امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 2026 کے انتخابی نتائج پر غیر معمولی تبصرہ کرتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ووٹرز کی کم ٹرن آؤٹ کے بجائے جنگ، مہنگائی اور اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی کو قرار دے دیا ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے بڑی تعداد میں شہری 2026 میں ڈیموکریٹس کے حق میں کھڑے ہوئے، کیونکہ وہ جنگ کے خاتمے اور امریکا کی ترجیحات میں تبدیلی چاہتے تھے۔
جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے تفصیلی بیان میں انکشاف کیا کہ ریپبلکن انتخابی ٹیم کے ڈیٹا تجزیہ کاروں نے انتخابات سے قبل ووٹرز کی تعداد اور ان کی سیاسی وابستگی کا جائزہ لیتے ہوئے پارٹی کے لیے مثبت امکانات ظاہر کیے تھے، تاہم اعداد و شمار کے پیچھے چھپی سیاسی ناراضی کو بروقت سمجھنے میں ناکامی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت سے گریز، جے ڈی وینس کا اہم بیان سامنے آگیا
ان کے مطابق انتخابی نتائج نے ثابت کیا کہ ریپبلکن ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز تک پہنچے، لیکن ان میں سے بہت سے افراد نے اپنی ہی جماعت کے امیدواروں کے بجائے ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔
One of the things the data analysts on our side obsessed over was “composition”—whether the electorate looked close enough to 2024 for Republicans to win. And despite polls that showed a Democrat blowout, the data kept on telling us the same story: in some states turnout was merely OK, in other states it was downright amazing, and in no state was it catastrophic. There was a genuine sense of optimism on our team: our people were showing up.
So, I asked the smartest data guy I know, does that mean we’re going to shock the world? “No,” he told me. “We might do better than the polls suggest. But the data is telling us that a lot of Trump/Vance 2024 voters are pissed and planning to vote for the other guys. Our voters are turning out, but they may not vote for us.”
Well, that looks prophetic now. Our voters did show up. In Florida, for example, the electorate was 9 points more Republican than Democrat, just a couple points worse than 2024. Undoubtedly there were places we could have done better on turnout. But the main problem is not turnout. The main problem is that many people who voted for Trump/Vance in 2024 voted for Democrats in 2026.
There will be a lot of infighting and arguing over what happened and why that is. One of the pollsters I really respect told me that our economic messaging wasn’t sharp enough down the stretch. I’m sure that’s true.
But the real reason we lost is obvious to almost everyone.
Another pollster—one of the smartest people I know in politics, told me yesterday we’d lose the generic ballot by 13 points. I felt negative going into Tuesday, but even I was shocked by this. In his polling, he saw that a lot of Trump 2024 voters were angry and planning to vote for Democrats. He asked those voters who had abandoned us what would cause them to come back on our team. The top four answers, accounting for nearly all of the responses were:
1) End the war
2) Focus on cost of living/inflation
3) Put America First
4) Change our relationship to IsraelOur voters showed up. And the above four reasons are why many of them voted for Democrats. This is according to a pollster who nailed the results. While many spent Monday attacking Rachel Campos Duffy for calling for a diplomatic resolution to the conflict, it turns out her political advice was sound. (She’s also a great person.)
In the next few months, there’s going to be a lot of gaslighting. Expect to hear any number of establishment politicians say the solution to our woes is amnesty. I’m open to the idea that we should change enforcement—by focusing more on businesses that hire illegal labor, for instance. But anyone pushing amnesty is lying to you.
The reason we lost is the war. The president himself said so last night.
If you’d like to argue it was worth it, that losing the Senate for the next 6 years was worth it, then do so. Argue it was a worthwhile cost to pay. Agree or disagree, that’s at least honest.
But everyone knows why we lost. And any honest conversation about where we go from here must start there.
I remain hopeful about our country. To the people who are pissed off and want to say, “I told you so”: you’re right, you did tell us so. Take that energy into electing Republicans who share your worldview. To the people who are just pissed at the results, you should be. Let’s take that anger and get back to the work of saving our country.
— JD Vance (@JDVance) November 4, 2026
وینس نے واضح کیا کہ شکست کی اصل وجہ ووٹرز کا گھروں میں بیٹھے رہنا نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی ناراضی تھی۔
انتخابی ٹیم کو ٹرن آؤٹ پر اطمینان، مگر ووٹرز کی ناراضی کا اندازہ درست نہ ہو سکا
جے ڈی وینس نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران ان کی ٹیم کے ڈیٹا تجزیہ کاروں کی توجہ کا ایک اہم مرکز ’کمپوزیشن‘ تھا، یعنی یہ جانچنا کہ ووٹ ڈالنے والے افراد کی سیاسی اور انتخابی ساخت 2024 کے صدارتی انتخابات سے کتنی مماثلت رکھتی ہے اور آیا یہ تناسب ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کے لیے کافی ہے یا نہیں۔
ان کے مطابق بعض انتخابی جائزوں اور سرویز میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی کی پیش گوئی کی جا رہی تھی، لیکن ان کی ٹیم کو ملنے والے اعداد و شمار مسلسل ایک مختلف تصویر پیش کر رہے تھے۔
کچھ ریاستوں میں ووٹرز کی شرکت معمول کے مطابق تھی، بعض ریاستوں میں ٹرن آؤٹ غیر معمولی طور پر شاندار رہا، جبکہ کسی بھی ریاست میں ووٹرز کی شرکت اس حد تک کم نہیں ہوئی تھی کہ اسے تباہ کن قرار دیا جا سکے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ان کی انتخابی ٹیم میں اس حوالے سے حقیقی امید پائی جاتی تھی کہ ریپبلکن ووٹرز بڑی تعداد میں باہر نکل رہے ہیں اور اپنی جماعت کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ایک انتہائی ذہین ڈیٹا ماہر سے براہ راست سوال کیا کہ کیا ان اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی انتخابات میں غیر متوقع کامیابی حاصل کرکے دنیا کو حیران کر دے گی؟
ڈیٹا ماہر نے جواب دیا کہ ایسا ہونا یقینی نہیں، البتہ پارٹی پولز میں ظاہر کیے گئے نتائج سے بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ اس نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے ریپبلکن ووٹرز کی بڑی تعداد ناراض ہے اور اب مخالف جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں:ایران کی جوہری افزودگی میں کمی جنگ کے خاتمے کی شرط ہے، جے ڈی وینس
اس ماہر کے مطابق اصل مسئلہ یہ تھا کہ پارٹی کے حامی ووٹ ڈالنے کے لیے تو آ رہے تھے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ریپبلکن امیدواروں ہی کے حق میں ووٹ دیں۔
وینس کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج نے ان خدشات کو درست ثابت کر دیا اور یہ پیشگوئی اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔
فلوریڈا میں ریپبلکن ووٹرز کی برتری کے باوجود شکست کا سامنا
جے ڈی وینس نے فلوریڈا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انتخابی میدان میں ووٹرز کی مجموعی ساخت ریپبلکن پارٹی کے حق میں تھی۔
ان کے مطابق فلوریڈا میں ووٹرز کا تناسب ڈیموکریٹس کے مقابلے میں 9 پوائنٹس زیادہ ریپبلکن تھا، جو 2024 کے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں محض چند پوائنٹس کم تھا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض علاقوں میں ریپبلکن پارٹی ووٹرز کو زیادہ مؤثر انداز میں متحرک کر سکتی تھی اور انتخابی مہم کے دوران ٹرن آؤٹ بہتر بنانے کی گنجائش موجود تھی، تاہم ان کے نزدیک شکست کی بنیادی وجہ یہ نہیں تھی۔
جے ڈی وینس کے بقول اصل مسئلہ یہ تھا کہ 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کو ووٹ دینے والے متعدد شہریوں نے 2026 میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ریپبلکن پارٹی کے اندر انتخابی شکست کی وجوہات پر شدید بحث، اختلافات اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع ہوگا، لیکن اس بحث میں بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
مہنگائی کا بیانیہ کمزور رہا، مگر اصل نقصان جنگ کی پالیسی نے پہنچایا
جے ڈی وینس نے اعتراف کیا کہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں معاشی مسائل اور عوام کو درپیش مہنگائی کے حوالے سے پارٹی کا پیغام زیادہ مؤثر اور واضح نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ایسے پولسٹر نے بھی اس بات کی نشاندہی کی جس کی سیاسی تجزیوں کے حوالے سے وہ بہت قدر کرتے ہیں۔
تاہم وینس کے مطابق انتخابی شکست کی اصل وجہ صرف معاشی پیغام کی کمزوری نہیں تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا مسئلہ موجود تھا، جسے وہ سیاسی حلقوں میں تقریباً ہر شخص کے لیے واضح سمجھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک دوسرے پولسٹر، جنہیں وہ سیاست کے ذہین ترین افراد میں شمار کرتے ہیں، نے انتخابات سے ایک روز قبل یعنی پیر کو انہیں آگاہ کیا تھا کہ ریپبلکن پارٹی ممکنہ طور پر ملک گیر سطح پر جنرل بیلٹ میں ڈیموکریٹس سے 13 پوائنٹس پیچھے رہے گی۔
جے ڈی وینس کے مطابق وہ خود بھی منگل کے انتخابات سے قبل پارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے زیادہ پُرامید نہیں تھے، لیکن نتائج سامنے آنے کے بعد انہیں بھی شدید حیرت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:کامیابیوں کا کریڈٹ لینے پر ممدانی کا جے ڈی وینس کو طنزیہ جواب وائرل
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ پولسٹر کے سروے میں واضح طور پر سامنے آیا تھا کہ 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے متعدد شہری ناراض ہیں اور ڈیموکریٹس کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ناراض ووٹرز کی واپسی کے لیے 4 بنیادی مطالبات سامنے آ گئے
جے ڈی وینس نے انکشاف کیا کہ مذکورہ پولسٹر نے ان ووٹرز سے براہ راست سوال کیا تھا کہ اگر وہ ریپبلکن پارٹی کو چھوڑ کر ڈیموکریٹس کی حمایت کر رہے ہیں تو کون سے اقدامات انہیں دوبارہ ریپبلکن جماعت کی طرف واپس لا سکتے ہیں؟
جے ڈی وینس کے مطابق اس سوال کے جواب میں 4 بنیادی مطالبات سامنے آئے، جنہوں نے ناراض ووٹرز کی ترجیحات اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق ان کے تحفظات کو واضح کر دیا۔
ان مطالبات میں تقریباً تمام جوابات کا احاطہ درج ذیل 4 نکات میں ہوتا تھا کہ ووٹرز کا سب سے اہم مطالبہ ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ امریکا جنگی تنازع سے نکلنے کے لیے اقدامات کرے۔
دوسرے نمبر پر شہریوں کا مطالبہ تھا کہ حکومت اپنی توجہ مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے حل پر مرکوز کرے۔
تیسرے نمبر پر ووٹرز چاہتے تھے کہ حکومت امریکی مفادات کو اولین ترجیح دے اور خارجہ پالیسی سمیت تمام اہم فیصلوں میں امریکا کے قومی مفادات کو مقدم رکھا جائے۔
چوتھے نمبر پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ تھا، ووٹرز نے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات اور اس حوالے سے اختیار کی جانے والی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ مذکورہ پولسٹر نے انتخابی نتائج کی درست پیش گوئی کی تھی اور اس کے سروے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ ریپبلکن پارٹی کے سابق حامیوں کی ناراضی محض وقتی یا معمولی نہیں تھی، بلکہ اس کی بنیاد حکومت کی جنگی، معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر تھی۔
ان کے مطابق یہی 4 مطالبات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ریپبلکن ووٹرز نے بڑی تعداد میں پولنگ میں حصہ لینے کے باوجود ڈیموکریٹس کے امیدواروں کو ووٹ کیوں دیا۔
ریچل کیمپوس ڈفی کے سفارتی حل کے مطالبے کی حمایت
جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں ریچل کیمپوس ڈفی کا بھی خصوصی ذکر کیا، جنہیں پیر کو جنگ کے معاملے پر سفارتی حل کی حمایت کرنے کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جے ڈی وینس کے مطابق جب متعدد افراد پیر کو ریچل کیمپوس ڈفی کو اس مؤقف پر تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے کہ جنگ کا خاتمہ سفارتی ذرائع سے ہونا چاہیے، تو اب انتخابی نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا سیاسی مشورہ درست تھا۔
انہوں نے ریچل کیمپوس ڈفی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین انسان بھی ہیں۔
جے ڈی وینس کے اس تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک جنگ کے معاملے پر سخت گیر مؤقف اختیار کرنے کے بجائے سفارتی حل کی حمایت نہ صرف خارجہ پالیسی بلکہ داخلی سیاست اور انتخابی کامیابی کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کے نام پر عام معافی کی مخالفت
جے ڈی وینس نے انتخابی شکست کے بعد ریپبلکن پارٹی کے اندر ہونے والی ممکنہ بحث کے حوالے سے امیگریشن پالیسی کا معاملہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے چند ماہ کے دوران سیاسی حلقوں میں مختلف بیانیے سامنے آئیں گے اور بعض روایتی یا اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے سیاست دان یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ موجودہ انتخابی مشکلات کا حل غیر قانونی تارکین وطن کو عام معافی دینا ہے۔
