امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو جنگ کے خاتمے اور امریکا سے معاہدے کے لیے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں ’نمایاں‘ کمی کرنا ہوگی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو خصوصی انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران سے صرف مستقبل میں جوہری افزودگی کم کرنے کی یقین دہانی نہیں چاہتا بلکہ تہران کو عملی طور پر اپنی افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا تو اسے 60 فیصد تک افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے؟ ایران کو جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اظہار عملی اقدامات کے ذریعے کرنا ہوگا۔
In interview, US Vice-President Vance says Iran must cut enrichment to end war https://t.co/tAZJHTB3Fk
— The Straits Times (@straits_times) October 6, 2026
جے ڈی وینس کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہے۔ دونوں ممالک نے حالیہ ہفتوں میں جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز کا تبادلہ بھی کیا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ پیشکش مسترد کردی ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ واشنگٹن معاہدے کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم ایران کو جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا صرف باتوں کے بدلے عملی اقدامات نہیں کرے گا۔
وینس نے کہا کہ امریکا کو یہ بھی واضح نہیں کہ ایران میں اہم فیصلے کون کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی حکام ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایرانی نظام میں ان دونوں کے پاس فیصلہ سازی کا کتنا اختیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’میکسیکو پسند ہے تو وہاں چلے جائیں‘، جے ڈی وینس کی تقریر میں احتجاج، پرچم لہرانے والا شخص باہر نکال دیا گیا
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اچھی طرح جانتا ہے کہ ایران کے نمائندے کون ہیں اور ملک میں فیصلہ سازی کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ امریکی حکام کے متضاد مؤقف اور مختلف بیانات ہیں۔
وینس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی جنگ اور مذاکرات کے حوالے سے حتمی فیصلے کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2028 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں بھی کہا کہ انہوں نے ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔













