مصنوعی ذہانت سے کوئی پیشہ مکمل طور پر محفوظ نہیں، امریکی پروفیسر نے خبردار کردیا

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے وارٹن اسکول کے پروفیسر ایتھن مولک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث اب کوئی بھی پیشہ مکمل طور پر اس کے اثرات سے محفوظ نہیں، حتیٰ کہ پلمبر اور نرسنگ جیسے شعبے بھی مستقبل میں اس ٹیکنالوجی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پروفیسر ایتھن مولک، جو اپنی نئی کتاب ‘کو ایگزیسٹنس’ کے مصنف بھی ہیں، نے پیٹر کافکا کے چینلز پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے محفوظ ملازمت اختیار کرنے یا صرف اس ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھ لینے کو مستقبل میں روزگار کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی کمپنی دیوالیہ ہوئی تو صارفین کے نجی راز بھی فروخت ہوسکتے ہیں

ان کے مطابق بعض افراد کا خیال ہے کہ ہاتھ سے کام کرنے والے پیشے، مثلاً پلمبنگ اور نرسنگ، مصنوعی ذہانت سے محفوظ رہیں گے، لیکن یہ تحفظ بھی اس وقت تک ہے جب تک ایسے کاموں کے لیے جدید روبوٹ تیار نہیں ہوجاتے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے روبوٹکس کے شعبے سے وابستہ دوست، جو پہلے اس خیال کا مذاق اڑاتے تھے، اب اس امکان کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔

ایتھن مولک کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کیا ہوگا، اس بارے میں کوئی بھی یقینی طور پر نہیں جانتا، حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت کے ماہرین بھی اس حوالے سے حتمی پیش گوئی نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ملازمتوں کے مستقبل میں اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی شعبہ مصنوعی ذہانت سے مکمل طور پر محفوظ رہے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں کسی شعبے میں ملازمتوں کی تعداد بڑھے گی یا کم ہوگی۔

ان کے مطابق پروگرامنگ کے شعبے میں بھی ذمہ داریاں مسلسل تبدیل ہورہی ہیں اور اب یہ صلاحیت زیادہ اہم ہوتی جارہی ہے کہ کوئی شخص کیا چیز بنانا چاہتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ صرف بہترین کمپیوٹر کوڈ لکھنے کی مہارت رکھتا ہو۔

مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں انسان کی 4 اہم صلاحیتیں

پروفیسر ایتھن مولک نے 4 ایسی صلاحیتوں کی نشاندہی کی ہے جو مصنوعی ذہانت کے دور میں انسان کو اپنی برتری برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ان میں کسی ایک شعبے کا گہرا علم، مختلف شعبوں سے وسیع معلومات، بہتر ذوق اور تخلیقی کام کے معیار کو پرکھنے کی صلاحیت اور اپنے فیصلوں کے مطابق کام شروع کرنے اور اسے آگے بڑھانے کی اہلیت شامل ہیں۔

ان کے مطابق کسی ایک شعبے میں گہری مہارت انسان کو مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں برتری دے سکتی ہے، جبکہ مختلف موضوعات سے متعلق وسیع معلومات رکھنے والے افراد مصنوعی ذہانت سے زیادہ مؤثر انداز میں کام لے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بینک اکاؤنٹس کو مصنوعی ذہانت سے خطرہ، غیر مجاز اے آئی ایجنٹس کی رسائی کا انکشاف

اسی طرح مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں مواد اور تخلیقی کام تیار کرسکتی ہے، لیکن اس کے معیار کا فیصلہ کرنے اور بہتر نتائج کا انتخاب کرنے کے لیے انسانی ذوق اور فیصلہ سازی اہم رہیں گے۔

مولک کے مطابق مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا مطلب اب صرف اسے ہدایات دینا نہیں رہا، بلکہ اس کے کام کی نگرانی اور انتظام کرنا بھی ہے۔ صارف کو واضح کرنا ہوتا ہے کہ وہ کیا بنوانا چاہتا ہے، اچھے نتیجے کا معیار کیا ہوگا، اس کی جانچ کیسے کی جائے گی اور کام کے دوران اسے کن مراحل پر پیش رفت دکھائی جائے۔

نوجوان ملازمین کی تربیت کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ

پروفیسر ایتھن مولک نے مصنوعی ذہانت کے باعث نوجوان ملازمین کی پیشہ ورانہ تربیت کے نظام میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ان کے مطابق ماضی میں نئے ملازمین کم تنخواہ پر ابتدائی اور معمولی نوعیت کے کام انجام دیتے تھے، جس کے بدلے انہیں تجربہ، پیشہ ورانہ مہارت اور روابط بنانے کا موقع ملتا تھا، جبکہ اداروں کو بھی ان کی خدمات سے فائدہ حاصل ہوتا تھا۔

تاہم مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے سے یہ نظام متاثر ہورہا ہے۔ نوجوان ملازمین اب بہت سے کام مصنوعی ذہانت کے ذریعے انجام دیتے ہیں، جس کے باعث انہیں عملی تجربہ حاصل کرنے اور اپنے کام کے نتائج کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے مواقع کم مل رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مصنوعی ذہانت کسی ابتدائی نوعیت کے کام کو انجام دے سکتی ہے تو کوئی ادارہ انٹرن یا نئے ملازم کو اس کام کے لیے کیوں بھرتی کرے گا؟

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نوکریاں کھانے کی مہم پر گامزن، برطانوی بینک کا مزید 5 ہزار ملازمین نکالنے کا اعلان

مولک کے مطابق ادارے بھی تربیت حاصل کرنے والے نوجوان ملازمین کی ناقص کارکردگی برداشت کرنے کے خواہش مند نہیں ہوتے، جس سے نئے افراد کے لیے عملی میدان میں قدم رکھنے اور تجربہ حاصل کرنے کے مواقع محدود ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے حوالے سے نسبتاً کم تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک اچھے استاد کی طرح بھی کام کرسکتی ہے، جبکہ کلاس روم میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے بغیر امتحانات اور جانچ کا انتظام کرنا بھی مشکل نہیں۔

ان کے مطابق مستقبل میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو پیشہ ورانہ تربیت کی زیادہ ذمہ داری اٹھانا پڑسکتی ہے اور دفتری ملازمتوں کی تیاری بھی کسی فنی تربیتی ادارے کی طرح کرنا ہوگی، یا پھر کمپنیوں کو سرپرستی اور عملی تربیت کو ایک باقاعدہ ذمہ داری سمجھنا ہوگا، چاہے اس کے لیے انہیں اپنی پیداواری صلاحیت میں کچھ کمی ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp