امریکی وسط مدتی انتخابات ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی دھچکا، ڈیموکریٹس کی کامیابی سے امریکی خارجہ پالیسی پر دباؤ بڑھنے کا امکان

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ انتخابات کے نتائج کو ٹرمپ کی پالیسیوں پر عوامی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ کانگریس اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے کنٹرول سے آئندہ 2 برس کے دوران امریکی صدر کے لیے قانون سازی، بجٹ اور اہم پالیسی فیصلوں پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔ امریکا میں مقیم پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر اویس سلیم کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں امریکی عوام نے بنیادی طور پر معیشت، مہنگائی اور جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی دباؤ پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اویس سلیم نے کہا کہ عام طور پر امریکی وسط مدتی انتخابات میں مقامی امیدواروں کی کارکردگی اور ریاستی مسائل اہمیت رکھتے ہیں، تاہم اس مرتبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ریپبلکن پارٹی کا انتخابی چہرہ بن گئے تھے اور انتخابات ان کی معاشی، دفاعی اور خارجہ پالیسیوں پر ایک طرح کے ریفرنڈم کی صورت اختیار کر گئے۔ ان کے مطابق ٹرمپ اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی کو اپنی سیاسی مقبولیت سے جوڑ رہے تھے، لیکن انتخابی نتائج نے ان کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

مہنگائی اور ایران جنگ نے ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کو متاثر کیا

ڈاکٹر اویس سلیم نے کہا کہ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی، معاشی مشکلات اور ایران کے ساتھ جنگ شامل ہیں۔ امریکی عوام نے ٹرمپ سے توقع کی تھی کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد جنگوں کا خاتمہ کریں گے، معیشت کو مستحکم بنائیں گے اور ضروری اشیاء کی قیمتیں کم کریں گے، لیکن یہ وعدے پورے نہیں ہو سکے۔

ان کے مطابق جو بائیڈن کے دور میں بھی امریکی معیشت کو سست روی اور مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا تھا، جبکہ غزہ کی جنگ کے معاملے پر نوجوانوں میں بائیڈن انتظامیہ کے خلاف ناراضی پائی جاتی تھی۔ یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ سختی نے بھی نوجوان ووٹرز کو متاثر کیا اور بعض نے 2024 کے انتخابات میں اسی ناراضی کے باعث ٹرمپ کی حمایت کی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، ٹرمپ کا نتائج قبول کرنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا اعلان

ڈاکٹر اویس سلیم کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کی مختلف کمیونٹیز نے بھی ٹرمپ کی حمایت اس امید پر کی تھی کہ وہ معیشت بہتر کریں گے اور جنگوں سے امریکا کو باہر نکالیں گے، لیکن ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی معیشت پر مزید دباؤ ڈال دیا۔ ان کے بقول اس جنگ کے نتیجے میں گزشتہ 9-8 ماہ کے دوران امریکی شہریوں کو تقریباً 250 ارب ڈالر کے اضافی معاشی اخراجات برداشت کرنا پڑے، جبکہ امریکی حکومت کے براہ راست فوجی اخراجات 50 سے 60 ارب ڈالر کے قریب رہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے معاشی اثرات اور عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ نے ٹرمپ کے اپنے حامیوں میں بھی سوالات پیدا کیے کہ امریکا کو اس جنگ میں کیوں شامل ہونا پڑا۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی کو بلیو ویو نہیں، بلیو سونامی قرار دیا

اُنہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹس کی کامیابی توقعات سے بڑھ کر سامنے آئی اور بعض روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے کنساس اور ٹیکساس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کنساس میں 1932 کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک سینیٹر کی کامیابی اور ٹیکساس میں طویل عرصے بعد ڈیموکریٹک گورنر کا انتخاب غیر معمولی سیاسی پیشرفت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکساس میں تارکین وطن مخالف سیاسی ماحول کے باوجود ایک لاطینی امریکی خاتون کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اقلیتی اور تارکین وطن ووٹرز کے رجحانات نے بھی انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر اویس سلیم نے کہا کہ ٹرمپ کی سیاسی مشکلات کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ان کے اردگرد موجود افراد انہیں مسلسل ان کے فیصلوں کی حمایت کا یقین دلاتے رہے، جبکہ انتخابی نتائج نے عوامی ناراضی کی شدت واضح کر دی ہے۔

کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ کے فیصلوں پر قدغن لگا سکتی ہے

ڈاکٹراویس سلیم نے کہا کہ صدر ٹرمپ اگلے 2 برس تک وائٹ ہاؤس میں موجود رہیں گے، تاہم کانگریس اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ان کے لیے فیصلے کرنا مشکل بنا سکتی ہے۔ اہم نامزدگیوں، بجٹ اور معاشی اقدامات کے لیے انہیں ڈیموکریٹس کے ساتھ مفاہمت کرنا پڑ سکتی ہے۔

ان کے مطابق ڈیموکریٹس اس کامیابی کو 2028 کے صدارتی انتخابات کے تناظر میں بھی دیکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی جذبات کو اپنے حق میں استعمال کریں۔ بالخصوص جنگوں سے پیدا ہونے والی تھکاوٹ اور معاشی مشکلات کو وہ اپنے سیاسی بیانیے کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس اگر ایران جنگ کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کو مکمل طور پر تبدیل نہ بھی کر سکیں تو کانگریس اور سینیٹ کے ذریعے دباؤ ضرور ڈالیں گے۔

ایران پر بڑے حملے کی صورت میں ٹرمپ کو مزید سیاسی نقصان ہو سکتا ہے

امریکا میں مقیم پاکستانی صحافی نے کہا کہ امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف بڑے حملے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کی جانب سے بھی اس نوعیت کے اشارے دیے جاتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مشی گن سینیٹ ریس میں مسلمان امیدوار عبدالسید کا فتح کا دعویٰ

ان کے مطابق یہ امکان موجود ہے کہ داخلی سیاسی دباؤ سے توجہ ہٹانے کے لیے ٹرمپ کوئی بڑا خارجہ پالیسی اقدام کریں، تاہم ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی امریکی صدر اور ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی عوام پہلے ہی جنگ کے معاشی اثرات سے پریشان ہیں اور کسی نئی فوجی مہم جوئی سے یہ ناراضی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اور فنڈنگ پر سوالات بڑھ سکتے ہیں

ڈاکٹر اویس سلیم نے کہا کہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے اثر و رسوخ اور اسے دی جانے والی مالی امداد پر سوالات اٹھانے والے ڈیموکریٹک امیدواروں کی آواز مضبوط ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق جیمز ٹیلریکو اور عبدالسید جیسے امیدوار اسرائیل کے لیے امریکی فنڈنگ اور امریکی پالیسی سازی پر اس کے اثرات کے حوالے سے کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس اور سینیٹ میں اسرائیل کی مالی معاونت میں کمی یا اس کے لیے شرائط عائد کرنے کی کوششیں شروع ہوتی ہیں تو اس کے مشرق وسطیٰ کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر اویس سلیم کے مطابق ٹرمپ کے اردگرد اسرائیل کے حامی حلقوں کا اثر و رسوخ موجود ہے، اس لیے امریکی خارجہ پالیسی میں فوری اور بنیادی تبدیلی آسان نہیں ہوگی، تاہم ڈیموکریٹس کی مضبوط پارلیمانی پوزیشن اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی پر بحث اور دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے۔

بھارت کے ساتھ تعلقات میں بڑی تبدیلی کا امکان نہیں

پاکستان اور بھارت کے حوالے سے امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اویس سلیم نے کہا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات بنیادی طور پر دونوں ممالک کے معاشی اور تزویراتی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کے خلاف ٹیرف پالیسی اور بھارت سے تجارتی معاہدے کے مطالبات کے باوجود بھارت امریکی منڈی کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھارت کا دورہ بھی اس بات کا اظہار تھا کہ واشنگٹن نئی دہلی کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم ان کے خیال میں گزشتہ برسوں میں بھارت کو پاکستان پر جو غیر معمولی ترجیح حاصل رہی وہ اس دور میں ختم ہوئی اور امیگرینٹس کے خلاف پالیسیوں کا سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہی پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں:اوہائیو میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ وویک راماسوامی کو شکست، ڈیموکریٹ ایمی ایکٹن کامیاب

ڈاکٹر اویس سلیم نے کہا کہ بھارت کی یہ خواہش کہ امریکا اسے خطے میں ایسی حیثیت دے کہ وہ دوسرے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کر سکے، پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے مطابق جو بائیڈن کے دور میں بھی امریکا نے بھارت کے کردار کو محدود رکھنے کی کوشش کی تھی اور ٹرمپ کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ دیکھنے میں آیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی نتائج کے بعد بھارت کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے معاشی مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

افغانستان میں دہشتگردی کے معاملے پر پاکستان کی اہمیت برقرار رہے گی

ڈاکٹر اویس سلیم نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کو اہم قرار دیا جس میں انہوں نے افغانستان سے جنم لینے والے دہشتگردی کے خطرات کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات سے امریکی آگاہی کا اظہار کیا تھا۔

ان کے مطابق امریکی انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ میں یہ سوچ موجود ہے کہ افغانستان کو مکمل طور پر اس کے حال پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ امریکا ماضی میں افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور نائن الیون جیسے واقعات کے تجربے کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام اور دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان امریکا کا ایک اہم اور قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے۔ یہ تعاون صرف ریپبلکن انتظامیہ تک محدود نہیں بلکہ ڈیموکریٹک حکومتوں کے ساتھ بھی برقرار رہا ہے، اس لیے امریکی انتخابات کے نتائج سے پاکستان کی اس اہمیت میں بنیادی تبدیلی کا امکان نہیں۔

امریکی انتظامیہ کی توجہ خارجہ پالیسی کے بجائے داخلی مسائل پر مرکوز رہے گی

ڈاکٹر اویس سلیم نے کہا کہ ان انتخابات میں امریکی عوام کا بنیادی مسئلہ معیشت تھا اور یہی آنے والے دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہے گا۔ مہنگائی، ایندھن کی قیمتیں، روزگار اور ایران جنگ کے معاشی اثرات ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے حکومت کو اپنی توجہ داخلی معاملات پر مرکوز کرنا ہوگی۔

ان کے مطابق اگر ٹرمپ بیرونی جنگوں اور عالمی معاملات میں مداخلت جاری رکھتے ہیں تو اس سے امریکا کے اندرونی مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ 2 برس کے دوران امریکی انتظامیہ کی ترجیحات میں داخلی معیشت کو زیادہ اہمیت ملنے کا امکان ہے، جبکہ خارجہ پالیسی کے معاملات پر اسے کانگریس اور سینیٹ کی جانب سے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کامیابیوں کا کریڈٹ لینے پر ممدانی کا جے ڈی وینس کو طنزیہ جواب وائرل

ڈاکٹر اویس سلیم کا مجموعی تجزیہ یہ تھا کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی اور معاشی چیلنجز بڑھا دیے ہیں، تاہم پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات میں تسلسل برقرار رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا