گوگل کا اسکولوں میں اے آئی اور سرچ سروسز بند کرنے کا فیصلہ

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اسکولوں میں طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت اور سرچ سروسز کے استعمال سے متعلق نئی پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اسکول انتظامیہ کی واضح اجازت کے بغیر طلبہ کے زیرِ انتظام اکاؤنٹس پر اے آئی اور گوگل سرچ کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گوگل کی نئی پالیسی کا اطلاق اسکولوں کے زیرِ انتظام جماعت اول سے بارہویں تک کے طلبہ کے اکاؤنٹس پر ہوگا۔ اس کے تحت جیمنائی، نوٹ بک ایل ایم اور گوگل سرچ کی سہولتیں ابتدائی طور پر بند رکھی جائیں گی، تاہم اسکول انتظامیہ چاہے تو انہیں فعال کرسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں گوگل کی جانب سے بنائے گئے اسکولز میں کیا سہولیات دی جا رہی ہیں؟

گوگل کی جانب سے یہ فیصلہ اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کے تعلیمی استعمال پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اسکولوں کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرنے کی اجازت دیں یا ان کی رسائی محدود رکھیں۔

رپورٹ کے مطابق نئی تبدیلیوں کا نفاذ 2027 کے اوائل میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جو اسکول طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی سہولتیں فعال نہیں کریں گے، وہاں گوگل سرچ بھی بند رہے گی۔

اس معاملے پر تعلیمی حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا طلبہ کو معلومات تلاش کرنے، مختلف ذرائع کا موازنہ کرنے اور تحقیق کی مہارتیں سیکھنے کے لیے روایتی سرچ کی سہولت برقرار رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو محدود رکھنے کا اختیار ملنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل کا پاکستان کے لیے بڑا اعلان، کتنے اسمارٹ اسکولز بنائے جائیں گے؟

رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایسی مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی ضرورت ہے جو طلبہ کی اپنی سوچ اور سوال کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے، نہ کہ ان کی تنقیدی سوچ کی جگہ مشینی جوابات لے لے۔ اس کے علاوہ طلبہ کے سیکھنے کے طریقوں سے متعلق معلومات اساتذہ کے لیے مفید ہوسکتی ہیں، تاہم اس عمل میں طلبہ کی نجی معلومات کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جھوٹے الزام لگانا عاجزی اور جواب دینا تکبر ہے؟ مریم نواز کا سالک حسین کے بیان پر جوابی وار

مریم نواز کی حسن ابدال میں ‘اپنی چھت اپنا گھر’ اسکیم سے مستفید خاندان کے ساتھ کھانا، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

امریکی وسط مدتی انتخابات: کانگریس پر کنٹرول کی جنگ، 5 اہم نکات جن پر سب کی نظریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی فوجی امداد بند کرنے کا اعلان کردیا

جیٹ لیگ صرف انسانوں کو نہیں ہوتا، سمندری پرندوں کا قدرتی کمپاس بھی بھٹک جاتا ہے، ان سے ’وقت کیسے چال‘ چلتا ہے؟

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا