فضا میں ہزاروں فٹ بلندی پر ایک 2 سالہ بچے کی سانسیں اکھڑنے لگیں، آکسیجن کی سطح خطرناک حد تک گر گئی اور جہاز میں اس کی دمے کی دوا بھی موجود نہیں تھی۔ ایسے میں ایک ڈاکٹر نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کی بوتل، کپ اور آکسیجن کی مدد سے ایسا عارضی آلہ تیار کیا جس نے بچے کو فوری طبی امداد فراہم کی۔
مزید پڑھیں:تھرپارکر: ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے 8 افراد جاں بحق، 4 زخمی
یہ واقعہ ستمبر 2015 میں اسپین سے امریکا جانے والی ایئر کینیڈا کی ایک بین الاقوامی پرواز میں پیش آیا۔ جہاز میں موجود ڈاکٹر خورشید گرو، جو روزویل پارک کینسر انسٹی ٹیوٹ میں روبوٹک سرجری کے شعبے کے ڈائریکٹر تھے، نے ایک 2 سالہ بچے کو روتے اور سانس لینے میں دشواری محسوس کرتے دیکھا۔ بچے کے والدین نے بتایا کہ دمے کی دوا غلطی سے سامان کے ساتھ جہاز کے کارگو میں چلی گئی ہے۔
HOW DOES NEBULIZATION WORK?
Nebulization is a way of delivering medicine directly into the airways through a fine mist that a patient breathes in using a mask or mouthpiece.
Here is how it works:
1️⃣ Medicine is placed in the nebulizer: A prescribed liquid medication is poured into the machine’s medication chamber.2️⃣ The machine creates a mist: It uses compressed air, ultrasonic energy or a vibrating mesh to turn the liquid medicine into tiny droplets.
3️⃣ The patient breathes it in: Through a mask or mouthpiece, the patient inhales the mist into the respiratory system.
4️⃣ Medicine reaches the airways: Depending on the medication and droplet size, it can help open narrowed airways, reduce inflammation or loosen mucus.
Why is it used?
Nebulization is commonly used in managing conditions such as asthma and COPD, particularly when inhaled medication is needed or a patient has difficulty using an inhaler.Important: Nebulization is not oxygen therapy. It delivers medication, not necessarily oxygen. It should only be used with the medication and dosage prescribed by a healthcare professional.
Remember: The machine creates the mist; your breathing carries the medicine into your lungs.
#HealthEducation #Nebulization #RespiratoryHealth
— RwandaHealthMagᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠ (@RwandaHealthMag) October 30, 2026
ڈاکٹر خورشید گرو نے آکسیجن میٹر سے بچے کی آکسیجن کی سطح جانچی تو وہ صرف 87 فیصد تھی، جو تشویش ناک حد تک کم تھی۔ جہاز میں صرف بالغ افراد کے استعمال کا انہیلر دستیاب تھا، لیکن ڈاکٹر کو خدشہ تھا کہ اتنا چھوٹا بچہ اسے درست طریقے سے استعمال نہیں کر سکے گا۔
ڈاکٹر نے فوری طور پر ایک غیر معمولی حل نکالا۔ انہوں نے پانی کی پلاسٹک بوتل کو کاٹ کر اس میں سوراخ بنایا، ایک جانب آکسیجن کی فراہمی کا انتظام کیا اور دوسری جانب بالغ افراد کے انہیلر کو نصب کردیا۔ اس طرح بوتل ایک عارضی نیبولائزر جیسے آلے میں تبدیل ہوگئی، جس کے ذریعے آکسیجن اور دمے کی دوا بچے تک پہنچائی جاسکتی تھی۔
مزید پڑھیں:پاکستانی کوہ پیما سر باز خان نے مصنوعی آکسیجن کے بغیر ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرلی
اس فوری طبی اقدام کے بعد بچے کی آکسیجن کی سطح 87 فیصد سے بڑھ کر قریباً 95 فیصد ہوگئی۔ یوں ایک ڈاکٹر کی حاضر دماغی اور بروقت کوشش نے دورانِ پرواز ایک کم سن بچے کو طبی امداد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر خورشید گرو نے اس واقعے کو والدین کے لیے ایک یاد دہانی قرار دیا کہ دمے کے مریض بچوں کی ضروری ادویات ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور انہیں چیک اِن سامان میں رکھنے سے گریز کریں۔










