چیک باؤنس کیس میں ملزم کی عدم گرفتاری پر سپریم کورٹ کی جانب سے سخت ریمارکس پر ملزم کے وکیل نے درخواست ضمانت واپس لے لی۔
پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ کے سخت طنزیہ ریمارکس کے بعد ملزم نے درخواست ضمانت واپس لینگ کا فیصلہ کیا۔
سپریم کورٹ میں چیک باؤنس کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے پنجاب پولیس کی جانب سے ملزم کو گرفتار نہ کیے جانے پر اظہارِ برہمی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی ڈگری کیس: سپریم کورٹ نے جمشید دستی کی ضمانت میں 4 نومبر تک توسیع کردی
سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے پنجاب پولیس کے اہلکار سے استفسار کیا کہ جب ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ ملزم کی ضمانت مسترد کر چکی ہیں تو اسے اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ملزم ضمانت کے بغیر سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔
جسٹس ملک شہزاد نے پنجاب پولیس کی کارکردگی پر طنزیہ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کارکردگی پر تو آئی جی بنانے کی سفارش کرنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: ٹیلی کام ٹیکس کیس میں 27ویں آئینی ترمیم پر عدالت اور وکیل کے درمیان جملوں کا دلچسپ تبادلہ
اس موقع پر جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ پنجاب پولیس میں یہ معمول بن چکا ہے کہ ملزمان کی ضمانتیں خارج ہونے کے باوجود انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قتل جیسے مقدمات میں بھی ضمانت مسترد ہونے کے باوجود پنجاب پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرتی۔
سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ آیا وہ خود درخواست واپس لیں گے یا عدالت میرٹ پر اسے خارج کرے۔
جس پر ملزم کے وکیل نے درخواست ضمانت واپس لے لی، بعدازاں ملزم کے پولیس کے سامنے سرینڈر کرنے پر عدالت نے درخواست ضمانت نمٹا دی۔










