امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی سلامتی سے متعلق خفیہ انٹیلی جنس دستاویزات عوام کے لیے جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں امریکی انتخابی نظام میں ’حیران کن کمزوریاں‘، ہیکنگ، غیر ملکی مداخلت اور ووٹر ڈیٹا کے ممکنہ استیصال سے متعلق اہم انکشافات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلومات برسوں تک عوام سے چھپائی جاتی رہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کے دوران انتخابی سلامتی سے متعلق متعدد خفیہ انٹیلی جنس دستاویزات ڈی کلاسیفائی کرنے کا اعلان کیا۔ خطاب کے دوران یہ دستاویزات وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر بھی جاری کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:کیا ٹرمپ کا نیا سکہ واقعی سونے کا بنا ہے؟
ٹرمپ نے کہا کہ ان دستاویزات میں امریکی انتخابی نظام میں ہیکنگ، بیرونی مداخلت اور دیگر سنگین کمزوریوں سے متعلق ایسے شواہد موجود ہیں جو اب تک عوام سے پوشیدہ رکھے گئے تھے۔ ان کے بقول یہ اہم معلومات کئی برسوں تک چھپائی جاتی رہیں، لیکن اب امریکی عوام کے سامنے حقیقت آ رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ دستاویزات وائٹ ہاؤس کی گورنمنٹ ٹرانسپیرنسی ٹاسک فورس، صدارتی انٹیلی جنس ایڈوائزری بورڈ اور اعلیٰ امریکی انٹیلیجنس اداروں نے تیار کیں، جبکہ متعلقہ اداروں کے سربراہان نے بھی ان کی صداقت کی تصدیق کی ہے۔
President Trump: I am announcing the immediate declassification and release of critical intelligence revealing shocking vulnerabilities in our election infrastructure. pic.twitter.com/kvDbnMISs7
— World Source News (@Worldsource24) July 17, 2026
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات چار اہم موضوعات پر مشتمل ہیں، جن میں الیکٹرانک ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے نظام میں ممکنہ کمزوریاں، امریکی ووٹرز کے ڈیٹا تک چین کی رسائی اور اس کے ممکنہ استعمال، ریاست مشی گن میں ووٹر رجسٹریشن سے متعلق تحقیقات، اور مختلف ریاستوں کی ووٹر فہرستوں میں غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کے دعوے شامل ہیں۔
ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ چین نے امریکی ووٹرز کے نام، پتے، ٹیلی فون نمبرز، سیاسی وابستگی اور دیگر ذاتی معلومات حاصل کرکے ان کے استعمال کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چین سے متعلق سی آئی اے اور نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی بعض رپورٹس انہیں صدارتی بریفنگ میں فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی کانگریس کو ان سے آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ تابوت میں، تہران میں نصب بل بورڈ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا
صدر ٹرمپ نے ان انکشافات کو امریکی انتخابات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کانگریس سے ایک بار پھر ’سیو امریکا ایکٹ‘ منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم ان کے 2020 کے انتخابات اور بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی سے متعلق دعوؤں کو ماضی میں ناقدین اور متعدد حکومتی ادارے مسترد کرتے رہے ہیں۔
قانونی ماہر ہانس فان سپاکوفسکی نے ان دستاویزات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ واقعی سی آئی اے، ایف بی آئی اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہیں تو ان کا منظر عام پر آنا قابلِ توجہ پیش رفت ہے، اور ان کا تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔












