گھر کی چار دیواری میں خواتین پر تشدد نجی معاملہ نہیں، سپریم کورٹ

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد اور اسے آگ لگانے کے الزام کا سامنا کرنے والے انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے باورچی جواد عباسی کی اپیل خارج کرتے ہوئے ان کی جبری ریٹائرمنٹ کا محکمانہ فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

جسٹس شاہد وحید کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ کسی فوجداری مقدمے میں ملزم کی بریت محکمانہ کارروائی سے بریت کے لیے کافی نہیں ہوتی۔

’سرکاری ملازم کا کردار صرف دفتری فرائض تک محدود نہیں بلکہ اس کی نجی زندگی بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آسکتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں، اہم فیصلہ جاری

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ گھر کی چار دیواری میں خواتین پر تشدد کو نجی معاملہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

’خواتین کی عزت و وقار کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے، جبکہ ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کی حیثیت سے ہر رشتہ احترام کا مستحق ہے۔‘

فیصلے کے مطابق خواتین پر تشدد میں ملوث سرکاری ملازم نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے عمل سے متعلقہ ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا ریپ کیس میں صرف ڈی این اے رپورٹ پر ملزم کا جرم ثابت ہوسکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے وکلا سے معاونت طلب کرلی

’دفتر سے باہر سرزد ہونے والا جرم بھی سرکاری ملازمت پر اثرانداز ہوسکتا ہے، کیونکہ سرکاری ملازم سے نجی زندگی میں بھی ذمہ دارانہ کردار کی توقع کی جاتی ہے۔‘

عدالتی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ جواد عباسی نے 2022 میں اپنی بیوی پر تشدد کرتے ہوئے اسے آگ لگائی اور اسے جان سے مارنے کی کوشش کی۔

اس واقعے سے متعلق محکمانہ انکوائری کے دوران 13 گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سپریم کورٹ برہم، ملزم کی عدم گرفتاری پر سخت ریمارکس

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خواتین کے خلاف تشدد جیسے واقعات کو محض گھریلو یا نجی معاملہ سمجھنا درست نہیں۔

عدالت نے آئی بی ملازم کی محکمانہ سزا برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp