امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول واپس لے لیا، سینیٹ میں بھی اکثریت کے قریب پہنچ گئے

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے اہم کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول ری پبلکنز سے واپس لے لیا ہے، جب کہ سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکنز کی کم از کم 8 نشستیں چھین لی ہیں، جب کہ ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا، اوہائیو اور شمالی کیرولائنا میں سینیٹ کے اہم مقابلے جیت کر ری پبلکنز کی اکثریت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکنز کے کم از کم 8 حلقوں میں کامیابی حاصل کی، جن میں کینٹکی، نیو جرسی اور شمالی کیرولائنا کے حلقے بھی شامل ہیں۔ تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں اور ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ایوان میں سیاسی اکثریت تبدیل ہوگئی ہے۔

سینیٹ کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ شمالی کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر نے ری پبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دے کر نشست حاصل کی، جب کہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو نے ری پبلکن امیدوار اور اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو ہرا دیا۔

جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹک امیدوار اینی اینڈریوز نے ری پبلکن سینیٹر ڈارلین گراہم کو شکست دی، جب کہ اوہائیو میں سابق ڈیموکریٹک سینیٹر شیروڈ براؤن نے ری پبلکن امیدوار جون ہسٹڈ کو ہرا کر سینیٹ میں واپسی کی ہے۔ ٹیکساس اور اوہائیو دونوں ریاستوں میں 2024ء کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دوہرے ہندسے کی برتری حاصل کی تھی، اس لیے ڈیموکریٹس کی یہ کامیابیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس جارجیا میں سینیٹر جون اوسوف اور نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس کی کامیابی سے اپنی نشستیں بھی برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کامیابیوں کے بعد ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار چار نشستوں کا اضافہ بھی پورا کرلیا ہے، تاہم مشی گن اور مینیسوٹا میں اپنی موجودہ نشستیں برقرار رکھنا ضروری ہے۔

مہنگائی اور ٹرمپ مخالف رجحان انتخابی نتائج کی اہم وجوہات

انتخابی نتائج کے ساتھ سامنے آنے والے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافہ، ایران کے ساتھ جنگ اور صدر ٹرمپ کی حکومتی کارکردگی سے متعلق عوامی عدم اطمینان نے ڈیموکریٹس کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔

رائٹرز کے مطابق انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ایگزٹ پولز میں تقریباً نصف ووٹرز نے کہا کہ انہوں نے وسط مدتی انتخابات کو صدر ٹرمپ کے خلاف اپنے ردعمل کے اظہار کا موقع سمجھا، جب کہ تقریباً تین چوتھائی ووٹرز نے ملک کی موجودہ سمت پر غصے یا عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تقریباً 70 فیصد ووٹرز چاہتے ہیں کہ کانگریس صدر کے اختیارات پر زیادہ مؤثر نگرانی اور توازن قائم کرے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی ایرانی حکمت عملی کیوں؟

رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران ری پبلکن امیدواروں کی حمایت میں دو درجن سے زائد جلسے کیے اور اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ انہیں بھی انتخابی امیدوار تصور کرکے ووٹ دیں۔ تاہم نتائج سامنے آنے پر انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر وہ خود بھی انتخابی میدان میں ہوتے تو ری پبلکنز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے۔

مہنگائی اور معاشی مشکلات ووٹرز کی بڑی تشویش

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے ایگزٹ پول کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح تقریباً 38 فیصد رہی، جو ان کی موجودہ مدتِ صدارت میں وسط مدتی انتخابات کے موقع پر کم ترین سطح ہے۔ تقریباً 60 فیصد ووٹرز نے صدر کی حکومتی کارکردگی سے عدم اطمینان ظاہر کیا۔

سروے کے مطابق ووٹرز اپنے گھریلو اخراجات کے حوالے سے بھی پریشان ہیں۔ گیس، اشیائے خورونوش اور یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی میں مشکلات تمام سیاسی جماعتوں کے حامیوں میں نمایاں رہیں۔ دو مسلسل انتخابات میں اکثریتی ووٹرز نے کہا کہ مہنگائی نے ان کے خاندانوں کو مالی مشکلات سے دوچار کیا، جب کہ تقریباً ہر پانچ میں سے ایک ووٹر نے اسے شدید مشکل قرار دیا۔

سی بی ایس کے مطابق تقریباً 90 فیصد ووٹرز نے حکومتی بدعنوانی کو ووٹ دینے کے فیصلے میں اہم عنصر قرار دیا، جب کہ تقریباً 60 فیصد کا خیال تھا کہ صدر ٹرمپ ملک کے مفادات کے مقابلے میں اپنے ذاتی مفادات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

ایران کے ساتھ جنگ بھی انتخابی مہم کا اہم موضوع رہی۔ سروے میں اکثریتی ووٹرز نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے کو غلط قرار دیا، جب کہ جنگ کے باعث پٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے معاشی تشویش کو مزید بڑھایا۔

نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد ڈیموکریٹس کی حامی

ایسوسی ایٹڈ پریس کے تقریباً 80 ہزار ووٹرز پر مشتمل ملک گیر سروے میں نوجوانوں کے انتخابی رجحان میں بھی نمایاں تبدیلی سامنے آئی۔ 30 سال سے کم عمر ووٹرز میں تقریباً 70 فیصد نے ایوانِ نمائندگان کے لیے ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کی، جب کہ 30 فیصد نے ری پبلکن امیدواروں کو ووٹ دیا۔

یہ رجحان 2024ء کے صدارتی انتخابات سے مختلف تھا، جب نوجوان ووٹرز کی حمایت ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان تقریباً برابر تقسیم تھی۔ سروے کے مطابق نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنے ووٹ کو صدر ٹرمپ کی مخالفت کے اظہار کا ذریعہ بھی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:چین پر امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام، ٹرمپ نے خفیہ انٹیلیجنس دستاویزات جاری کر دیں

اے پی کے مطابق تقریباً 10 میں سے 4 ووٹرز نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کے لیے اپنا ووٹ ٹرمپ کی مخالفت کے اظہار کے طور پر دیا، جب کہ 10 میں سے 2 سے بھی کم ووٹرز نے کہا کہ ان کا مقصد صدر کی حمایت کرنا تھا۔ تقریباً 10 میں سے 4 ووٹرز نے کہا کہ ٹرمپ ان کے انتخابی فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوئے۔

سروے میں تقریباً 40 فیصد ووٹرز نے معیشت کو ملک کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا، جب کہ تقریباً 30 فیصد نے جمہوریت کی صورت حال کو بنیادی تشویش بتایا۔ مہنگائی اور حکومتی بدعنوانی دونوں کو تقریباً نصف ووٹرز نے کانگریس کے انتخاب میں انتہائی اہم قرار دیا۔

کانگریس کا کنٹرول تبدیل ہونے کے اثرات

ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس کو صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے فیصلوں کی تحقیقات، سرکاری عہدیداروں کو طلب کرنے اور حکومتی پالیسیوں کی نگرانی کے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔ اگر سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل ہوگئی تو وفاقی ججوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی تقرریوں سمیت اہم قانون سازی کے معاملات میں بھی ان کا کردار بڑھ جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی پیش قدمی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے باقی مدتِ صدارت میں قانون سازی اور حکومتی ترجیحات پر عمل درآمد کو مشکل بنا سکتی ہے۔ تاہم صدر کے پاس صدارتی ویٹو اور دیگر آئینی اختیارات بدستور موجود رہیں گے۔

یوں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات نے امریکی سیاست میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا ہے۔ انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹس کی کامیابیوں کے ساتھ مہنگائی، معاشی مشکلات اور صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے متعلق عوامی ناراضی بھی نمایاں ہوکر سامنے آئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp