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان

سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے جماعتی نظم و ضبط، تنظیمی صلاحیت، بدعنوانی کے خاتمے اور عوام مرکز حکمرانی کے عزم نے چین کی غیر معمولی ترقی کو ممکن بنایا۔ چین نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکال کر غربت کے خاتمے میں تاریخی کردار ادا کیا اور پہلا صد سالہ ہدف مکمل کر کے اب دوسرے صد سالہ ہدف – ایک عظیم جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر – کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے معاشی خود انحصاری اور استحکام کی جانب اہم پیشرفت کی ہے اور اب ہم معاشی استحکام کو مزید مضبوط کرنے کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہماری کامیابیاں میکرو اکنامک نظم و ضبط، اداروں کی جدت کاری، ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ اور ضابطہ کاری کو آسان بنانے جیسی اصلاحات سے جڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال دونوں ممالک کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں جبکہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اپنی 105 ویں یوم تاسیس منا رہی ہے۔ گزشتہ 75 برسوں میں یہ تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور حمایت کی بنیاد پر ہمہ موسمی آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی شراکت داری میں بدل چکے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ 31 مارچ کو پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے مشترکہ پانچ نکاتی امن اقدام کا آغاز کیا، اور صدر شی جن پنگ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے چار نکاتی تجویز اور عالمی حکمرانی اقدام (جی جی آئی) ترقی پذیر ممالک اور عالمی جنوب کے مفادات کے لیے چین کے عزم کی مثال ہیں۔

انہوں نے پانچ شعبوں میں سفارشات کو یکجا کرنے کی تجویز دی: (1) جماعتی تنظیموں اور نچلی سطح کے ڈھانچوں کو مضبوط بنانا، (2) ترقی کے متبادل راستوں اور جدت کاری کو آگے بڑھانا، (3) عوام پر مرکوز حکمرانی کے ذریعے عوامی اعتماد مضبوط بنانا، (4) بدعنوانی کا خاتمہ اور احتساب کا فروغ اور (5) بین الجماعتی تعلقات کے لیے مضبوط نظام کی تشکیل۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کی دوستی کی شمع کو روشن رکھنے کے لیے نوجوانوں کو شامل کرنا ناگزیر ہے اور ہم 75 سالہ تقریبات کے موقع پر مسلسل سیاسی روابط اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ایک قریبی چین پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک چین دوستی پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کی مضبوط بنیاد ہے، مبارک زیب

اس موقعے پر (آئی ڈی سی پی سی) کے وزیر لیو ہائی شینگ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، سابق چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری اور سینیٹر شیری رحمان نے بھی خطاب کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp