اسرائیل: نیتن یاہو کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے قریب، اپوزیشن اور عرب جماعتوں نے گیڈی آئزن کوٹ کی حمایت کردی

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں نے بدھ اور جمعرات کو صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ ہونے والی مشاورت کے دوران ‘یاشار’ پارٹی کے سربراہ گیڈی آئزن کوٹ کو اگلی حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپنے کی سفارش کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے ‘کان’ (KAN) کے مطابق، یائر گولان کی قیادت میں ‘دی ڈیموکریٹس’ نے پیر کے روز اپنے بیان میں آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس سے قبل سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی پارٹی ‘ٹوگیدر’ اور ایویگڈور لیبرمین کی ‘یسرائیل بیتینو’ بھی اسی قسم کا اعلان کر چکی ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، یوسف جبارین کی قیادت میں 3 جماعتوں پر مشتمل عرب اتحاد ‘جوائنٹ لسٹ’ اور منصور عباس کی ‘یونائیٹڈ عرب لسٹ’ کی جانب سے بھی آئزن کوٹ کی نامزدگی کی توثیق کا قوی امکان ہے۔ اگر تمام اپوزیشن اور عرب جماعتیں آئزن کوٹ کی حمایت کرتی ہیں، تو انہیں 120 رکنی پارلیمنٹ میں 67 ارکان کی تائید حاصل ہو جائے گی، جبکہ نیتن یاہو کے بلاک کو صرف 53 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

نیتن یاہو اقتدار کی خاطر سیکیورٹی بحران پیدا کر سکتے ہیں

اسی اثنا میں اپوزیشن رہنما یائر گولان نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی شدید اور فوری خطرے میں ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ انتخابات میں شکست کے باوجود طاقت کے بل بوتے پر اقتدار سے چپکے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ویڈیو پیغام میں گولان نے کہا کہ نیتن یاہو جمہوری عمل کو روکنے اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ’من گھڑت سیکیورٹی بحران پیدا کرنے‘ اور شہریوں و فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے نیتن یاہو پر حماس کے خلاف ناكام کارروائی، یرغمالیوں کی رہائی میں دانستہ رکاوٹیں ڈالنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بدنظمی پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے۔

یہ بھی پڑھیے اسرائیلی انتخابات میں قطر پر مداخلت کے الزامات، دوحہ نے ’گمراہ کن مہم‘ قرار دے دیا

گولان نے متنبہ کیا کہ نیتن یاہو اقتدار کی منتقلی کو روکنے کے لیے ملک کو سیکیورٹی کشیدگی کی طرف دھکیلنے اور ہنگامی حالت (اسٹیٹ آف ایمرجنسی) نافذ کرنے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے، جو کہ عوام کے مینڈیٹ کی کھلی توہین ہوگی۔

ایویگڈور لیبرمین کا موقف

اس سے قبل ‘یسرائیل بیتینو’ کے سربراہ ایویگڈور لیبرمین نے کہا کہ وہ آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی سفارش کریں گے، جبکہ انہوں نے نیتن یاہو کا ساتھ دینے یا کسی اقلیتی حکومت کی حمایت کرنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیبرمین نے کہا کہ ان کی پارٹی آئزن کوٹ کو وزیراعظم اور یائر لاپڈ کو اسپیکر کنیسیٹ بنانے کی حمایت کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا ’میں نیتن یاہو کی حکومت میں ہرگز شامل نہیں ہوں گا۔‘

یہ بھی پڑھیے اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کی برتری کام نہ آسکی، حکومت سازی کا معاملہ الجھ گیا

انہوں نے اقلیتی حکومت کی تشکیل کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حکومت ایک سال کے اندر گر سکتی ہے، جس سے نیتن یاہو کی واپسی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

لیبرمین نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ انتخابات میں اپوزیشن کی کارکردگی توقعات سے کافی  زیادہ خراب رہی۔ انہوں نے کہا ’اپوزیشن کو انتخابات میں بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ صرف 48 نشستیں حاصل کرنا ہماری توقعات سے بہت کم تھا۔‘ اور اس کی ذمہ داری انہوں نے آئزن کوٹ اور ان کی ٹیم پر ڈالی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 10 نومبر کو جب نئی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوگا تو اپوزیشن ارکان، نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے موجودہ اسپیکر امیر اوہانا کو ہٹانے کے لیے یائر لاپڈ کا انتخاب کریں گے، کیونکہ اوہانا نے پارلیمانی قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

پارلیمنٹ میں کسی بلاک کو واضح اکثریت حاصل نہیں

گزشتہ منگل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے، جہاں نہ تو نیتن یاہو کے بلاک کو اور نہ ہی اپوزیشن کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ 61 نشستوں کی اکثریت حاصل ہو سکی ہے۔

نیتن یاہو کے اتحاد نے مجموعی طور پر 53 نشستیں حاصل کی ہیں (جس میں لیکوڈ کو 27، یونائیٹڈ توراہ جوڈائزم کو 7، اوتزما یہودت کو 7، شاس کو 6 اور ریلیجئس صیہونزم کو 6 نشستیں ملیں)۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے 48 نشستیں حاصل کیں (جس میں آئزن کوٹ کی یاشار کو 21، ٹوگیدر کو 12، دی ڈیموکریٹس کو 8 اور یسرائیل بیتینو کو 7 نشستیں ملیں)۔

عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں، جن میں جوائنٹ لسٹ کو 11 اور یونائیٹڈ عرب لسٹ (راعم) کو 8 نشستیں حاصل ہوئیں۔

ان نتائج کا مطلب یہ ہے کہ نیتن یاہو کے بلاک کو اکثریت کے لیے مزید 8 نشستوں کی ضرورت ہے، جبکہ اپوزیشن کو 61 کے جادوئی ہندسے تک پہنچنے کے لیے مزید 13 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ اگرچہ اپوزیشن اور عرب جماعتوں کی مجموعی نشستیں 67 بنتی ہیں، تاہم ان کے درمیان تاحال باقاعدہ اتحادی حکومت بنانے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

اسرائیل میں وزیراعظم کے انتخاب کا طریقہ کار

اسرائیل کے پارلیمانی نظام کے تحت عوام براہِ راست وزیراعظم کا انتخاب کرنے کے بجائے پارلیمنٹ (کنیسیٹ) کے ارکان کو منتخب کرتے ہیں۔

انتخابات کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ منتخب جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کرتے ہیں اور اس کے بعد کسی ایسے رکن کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دیتے ہیں جو پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ صدر کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ کو ہی دعوت دیں۔

نامزد کیے گئے رکن کو حکومت بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 28 دن کا وقت دیا جاتا ہے، جس میں 14 دن کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ اگر وہ ناکام رہے تو صدر یہی ذمے داری کسی دوسرے رکن کو 28 دن کے لیے سونپ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے نتن یاہو کا عرب جماعتوں پر دھاندلی کا الزام مسترد، اسرائیلی پولیس نے ثبوت نہ ہونے کی تصدیق کر دی

اگر تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو دوبارہ انتخابات کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ صدر ہرزوگ بدھ سے منتخب جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں۔

اگر تمام 48 اپوزیشن اور 19 عرب ارکان آئزن کوٹ کی حمایت کرتے ہیں تو انہیں 67 سفارشات مل جائیں گی، جو نیتن یاہو کی پوزیشن کو شدید کمزور کر دے گی۔ تاہم صرف نامزدگی ملنے سے آئزن کوٹ کا وزیراعظم بننا یقینی نہیں ہوگا، کیونکہ اپوزیشن کو ایک مستحکم حکومت کی تشکیل کے لیے نیتن یاہو کے کیمپ سے ارکان کو توڑنا پڑے گا یا پھر باہمی اختلافات ختم کر کے تحریری معاہدہ کرنا پڑے گا۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخابات یا قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے راستے کھل سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا