امریکا کے بڑے بینکوں نے صارفین کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کی رسائی پر تشویش ظاہر کردی، بعض ایجنٹس صارفین کی اجازت کے بغیر مالی لین دین کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، امریکا کے بڑے بینکوں کو ایسے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کا سامنا ہے جو صارفین کے درست لاگ اِن کوائف استعمال کرکے ان کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے اور ان کی جانب سے کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض ایجنٹس نے بینکوں کے کال سینٹرز سے بھی رابطہ کیا اور صارفین کی واضح ہدایات کے بغیر اقدامات کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیے چینی شہری کیسے جنوبی کوریا کے بینکوں پر سائبر حملے کر رہا ہے؟
رپورٹ کے مطابق، بینک حکام کو خدشہ ہے کہ اگر ایسے ایجنٹس کو صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل ہوگئی تو وہ خودمختار طور پر رقوم منتقل کرنے یا غیر مجاز خریداری کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔
بینک آف امریکا، جے پی مورگن، ویلز فارگو اور مورگن اسٹینلے سمیت بڑے مالیاتی ادارے ان خطرات پر قابو پانے کے لیے حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔
مالیاتی ادارے اپنی خدمات کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی، غیر مجاز رسائی کی روک تھام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔
جے پی مورگن کے ذیلی ادارے چیس سمیت بینکوں کے نمائندوں نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صارف نام اور پاس ورڈ کسی بھی مصنوعی ذہانت کے آلے یا تیسرے فریق کو فراہم نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت کی غلطی، خاتون کو 5 ماہ جیل کاٹنا پڑی؟
دوسری جانب مورگن اسٹینلے نے فی الحال اپنے پلیٹ فارمز تک ایسے خودمختار اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز رسائی کے واقعات کی تردید کی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے بینکوں کے لیے سائبر سیکیورٹی کے نئے چیلنجز پیدا کردیے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے بڑے مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں بن پا رہی۔ اس صورت حال میں متعدد بینک اے آئی ایجنٹس کو صرف مالی معلومات دیکھنے کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ وہ اکاؤنٹس کی تفصیلات تک رسائی حاصل کرسکیں، لیکن رقوم کی منتقلی یا دیگر مالی لین دین نہ کرسکیں۔











