ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پشاور میں بھی گیس مہنگی ہوگئی، جہاں شہریوں کے مطابق مختلف دکاندار ایل پی جی 450 روپے فی کلو کے بجائے 650 روپے تک فروخت کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آنے لگی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حالات معمول پر آنے لگے تھے کہ عوام کو مہنگائی کے ایک اور بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایک طرف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو بجٹ متاثر کر رکھا ہے، تو دوسری جانب ایل پی جی کے نرخ بڑھنے سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
شہریوں کے مطابق گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلو صارفین پہلے ہی پریشان ہیں، جبکہ گیس کے بھاری بلوں نے بھی ان کی مشکلات بڑھا رکھی ہیں۔
ایسے میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہریوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایل پی جی کی فروخت اور سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد کی نگرانی بھی یقینی بنائی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ دکانداروں کی جانب سے مبینہ طور پر من مانے نرخ وصول کرنے کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جانا چاہیے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا جائے، مقررہ نرخوں پر فروخت یقینی بنائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو اضافی مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔










