کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات طے ہونے جا رہے ہیں؟

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ان کے وکیل سلمان صفدر کی ملاقات اور بہن نورین نیازی کی اہل خانہ سے ملاقاتوں کے حوالے سے سامنے آنے والی پیشرفت کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات طے ہونے جا رہے ہیں؟ کیا دونوں فریقوں کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات کا کوئی سلسلہ جاری ہے، یا حالیہ پیشرفت محض معمول کی قانونی اور انتظامی کارروائیوں کا حصہ ہے؟

عمران خان سے ان کے وکیل سلمان صفدر کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کو موجودہ سیاسی صورت حال میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ آیا جیل میں ملاقاتوں کے حوالے سے پالیسی میں کوئی نرمی آ رہی ہے اور کیا پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: سنا ہے بانی پی ٹی آئی کرپشن سے بچنے کے لیے ڈیل کرنا چاہتے ہیں، عطااللہ تارڑ

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر عمران خان سے پارٹی کی سینیئر قیادت کی ملاقات ممکن ہوتی ہے تو اس سے سیاسی رابطوں کی بحالی اور مذاکرات کے امکانات کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، ملاقات کی اجازت کو بذاتِ خود کسی سیاسی معاہدے یا بیک ڈور مذاکرات کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ملاقاتوں پر پابندی کیوں لگائی گئی؟ رانا ثنااللہ کا مؤقف

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے مطابق عمران خان سے جیل میں ہونے والی ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور ان ملاقاتوں کے بعد ایسی باتیں پھیلائی جاتی تھیں جن سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا تھا۔ اور اسی وجہ سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ بیرسٹر سیف کی ماضی میں ہونے والی ملاقاتوں میں ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا تھا، اس لیے ان کی دوبارہ ملاقات کا امکان بھی موجود ہے۔

مشیر وزیراعظم نے عمران خان کو ممکنہ ریلیف ملنے کے حوالے سے سامنے آنے والی قیاس آرائیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال اس نوعیت کی اطلاعات کو حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے، اگر عمران خان اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے پیچھے ہٹتے ہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے لیے ریلیف کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر وہ اپنے موجودہ مؤقف پر قائم رہتے ہیں تو کسی قسم کے ریلیف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ آئندہ چند روز میں پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت کی عمران خان سے ملاقات ہو سکتی ہے، اگر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوتی ہے اور اس دوران عمران خان سے ملاقات کرانے کی بات سامنے آتی ہے تو جیل میں سیاسی قیادت اور پی ٹی آئی کے بانی کے درمیان ملاقات ممکن ہو سکتی ہے۔

سلمان صفدر کی ملاقات کیا کسی بڑی پیش رفت کا اشارہ ہے؟

سینیئر تجزیہ کار منصور علی خان نے عمران خان سے سلمان صفدر کی ملاقات کو موجودہ سیاسی تناظر میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر کی جانب سے ملاقات کے دورانیے کو ناکافی قرار دینا اس امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مزید ملاقات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، اگر ایک اور ملاقات ہوتی ہے تو اس کے ذریعے عمران خان اور ان کے وکیل کے درمیان رہ جانے والی بات چیت مکمل ہو سکتی ہے۔

منصور علی خان نے کہا کہ اگر ملاقات کسی عدالتی حکم کے نتیجے میں نہیں ہوئی تو پھر اس کے ممکن بنانے میں یقینی طور پر بیک ڈور مذاکرات کا کردار ہے۔

منصور علی خان کے مطابق ملاقات کے دوران عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی منفی بات سامنے نہ آنا بھی قابلِ توجہ پہلو ہے۔ ان کے خیال میں اس ملاقات میں سیاسی صورت حال، آئندہ کے لائحہ عمل اور عمران خان کے مستقبل کے سیاسی فیصلوں پر گفتگو ہوئی ہوگی۔

خیبرپختونخوا کی صورت حال اور پی ٹی آئی کا آئندہ لائحہ عمل

منصور علی خان نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو درپیش صورتحال کے باوجود پارٹی کی جانب سے کسی بڑے احتجاجی ردعمل کا سامنے نہ آنا سیاسی اعتبار سے قابل غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ حالات میں پی ٹی آئی کی قیادت نے نسبتاً محتاط رویہ اختیار کیا ہے، جسے ممکنہ سیاسی رابطوں اور مستقبل کی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم پارٹی کے احتجاج سے متعلق رویے یا سیاسی حکمت عملی کو کسی ممکنہ معاہدے سے منسوب کرنے کے لیے مزید شواہد کی ضرورت ہوگی۔

بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کا ممکنہ کردار

منصور علی خان نے کہا کہ عمران خان سے سلمان صفدر کی ملاقات ممکن بنانے یا اس حوالے سے رابطوں میں بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کا اہم کردار ہے، اگر پی ٹی آئی کی قیادت اور حکومتی حلقوں کے درمیان رابطے بڑھتے ہیں تو ان شخصیات کی سرگرمیوں پر بھی توجہ مرکوز رہے گی۔

منیب فاروق نے ڈیل اور ریلیف کی خبروں کو قبل از وقت قرار دے دیا

سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق نے عمران خان سے سلمان صفدر کی ملاقات کے بعد سامنے آنے والی قیاس آرائیوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملاقات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ عمران خان کو ریلیف ملنے والا ہے یا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی ڈیل ہونے جا رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو کسی قسم کا ریلیف ملنے یا پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدے کی خبریں فی الحال حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور ایسی باتیں کرنا قبل از وقت ہے۔

منیب فاروق نے کہا کہ سلمان صفدر کی ملاقات کا بنیادی مقصد پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل اٹھائے جانے والے اس اعتراض کو دور کرنا تھا کہ عمران خان سے ملاقاتیں نہیں کرائی جا رہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں، یہ ملاقات محض ملاقاتوں کی عدم دستیابی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے تحفظات دور کرنے کے لیے کرائی گئی اور اسے کسی بڑی سیاسی پیش رفت یا ڈیل کی علامت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

منیب فاروق نے کہا کہ اس وقت نہ تو عمران خان کو کسی قسم کا ریلیف دینے کا معاملہ زیرِ غور ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی ڈیل پر بات چیت ہو رہی ہے، اس حوالے سے کسی عملی پیش رفت کے آثار بھی موجود نہیں، اس لیے اہم ہے کہ جہاں بعض حلقے عمران خان سے وکیل کی ملاقات کو ممکنہ سیاسی رابطوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، اس ملاقات کو سیاسی مفاہمت یا کسی خفیہ معاہدے سے جوڑنے کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہیں۔

بشریٰ بی بی کو ریلیف ملنے کا امکان، بنی گالہ منتقلی زیرِ بحث

منیب فاروق نے کہا کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا معاملہ الگ ہے، ان کے لیے ریلیف ملنے کا امکان موجود ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ چند روز میں انہیں اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کرنے کے معاملے پر پیش رفت ہو۔

’بشریٰ بی بی کو ریلیف دینے کے حوالے سے 27 ستمبر سے پہلے بھی بات چیت جاری تھی، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو احتجاج ختم نہ کیے جانے کے بعد یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا اور انہیں اس وقت ریلیف نہیں مل سکا۔‘

منیب فاروق نے کہا کہ اب بیرسٹر گوہر اور پی ٹی آئی کے بعض دیگر رہنماؤں کی کوششوں کے نتیجے میں بشریٰ بی بی کو ریلیف دینے کے معاملے پر دوبارہ بات ہو رہی ہے یا اس امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔

’بشریٰ بی بی کے معاملے میں ممکنہ پیش رفت کو عمران خان کے لیے ریلیف یا پی ٹی آئی کے ساتھ کسی سیاسی ڈیل سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے دونوں معاملات کو الگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے حوالے سے کسی ریلیف یا پی ٹی آئی کے ساتھ کسی معاہدے کی بات فی الحال زیرِ غور نہیں۔

کیا بیک ڈور مذاکرات شروع ہو چکے ہیں؟

موجودہ صورت حال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں؟ عمران خان سے وکیل کی ملاقات، اہل خانہ سے ملاقات کے حوالے سے پیش رفت، حکومتی شخصیات کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات اور سیاسی تجزیہ کاروں کے تبصرے اس بحث کو تقویت دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: فیصلہ کن احتجاج سے قبل پی ٹی آئی قیادت آمنے سامنے، اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی بھی خبریں

تاہم، ان تمام عوامل کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا چکا ہے یا بیک ڈور مذاکرات باقاعدہ طور پر شروع ہو گئے ہیں۔ فی الحال صورت حال کو ممکنہ رابطوں اور سیاسی کشیدگی میں کمی کے امکانات کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا