صرف ایف آئی آر سرکاری ملازمت سے نااہلی کی بنیاد نہیں، وفاقی آئینی عدالت نے 6 اصول طے کردیے

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی امیدوار کو سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا، مقدمے سے بری ہونے والے امیدوار کے کردار اور اہلیت کا جائزہ مستند شواہد کی بنیاد پر لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں، اہم فیصلہ جاری

چیف جسٹس امین الدین خان نے سرکاری بھرتیوں میں امیدواروں کی سابقہ پولیس رپورٹس اور کردار کی جانچ پڑتال سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں عدالت نے بھرتیوں کے لیے پس منظر کی جانچ پڑتال کے 6 اہم اصول وضع کیے ہیں۔

تحریری فیصلے کے مطابق محض ایف آئی آر کا اندراج جرم کا ثبوت نہیں اور نہ ہی اس سے کسی شخص کے مجرم ہونے کا مفروضہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ عدالتی بریت کو تسلیم کرنا ہوگا اور امیدوار کے کردار سے متعلق کسی بھی منفی رائے کی بنیاد قیاس آرائی کے بجائے مستند اور قابلِ تصدیق شواہد ہونے چاہییں۔

عدالت نے قرار دیا کہ بریت کے بعد سابقہ مقدمے کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز میں ظاہر نہیں کیا جاسکتا، جبکہ زیرِ سماعت مقدمات کا ذکر صرف ان کی زیرِ سماعت حیثیت تک محدود ہونا چاہیے۔ کسی امیدوار کو معقول وجوہات اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر عمومی طور پر بھرتی سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری بھرتیوں کے فیصلے قانونی معیار، میرٹ اور انصاف و مساوات کی آئینی ضمانتوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ بریت کے بعد محض شبہے کی بنیاد پر انتظامیہ کسی امیدوار کے خلاف فیصلہ نہیں کرسکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے ڈرائیور کانسٹیبل کے عہدے پر بھرتی سے متعلق درخواست گزار عبداللطیف کو نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بریت کے باوجود بھرتی سے روکنا آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے منافی ہے۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے ڈرائیور کانسٹیبل کی میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی اور اسے 2018 میں ایک مقدمے سے بری کیا جاچکا تھا۔ بریت کے باوجود اور صاف پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ موجود ہونے کے باوجود محکمہ پولیس نے اسے بھرتی کرنے سے انکار کردیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ڈیرہ غازی خان پولیس کی جانب سے جاری کردہ کریکٹر سرٹیفکیٹ کو کسی ٹھوس وجہ کے بغیر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ محکمے کا یہ طرزِ عمل قانونی بدنیتی اور اختیارات کے غیر قانونی استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اسلامی تعلیمات بھی کسی شخص کے خلاف منفی اقدام کے لیے تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد فراہم کرتی ہیں، محض شبہے کی بنیاد پر کسی کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس ضمن میں سورۃ الحجرات، سورۃ النساء اور سورۃ المائدہ کی قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیا گیا۔

مزید پڑھیں:پرانے ملازمین قومی ایئرلائن کا سرمایہ ہیں، ادارہ انہیں دھتکار کر نہ رکھے، وفاقی آئینی عدالت کی اہم ہدایت

وفاقی آئینی عدالت نے درخواست گزار کی میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن کے مطابق امیدواری بحال کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو 30 دن کے اندر طبی معائنہ اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کرکے تعیناتی کا حکم جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

واضح رہے کہ درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے 22 مئی 2025 کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ محکمے کی جانب سے نمائندگی مسترد ہونے کے بعد اس نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں اس کی رٹ درخواست اور انٹرا کورٹ اپیل خارج کردی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp