پشاور میں تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا آپریشن جاری ہے، جس کے پیش نظر اندرون شہر اور کینٹ کے مختلف علاقوں میں دکانداروں اور شہریوں کو 3 روزہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے دی گئی مہلت کے بعد دکانداروں نے ممکنہ کارروائی اور مالی نقصان سے بچنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت تجاوزات ہٹانا شروع کر دی ہیں۔
مزید پڑھیں:پشاور میں ایک لاکھ سے زیادہ رکشے، صرف 23 ہزار رجسٹرڈ، دیگر کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پشاور کو تجاوزات سے پاک کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اندرون شہر سمیت مختلف علاقوں میں تجاوزات کی بھرمار ہے، جن کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ شہر کی سرکاری زمین کا ایک ایک انچ واگزار کرایا جائے گا، جبکہ پشاور کو دوبارہ خوبصورت اور پھولوں کا شہر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب انتظامیہ کے نوٹسز کے بعد اندرون شہر کے دکانداروں نے رضاکارانہ طور پر اپنی دکانوں کے باہر قائم تجاوزات ہٹانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے پہلے نوٹسز جاری کیے اور زبانی طور پر بھی نشاندہی کی کہ کون سی جگہ تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے، جس کے بعد انہوں نے خود تجاوزات ختم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ سرکاری آپریشن کے دوران بھاری مالی نقصان سے بچ سکیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دکانداروں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کارروائی سے پہلے نوٹس دے کر تجاوزات ختم کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں ان کی غلطی ہے، وہاں سے تجاوزات خود ہٹانے کے لیے تیار ہیں، تاہم انتظامیہ کو چاہیے کہ شہر کے تمام علاقوں میں یکساں پالیسی اپنائی جائے اور ہر تاجر کو پہلے نوٹس دے کر اپنا مؤقف پیش کرنے اور تجاوزات ختم کرنے کا موقع دیا جائے۔
مزید پڑھیں:خدشات سے صارفین کے اعتماد تک، پشاور کی نایاب کا منفرد سفر
دکانداروں کے مطابق اگر حکومت سرکاری زمین واگزار کرانا چاہتی ہے تو تاجر برادری اس سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہے، کیونکہ وہ بھی اسی شہر اور مٹی کا حصہ ہیں۔ تاہم زور زبردستی کے بجائے باہمی تعاون اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جائیں تاکہ تاجروں کو غیر ضروری نقصان نہ اٹھانا پڑے اور عوام میں نفرت پیدا ہونے کے بجائے انتظامیہ پر اعتماد بڑھے۔
تاجر برادری کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ اگر تعاون کا راستہ اختیار کریں گی تو تاجر بھی تجاوزات کے خاتمے اور شہر کی بہتری کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔









