اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کی برتری کام نہ آسکی، حکومت سازی کا معاملہ الجھ گیا

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے عام انتخابات کے جزوی نتائج کے مطابق وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد آگے ہے، تاہم حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کی 18 نشستیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق 85 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 جبکہ ان کے حریف گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ عرب جماعتیں 19 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں، جس سے حکومت سازی میں ان کا کردار اہم ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی انتخابات: نتن یاہو اور آئزن کوٹ کے اتحاد کا 51، 51 نشستوں پر ٹائی، عرب جماعتوں کی تاریخی پیشرفت

120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ باقی ماندہ ووٹوں کی گنتی کے بعد حتمی نتائج سامنے آئیں گے، جبکہ دونوں رہنماؤں نے حکومت بنانے کے لیے اتحادیوں سے مذاکرات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا