امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی عرصے میں سیاسی اور خارجہ محاذ پر غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، تاہم منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو ٹرمپ کے اقتدار کے آخری 2 سال مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ کے لیے قانون سازی میں رکاوٹیں، تحقیقات اور ممکنہ مواخذے جیسے چیلنجز پیدا کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں وسط مدتی انتخابات آج ، ٹرمپ کی کانگریس پر گرفت کمزور ہونے کا امکان
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر کمزور صدر بننے کے بجائے ٹرمپ مزید جارحانہ اور انتقامی رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیا اینڈ پبلک افیئرز کے ڈائریکٹر پیٹر لوگے نے کہا کہ ٹرمپ خاموشی سے شکست تسلیم کرنے والے نہیں۔
"I guess I'll become Mr. Veto."
Trump all but concedes the GOP midterm loss, stating his strategy for dealing with a potential Democratic-controlled Congress would be to veto any Democratic backed legislation. pic.twitter.com/jqVnPklmyu
— ThePatrioticBlonde™🇺🇸 (@ImBreckWorsham) November 1, 2026
’ماضی میں جب بھی انہیں سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے زیادہ شدت سے ردعمل دیا اور مقابلہ جاری رکھا۔‘
ٹرمپ پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں میں کامیاب ہوئے تو وہ ان کے قانون سازی کے ایجنڈے کو ویٹو کردیں گے۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے ٹائم میگزین کو انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹس ان کے خلاف تحقیقات کریں گے تو وہ بھی ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔
خدشہ ہے کہ وہ محکمہ انصاف کے ذریعے اپنے مخالفین کے خلاف تحقیقات کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔
ایران اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز
تجزیہ کاروں کے مطابق خارجہ پالیسی وہ شعبہ ہے جہاں کانگریس میں اکثریت کھونے کے باوجود امریکی صدر کے اختیارات نسبتاً زیادہ برقرار رہتے ہیں۔
ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا فیصلہ کرسکتے ہیں، تاہم انہوں نے انتخابات سے قبل نئے مذاکرات کے ذریعے معاہدے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ریان ہاس کے مطابق ٹرمپ نہیں چاہتے کہ ان کی سیاسی میراث ایک جنگ پسند صدر کے طور پر قائم ہو۔

’وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایسا رہنما سمجھا جائے جس نے امریکا کو مضبوط بنایا۔‘
دوسری جانب ٹرمپ یوکرین جنگ ختم کرانے کے لیے روس اور یوکرین پر معاہدے کے لیے دباؤ جاری رکھ سکتے ہیں۔
چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ممکنہ ملاقات بھی رواں ماہ متوقع ہے۔ امریکا کی جانب سے نیٹو اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ دفاعی وابستگیوں میں مزید کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔
2028 کے انتخابات اور سیاسی میراث
ٹرمپ کے آئندہ منصوبوں میں 2028 کے صدارتی انتخابات بھی اہم ہوں گے، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ممکنہ جانشینوں میں شامل ہیں، تاہم ٹرمپ نے اب تک کسی کی کھل کر حمایت نہیں کی۔
امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن لِچٹ مین کے مطابق ٹرمپ سیاسی جانشین کے انتخاب میں کنگ میکر کا کردار ادا کرکے اپنی اہمیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل جعلی سروے بے نقاب، انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے
ادھر ٹرمپ واشنگٹن میں اپنی شناخت چھوڑنے کے لیے تعمیراتی اور تزئین و آرائش کے منصوبوں پر بھی توجہ دے رہے ہیں، انتخابی مہم کے اختتامی خطاب میں انہوں نے لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول کی تزئین و آرائش سمیت شہر کو خوبصورت بنانے کے منصوبوں کا ذکر کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی ممکنہ انتخابی شکست ٹرمپ کے لیے صدارت کے آخری 2 برس سیاسی مزاحمت، خارجہ پالیسی اور اپنی سیاسی میراث کے تحفظ کا بڑا امتحان بنا سکتی ہے۔










