امریکا میں وسط مدتی انتخابات آج ، ٹرمپ کی کانگریس پر گرفت کمزور ہونے کا امکان

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی عوام آج وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کی کارکردگی پر فیصلہ سنائیں گے، ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں کامیابی اور سینیٹ میں بھی برتری حاصل کرنے کی امید ہے۔

امریکا میں آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کے لیے اہم امتحان بن گئے ہیں۔ انتخابات میں ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان کی اکثریت کھو دیتی ہے تو ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے میں رکاوٹیں ڈالنے اور ان کی انتظامیہ کے خلاف وسیع تحقیقات شروع کرنے کا موقع مل جائے گا، جبکہ سینیٹ میں شکست کی صورت میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرریوں پر بھی صدر کی گرفت کمزور ہوسکتی ہے۔

انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں اور 36 ریاستوں کی گورنر شپ کے لیے مقابلہ ہورہا ہے۔ ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے صرف 3 اضافی نشستیں درکار ہیں، جبکہ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے انہیں خالصتاً 4 نشستوں کا فائدہ اٹھانا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ مقبولیت کی سب سے نچلی سطح پر جاگرے، وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو بڑا دھچکا

ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عوامی بے چینی کی بڑی وجوہات میں مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات، محصولات کی پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ مختلف جائزوں کے مطابق صدر کی مقبولیت بھی 30 فیصد کے ابتدائی ہندسے کے آس پاس رہی ہے۔

ریپبلکن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کی ٹیکسوں میں کمی اور غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف سخت پالیسیوں سے امریکی عوام کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ وہ ڈیموکریٹک امیدواروں کو بائیں بازو کے انتہا پسند قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس ان انتخابات کو ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔ سینیٹ میں ریپبلکنز کو اس وقت 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے، تاہم ٹیکساس، کنساس، آئیووا، اوہائیو اور الاسکا جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی سخت مقابلے کی توقع ہے۔ مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدواروں کے درمیان اختلافات نے بھی پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت مزید  کم، ڈیموکریٹس کی حمایت دوگنا ہوگئی

انتخابی مہم پر 11 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد امریکی پہلے ہی قبل از وقت ووٹ ڈال چکے ہیں۔ انتخابات کے نتائج تسلیم کیے جانے کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں، کیونکہ ٹرمپ ماضی میں 2020ء کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کرچکے ہیں اور انتخابی دھاندلی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو وہ ان کے پیش کردہ تمام بلوں کو ویٹو کرسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا