کیا 2030 تک آپ بھی بے روزگار ہو سکتے ہیں؟ اے آئی کن 5 شعبوں سے لاکھوں افراد کا روزگار چھین سکتاہے؟

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت (AI) تیزی سے دنیا بھر میں ملازمتوں اور کاروباری نظام کو تبدیل کر رہی ہے، جس کے باعث کئی روایتی پیشوں کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دفتری امور، حساب کتاب، ترجمہ، کسٹمر سروس اور تحریری مواد تیار کرنے جیسے شعبے مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ مستقبل میں ملازمت برقرار رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنا ناگزیر ہوگا۔

آسٹریلوی ڈیزائن سافٹ ویئر کمپنی کینوا (Canva) نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت پر مبنی کاروباری حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے تنظیمِ نو کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں اس کے پانچویں حصے سے زیادہ ملازمین کی ملازمتیں متاثر ہونے، عہدے تبدیل ہونے یا انہیں دوسری جگہ منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی دوران کسٹمر سروس سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی NICE نے بھی تقریباً 500 ملازمین کی برطرفی کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نوکریاں کھانے کی مہم پر گامزن، برطانوی بینک کا مزید 5 ہزار ملازمین نکالنے کا اعلان

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کم وسائل میں زیادہ کام کرنے اور اپنے اخراجات گھٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی صرف ملازمتیں ختم ہونے تک محدود نہیں بلکہ موجودہ ملازمین کی ذمہ داریاں اور کام کرنے کے طریقے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔

کون سے 5 شعبے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں؟

ماہرین نے پانچ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں کی نوعیت اور ملازمین کی ضرورت میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

دفتری اور انتظامی امور: ڈیٹا انٹری، ریکارڈ مرتب کرنا اور دستاویزات کی جانچ۔

کسٹمر سروس: صارفین کے سوالات کے جوابات، شکایات کا ابتدائی حل اور کال سینٹرز کی خدمات۔

اکاؤنٹنگ اور حساب کتاب: مالی ریکارڈ، بلنگ اور معمول کے حسابی امور۔

تحریری اور مارکیٹنگ کا کام: اشتہاری مواد، مضامین اور دیگر روایتی تحریری مواد کی تیاری۔

ترجمہ اور ابتدائی تحقیق: دستاویزات کا ترجمہ، معلومات جمع کرنا اور ان کا خلاصہ تیار کرنا۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے دنیا بھر میں ماہرین کی نوکریوں کو خطرہ، گرافک ڈیزائنرز بھی کام چھننے کا رونا رونے لگے

بیلامی آلڈن کے مینیجنگ پارٹنر فہد بزاری کے مطابق کسی ملازمت کو مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں شامل کام کتنی آسانی سے کسی نئے شخص کو سکھایا جا سکتا ہے اور وہ کتنی بار دہرایا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اگر کوئی کام بار بار ایک ہی طریقے سے انجام دیا جاتا ہے تو اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے خودکار بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ وکالت جیسے اعلیٰ مہارت والے شعبوں میں بھی دستاویزات کا جائزہ لینے اور خامیوں کی نشاندہی کرنے جیسے کام مصنوعی ذہانت انجام دے سکتی ہے۔

ہر 4 میں سے ایک ملازمت متاثر ہونے کا امکان

عالمی ادارہ محنت (ILO) کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر چار میں سے ایک ملازمت جنریٹو مصنوعی ذہانت سے متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ دفتری اور انتظامی نوعیت کے پیشے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا انسانوں کی نوکریاں ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والی ہیں؟ بل گیٹس نے AI کے خطرے سے خبردار کردیا

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے اثرات خواتین پر بھی زیادہ پڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ بڑی تعداد میں انتظامی اور دفتری شعبوں سے وابستہ ہیں۔

عالمی ادارہ محنت کے مطابق زیادہ آمدنی والے ممالک میں خواتین کی 9.6 فیصد ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے زمرے میں شامل ہیں جبکہ مردوں کی ملازمتوں میں یہ شرح 3.5 فیصد ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے کسی پیشے کا متاثر ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس شعبے کی تمام ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ کئی شعبوں میں یہ ٹیکنالوجی ملازمین کی جگہ لینے کے بجائے ان کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت 80 سے 90 فیصد کام سنبھالنے لگی

ماہرین کے مطابق جدید اے آئی ٹولز تحریری مواد تیار کرنے، کاروباری تجاویز بنانے، معلومات کا تجزیہ کرنے اور دستاویزات کی جانچ جیسے کام انتہائی تیزی سے انجام دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا چہرے کی تصویر بیمار کا حال بتاسکتی ہے؟ اے آئی اب اس سمت بھی گامزن

فہد بزاری نے بتایا کہ ان کے ایک کلائنٹ نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنی 90 فیصد کاروباری تجاویز تیار کرنا شروع کر دی ہیں جس کے نتیجے میں تین ہفتوں میں مکمل ہونے والا کام صرف تین دن میں ہونے لگا ہے۔

بینکنگ کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین کے اکاؤنٹس کھولنے، شناختی دستاویزات کی تصدیق، مالی لین دین کی نگرانی اور کسٹمر سروس جیسے کاموں میں خودکار نظام اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں چینی اے آئی ریسرچ کمپنی ’ڈیپ سیک‘ کے استعمال پر پابندی، وجہ کیا بنی؟

تاہم ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کسی کام کا ابتدائی جواب تو تیزی سے تیار کر سکتی ہے لیکن اس کی درستگی، حالات کے مطابق فیصلہ سازی اور حتمی جواب دہی کے لیے انسانی نگرانی اب بھی ضروری ہے۔

نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع محدود ہونے کا خدشہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے باعث سب سے زیادہ مشکلات ان نوجوانوں کو پیش آ سکتی ہیں جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی سطح کی ملازمتوں میں زیادہ تر ایسے کام شامل ہوتے ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت نسبتاً آسانی سے انجام دے سکتی ہے۔

ستمبر 2025 میں برطانوی کمپنی پی ڈبلیو سی (PwC UK) نے اپنے گریجویٹ اور اسکول چھوڑنے والے نئے امیدواروں کی بھرتیوں کی تعداد 1500 سے کم کرکے 1300 کر دی تھی جس کی وجوہات میں مصنوعی ذہانت سمیت دیگر عوامل شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘: سربراہ گوگل ڈیپ مائنڈ کی اے آئی سائبر حملوں میں شدت کی پیشگوئی

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ڈیجیٹل اکانومی لیب کی تحقیق میں بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے زیادہ متاثر ہونے والے پیشوں میں 22 سے 25 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ملازمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کمپنیاں نئے گریجویٹس کی بھرتیاں کم کرتی رہیں تو مستقبل میں تجربہ کار پیشہ ور افراد کی نئی نسل تیار کرنے میں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

کون سی ملازمتیں نسبتاً محفوظ رہیں گی؟

ماہرین کے مطابق ایسے پیشے جن میں انسانی فیصلہ سازی، جسمانی موجودگی، تخلیقی سوچ اور ذاتی تعلقات اہم ہوں وہ مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ان میں نرسنگ، الیکٹریشن، مرمت کے تکنیکی کام، سماجی خدمات، مشاورت، مذاکرات اور انتظامی قیادت جیسے شعبے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا چہرے کی تصویر بیمار کا حال بتاسکتی ہے؟ اے آئی اب اس سمت بھی گامزن

اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں جن میں اے آئی سسٹمز کی تیاری، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سینٹرز، ٹیکنالوجی کی نگرانی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق قوانین و ضوابط کے شعبے نمایاں ہیں۔

ملازمت برقرار رکھنے کے لیے کون سی مہارتیں ضروری ہیں؟

ماہرین نے ملازمین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو خطرہ سمجھنے کے بجائے اسے استعمال کرنا سیکھیں اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔

ان کے مطابق مستقبل میں درج ذیل مہارتیں خاص اہمیت اختیار کریں گی:

مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کا عملی استعمال۔

تنقیدی سوچ اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت۔

معلومات اور اے آئی کے تیار کردہ نتائج کی تصدیق۔

مؤثر ابلاغ اور انسانی تعلقات قائم کرنے کی مہارت۔

ڈیٹا کا تجزیہ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت۔

نئی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھنا۔

عالمی اقتصادی فورم کی فیوچر آف جابز رپورٹ 2025 کے مطابق 2030 تک ملازمتوں کی ضروری مہارتوں میں سے 39 فیصد تبدیل ہو سکتی ہیں یا ان کی اہمیت ختم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں دنیا بھر میں تقریباً 17 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا ہونے جبکہ 9 کروڑ 20 لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چالاک ترین قاتل بھی اب بچ نہیں پائیں گے، اندھے قتل کے کیسز حل کرنے میں اے آئی کی معاونت مثالی موڑ اختیار کرگئی

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کا مطلب صرف ملازمتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ روزگار کی نئی اقسام اور مواقع کا پیدا ہونا بھی ہے۔ تاہم مستقبل میں کامیابی انہی افراد کو ملنے کا امکان ہے جو مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرنا، اس کے نتائج کو جانچنا اور اپنی انسانی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا سیکھیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کا سب سے بڑا خطرہ صرف مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ وہ افراد ہوں گے جو اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی مہارت حاصل نہیں کریں گے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو تیار نہیں کر پائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلیک ہول کا سراغ لگانے والی ناسا کی لیجنڈری ٹیلی اسکوپ زمین سے نہ بچ سکی، بے قابو حالت میں نیچے آکر بھسم

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

پنجاب کے 2حلقوں میں ضمنی انتخابات، پاک فوج اور رینجرز تعینات کرنے کی منظوری

جے یو آئی کو بڑا دھچکا، وفاقی آئینی عدالت نے اہم درخواستیں خارج کردیں

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹر تربیلا کا دورہ، خصوصی آپریشنز کی صلاحیتوں کا جائزہ

ویڈیو

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