وینس نے کہا کہ وہ امیگریشن قوانین کے نفاذ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے امکان کو مسترد نہیں کرتے۔
ان کے مطابق حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دینے والے کاروباری اداروں اور کمپنیوں کے خلاف زیادہ مؤثر کارروائی کرکے قانون نافذ کرنے کی حکمت عملی تبدیل کر سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو عام معافی دینے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس اقدام کو موجودہ سیاسی مشکلات کا حل قرار دے رہے ہیں، وہ عوام سے سچ نہیں بول رہے۔
جے ڈی وینس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ امیگریشن کا مسئلہ نہیں بلکہ جنگ ہے، اور اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر پارٹی اپنی سیاسی مشکلات کا درست تجزیہ نہیں کر سکتی۔
جے ڈی وینس کا دعویٰ، صدر نے بھی جنگ کو شکست کی وجہ قرار دیا
جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں امریکی صدر کے گزشتہ شب کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی جنگ کو انتخابی شکست کی وجہ قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق اب اس حقیقت سے انکار کرنے یا انتخابی نتائج کی مختلف توجیہات پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ ووٹرز کی ناراضی اور انتخابی اعداد و شمار دونوں ایک ہی سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
جے ڈی وینس نے سیاسی مخالفین اور پارٹی کے اندر موجود ان افراد کو براہ راست مخاطب کیا جو یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ درست تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ مؤقف رکھتا ہے کہ جنگ جاری رکھنا اس قیمت کے مقابلے میں فائدہ مند تھا جو ریپبلکن پارٹی کو ادا کرنا پڑی، تو اسے کھل کر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔
ان کے بقول اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جنگ کی وجہ سے اگلے 6 سال کے لیے سینیٹ کا کنٹرول کھونا ایک قابل قبول سیاسی قیمت تھی تو اسے اس فیصلے کا دفاع کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، ٹرمپ کا نتائج قبول کرنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا اعلان
جے ڈی وینس نے زور دیا کہ اس معاملے پر اختلاف رائے اپنی جگہ، لیکن کم از کم یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ پارٹی کو کس وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔
ان کے مطابق مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور پارٹی کی اصلاح سے متعلق کوئی بھی سنجیدہ گفتگو اسی حقیقت سے شروع ہونی چاہیے کہ جنگ نے ریپبلکن پارٹی کے ووٹرز کو اس سے دور کر دیا۔
ناراض ووٹرز کو وینس کا پیغام، آپ درست تھے، اب اپنی سوچ کے نمائندے منتخب کریں
جے ڈی وینس نے اپنے بیان کے اختتام پر ان ووٹرز کو بھی مخاطب کیا جو پہلے ہی حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور اب انتخابی نتائج کے بعد یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے پہلے ہی اس صورت حال سے خبردار کر دیا تھا۔ انہوں نے ایسے افراد سے کہا کہ وہ درست تھے ۔
جے ڈی وینس نے ان ووٹرز پر زور دیا کہ وہ اپنی ناراضی اور سیاسی توانائی کو مستقبل میں ایسے ریپبلکن امیدواروں کو منتخب کرنے کے لیے استعمال کریں جو ان کے نظریات، ترجیحات اور سیاسی مؤقف کی حقیقی نمائندگی کرتے ہوں۔
انہوں نے ان شہریوں کو بھی مخاطب کیا جو انتخابی نتائج سے محض مایوس یا ناراض ہیں اور کہا کہ ان کا ناراض ہونا بجا ہے۔
ان کے مطابق اس غصے کو محض سیاسی بحث اور باہمی الزامات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ملک کی بہتری اور سیاسی اصلاح کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ اب بھی امریکا کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں اور انہیں یقین ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال سے سبق سیکھ کر ملک کے لیے بہتر راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ انتخابی شکست سے پیدا ہونے والی ناراضی کو ملک کو بچانے اور اس کے مستقبل کے لیے عملی جدوجہد میں تبدیل کرنا ہوگا۔











