پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے اختیار کی جانے والی سیاسی حکمت عملی، حکومت سے مذاکرات اور اپوزیشن قیادت کے کردار کے حوالے سے اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی مذاکراتی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھائے جانے، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تلخ جملوں کے تبادلے اور مختلف رہنماؤں کے متضاد مؤقف کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی قیادت اپنے ہی نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر پر اعتماد کھو رہی ہے؟
پارٹی کے اندر سامنے آنے والی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختلافات صرف مذاکرات کے طریقہ کار تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ مذاکرات کی قیادت کس کے پاس ہونی چاہیے۔ خیبرپختونخوا کی قیادت کو اس عمل میں کتنا اختیار حاصل ہو اور پارٹی کے اہم فیصلے کرنے کا حتمی اختیار کس شخصیت کے پاس رہے۔
مزید پڑھیں: بلاول بھٹو کا محمود خان اچکزئی کو عمران خان کے دیے گئے اختیارات استعمال کرنے کا مشورہ
ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض رہنماؤں نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی مذاکراتی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ دوسری جانب اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر علی خان سمیت بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ عمران خان نے جن شخصیات کو مذاکرات کی ذمہ داری سونپی ہے، پارٹی کو ان کے اختیار کا احترام کرنا چاہیے۔
بیرسٹر سیف کی محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر تنقید
پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کررہے۔
بیرسٹر سیف نے الزام عائد کیا کہ علامہ راجا ناصر عباس اہم شخصیات سے رابطوں کے باوجود ان رابطوں کو عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر طور پر استعمال نہیں کررہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ محمود خان اچکزئی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہوئے اور ایک اہم مرحلے پر کوئٹہ چلے گئے تھے۔
بیرسٹر سیف کے مطابق عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر اس مقصد کے لیے بنایا تھا کہ وہ حکومت سے رابطے اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی تعطل ختم کرنے میں کردار ادا کریں، تاہم ان کے بقول یہ ذمہ داری پوری نہیں کی جا رہی۔
مشعال یوسفزئی کا سہیل آفریدی اور اپوزیشن قیادت پر اعتراض
پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی مذاکراتی حکمت عملی اور قیادت کے کردار پر بحث ہوئی۔
ذرائع کے مطابق مشعال یوسفزئی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور اپوزیشن قیادت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طبیعت خراب ہے، لیکن سہیل آفریدی مذاکرات پر توجہ دینے کے بجائے لانگ مارچ کی حکمت عملی پر زور دیتے رہے۔
ان اعتراضات پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے خود سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اسد قیصر کے مطابق جب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ان رہنماؤں کو ذمہ داریاں سونپی ہیں تو پارٹی کے دیگر ارکان کو ان کے کردار پر غیر ضروری اعتراضات سے گریز کرنا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متعدد ارکان نے مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی جبکہ نورالحق قادری کی جانب سے ’مذاکرات، مذاکرات، مذاکرات‘ کا نعرہ لگائے جانے پر شرکا نے تالیاں بجا کر ان کی تائید کی۔
اعظم سواتی اور بیرسٹر گوہر میں مذاکراتی اختیار پر تلخی
پارٹی اجلاس میں مذاکرات کا اختیار کس کے پاس ہے، یہ معاملہ بھی اختلافات کی بڑی وجہ بن گیا۔
ذرائع کے مطابق سینیٹر اعظم سواتی نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے انہیں مذاکرات کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اس پر بیرسٹر گوہر علی خان نے مبینہ طور پر کہا کہ انہوں نے جیل میں عمران خان سے خود اس معاملے کی وضاحت طلب کی تھی، جہاں ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اعظم سواتی کو مذاکرات کا اختیار دینے کی تصدیق نہیں کی۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے مذاکرات کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو سونپی ہے۔ اس جواب پر اعظم سواتی ناراض ہو گئے اور اجلاس سے باہر چلے گئے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران بعض دیگر ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد خواجہ شیراز، علی محمد خان اور فیصل امین گنڈاپور بھی اجلاس سے باہر چلے گئے۔
علی امین گنڈاپور کا نام مذاکراتی قیادت کے لیے زیرِ بحث
پی ٹی آئی کے اندر جاری اختلافات کے درمیان سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا نام بھی مذاکراتی عمل میں زیادہ مؤثر کردار کے لیے سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کا اختیار دینے پر فیصلہ کیا گیا۔
کیا محمود خان اچکزئی کو ابتدا ہی سے پارٹی کی مکمل حمایت حاصل نہیں تھی؟
پارٹی کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنے والے حلقوں کے مطابق محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کی ذمہ داری سونپے جانے پر پی ٹی آئی کے تمام رہنما اور کارکن ابتدا ہی سے یکساں طور پر مطمئن نہیں تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی کے بعض حلقوں کا خیال تھا کہ عمران خان کی رہائی جیسے اہم معاملے پر مذاکرات کی ذمہ داری کسی ایسی شخصیت کو دی جانی چاہیے جو پارٹی کے اندرونی ڈھانچے، کارکنوں کے جذبات اور تنظیمی معاملات سے براہِ راست واقف ہو۔ اسی تناظر میں محمود اچکزئی کی نامزدگی پر بعض کارکنوں اور رہنماؤں کے تحفظات کی بات کی جاتی رہی ہے۔
عمران خان کے فیصلے کو پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے قبول کیا اور بعد ازاں اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر کی جانب سے بھی محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے مذاکراتی کردار کا دفاع کیا گیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ اختلافات محض مذاکرات کے نتائج سے متعلق مایوسی کا اظہار ہیں یا پارٹی کے اندر مذاکراتی قیادت تبدیل کرنے کی باقاعدہ کوشش شروع ہو چکی ہے۔
علی امین گنڈاپور اور سلمان اکرم راجا میں اختلافات
پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کا ایک اور پہلو علی امین گنڈاپور اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے درمیان سامنے آنے والی کشیدگی ہے۔
علی امین گنڈاپور سے منسوب ایک مبینہ لیک آڈیو میں سلمان اکرم راجا کی حکمت عملی اور بیانات پر اعتراضات کیے گئے۔ اس آڈیو سے منسوب مؤقف میں کہا گیا کہ پارٹی کے فیصلے بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کرنے ہیں اور کسی دوسرے رہنما کو اپنی مرضی مسلط کرنے کا اختیار نہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم نے صوبائی تنظیم کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سہیل آفریدی کی نامزدگی تبدیل کرنے یا صوبائی صدر کو ہٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
ان کے مطابق اجلاس کا مقصد آئندہ مذاکرات میں صوبے کی پارلیمانی پارٹی کو مؤثر نمائندگی دلانا تھا۔
آفتاب عالم نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں مذاکرات کے دوران صوبے کو مناسب مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا، جس سے سیاسی نقصان ہوا۔ ان کے بقول پارٹی کے داخلی معاملات میڈیا میں زیر بحث لانے کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیے جانے چاہییں۔
عمران خان کے فیصلے کا احترام کیا جائے، اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر کا مؤقف
پارٹی کے اندر تنقید اور اختلافات کے باوجود اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر علی خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے کردار کا دفاع کیا ہے۔
ان رہنماؤں کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ مذاکراتی ذمہ داری بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر سونپی گئی، اس لیے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو اس عمل میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
اس کے برعکس ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے معاملے پر کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہو رہی تو حکمت عملی کا جائزہ لینا اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر نظرثانی کرنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان، بیرسٹر گوہر، محمود اچکزئی یا کور کمیٹی، پی ٹی آئی میں فیصلوں کا اختیار کس کے پاس ہے؟
کیا یہ اپوزیشن لیڈر پر عدم اعتماد ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال کو محمود خان اچکزئی پر کافی حد تک عدم اعتماد کہا جا سکتا ہے، بیرسٹر سیف کی تنقید، مشعال یوسفزئی کے اعتراضات اور مذاکراتی اختیار پر ہونے والی مبینہ تلخی پارٹی کے اندر تحفظات کی نشاندہی ضرور کرتی ہے۔









