اکثر براؤن خواتین نے دہائیوں تک اپنی جلد میں سفیدی رگڑنے کی کوشش کی ہے خواہ وہ گھر میں بنے ابٹن اور ہلدی کا مکس ہو یا کونے والی دکان سے ملنے والی فئیر اینڈ لولی اور سٹل مینز جیسی خطرناک بلیچ کریمیں۔ اب اربوں ڈالر کی اسکن بلیچنگ انڈسٹری نے سفیدی بیچنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے اس بار براہ راست رگوں میں انجیکشن کے ذریعے۔
یہ بھی پڑھیں: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟
ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اسے ‘اسکن وائٹننگ انجیکشن’ کہا جاتا ہے۔ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ گلوٹا تھائیون نامی اینٹی آکسیڈنٹ زیادہ مقدار میں لگانے سے میلانن کی پیداوار کم ہو جاتی ہے جس سے رنگت ہلکی ہو جاتی ہے۔
گلوٹا تھائیون کوئی نیا یا غیر ملکی کمپاؤنڈ نہیں ہے۔ آپ کا جسم سیلز کو نقصان سے بچانے کے لیے اسے روزانہ خود بناتا ہے اور یہ ایسپراگس، ایووکاڈو، پالک اور کھیرے جیسی غذاؤں میں بھی پایا جاتا ہے۔
ہیوسٹن کی فارماسسٹ انعم شیخ جو قوت مدافعت بڑھانے کے لیے گلوٹا تھائیون کے انجیکشن دیتی رہی ہیں کہتی ہیں کہ امریکا میں اس کا استعمال بنیادی طور پر مجموعی صحت کے لیے ہوتا ہے نہ کہ رنگ گورا کرنے کے لیے۔ لیکن جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں جو کبھی کینسر اور جگر کی ادویات کے ساتھ معاون تھراپی تھی، آج چند شیڈز گورا ہونے کا سب سے مقبول طریقہ بن گئی ہے۔
اس رپورٹ کے دوران انسٹاگرام پر 30 سے زائد پاکستانی کلینکس ‘گلوٹا ڈرپس’ بیچتے نظر آئے، جن کے کیپشن میں زیادہ توانائی، مضبوط قوت مدافعت اور ڈیٹوکس جگر کے وعدے تھے۔ سیلف کیئر کے الفاظ ہٹا دیں تو جو چیز بیچی جا رہی ہے وہ ایشیائی بیوٹی اکانومی کی سب سے پرانی پیشکش ہے یعنی ہلکی رنگت۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
لاہور کی ڈرماٹالوجسٹ ڈاکٹر آمنہ احمر کے مطابق گلوٹا تھائیون ٹائروسینیز نامی انزائم کو بلاک کر کے کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے جو میلانن بناتا ہے اور گہرے پگمنٹ کی بجائے ہلکے پگمنٹ کی طرف لے جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: رنگ گورا کرنے والے انجیکشنز کے مضر اثرات، کیا ان پر پابندی عائد کی جا رہی ہے؟
پاکستان میں ایک معیاری کلینک میں ایک سیشن کا خرچ تقریباً 25 ہزار روپے ہے، جو بہت سے گھریلو ملازمین کی ماہانہ تنخواہ ہے۔ مریض عام طور پر ہفتے میں ایک سے دو بار، 10 سے 12 سیشنز لیتے ہیں اور پھر مستقل ‘مینٹیننس’ سیشنز کیونکہ نتائج مستقل نہیں ہوتے اور چند ماہ میں ختم ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر احمر کہتی ہیں کہ ماہانہ 80 ہزار روپے خرچ کرنے والے کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کوئی جادو نہیں ہے۔ جب کوئی مریض میرے پاس آتا ہے تو میں پہلے اصل مسئلہ دیکھتی ہوں۔ اگر کسی کو پی سی او ایس اور انسولین ریزسٹنس کی وجہ سے ایکنی یا چھائیاں ہیں تو میں پہلے اس کا علاج کرتی ہوں۔
ثبوت کتنا ہے؟
ہیوسٹن کی ڈرماٹالوجسٹ ڈاکٹر ثنا ظہیر الدین کے مطابق صرف چند چھوٹی اسٹڈیز ہیں جو معمولی فرق کا اشارہ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسٹڈیز چھوٹی ہیں اور ان کے نتائج غیر مستقل ہیں اور اگر کسی کو فرق نظر بھی آئے تو وہ بہت معمولی ہوتا ہے اور ہر کسی پر اثر نہیں کرتا۔
ان میں سے ایک اسٹڈی پاکستانی ہے۔ 10 سال پہلے ملتان کے ڈاکٹروں نے 25 خواتین پر 1200 ملی گرام ہفتے میں 2 بار 6 ہفتے تک آزمایا اور 25 خواتین کو صرف نمکین پانی دیا۔ نتائج مایوس کن تھے۔ صرف ایک تہائی خواتین کی رنگت میں کچھ فرق آیا، جو نمکین پانی والے گروپ سے بہتر نہیں تھا، اور چھ ماہ بعد صرف ایک مریض میں اثر باقی تھا۔
سب سے تشویشناک نقصان تھا۔ گلوٹا تھائیون گروپ کی ہر خاتون کو سائیڈ ایفیکٹس ہوئے جن میں جگر کو نقصان کی علامات شامل تھیں۔ ایک خاتون کو اینفیلیکٹک شاک ہوا جو جان لیوا الرجک ری ایکشن ہے۔
ڈاکٹر ثنا کہتی ہیں کہ یہ اسٹڈیز اس بات کا قائل ثبوت نہیں دیتیں کہ نس کے ذریعے گلوٹا تھائیون محفوظ یا مؤثر اسکن لائٹننگ علاج ہے۔
اسلام آباد کی ایسٹھیٹک فزیشن ڈاکٹر تسکین اقبال کہتی ہیں کہ سچ یہ ہے کہ نتائج بتدریج اور معمولی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو ڈرامائی بیفور آفٹر نظر آئے تو وہ ایڈیٹنگ ہے بائیولوجی نہیں کیونکہ ڈرپ سے جلد اتنی زیادہ نہیں بدل سکتی۔ لیکن اسے لائٹننگ یا وائٹننگ کے نام سے بیچا جاتا ہے کیونکہ یہ لفظ بکتا ہے۔
ریگولیشن کہاں ہے؟
پاکستان میں گلوٹا تھائیون کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ریگولیٹ کرتی ہے جس نے اورل گلوٹا تھائیون کو سپلیمنٹ اور انجیکشن کو کیموتھراپی کے سائیڈ ایفیکٹس کے علاج کے لیے منظور کیا ہے گورا کرنے کے لیے نہیں۔
ڈاکٹر تسکین کہتی ہیں کہ عملی طور پر گلوٹا ڈرپس دینے والا ایسٹھیٹک کلینک تقریباً کسی کو جوابدہ نہیں ہے۔ پاکستان میں نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے، یہ وائلڈ ویسٹ جیسا ہے۔
دنیا بھر میں وارننگز موجود ہیں۔ فلپائن میں ڈرماٹالوجیکل سوسائٹی نے بارہا خبردار کیا ہے کہ گورا کرنے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں۔ سنہ 2024 میں وہاں کے ہیلتھ سیکریٹری نے 39 سالہ خاتون کی موت کے بعد وارننگ جاری کی۔ سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی، ملائیشیا، نائجیریا اور گھانا میں بھی اس کے خطرات، کینسر اور گردے کے امراض کے خدشات پر وارننگز جاری ہو چکی ہیں۔ بھارت میں ایک ڈاکٹر وائرل ہوا جس نے کہا کلینکس کی 90 فیصد بیفور آفٹر تصاویر ‘لائٹنگ، فلٹر اور تھوڑا سا فوٹوشاپ’ ہیں۔
گلو نہیں، گورا کرنے کا کاروبار
امریکہ میں سنہ 1889 سے ہی سیاہ فام اور مشرقی یورپی خواتین خطرناک وائٹننگ پروڈکٹس استعمال کر رہی تھیں۔ سنہ 2020 میں بلیک لائیوز میٹر تحریک کے بعد نیویا، پونڈز، یونی لیور اور لوریئل جیسے اداروں نے ‘وائٹننگ’ اور ‘فیئرنیس’ جیسے الفاظ نہ استعمال کرنے کا وعدہ کیا، اسی طرح فئیر اینڈ لولی کا نام بدلا گیا۔ لیکن مارکیٹ ڈیمانڈ وہی رہی، اب وہی پروڈکٹ ‘گلو’، ‘برائٹ’ اور ‘ریڈینٹ’ کے نام سے بک رہا ہے۔
ڈاکٹر ثنا واضح کرتی ہیں کہ ڈرماٹالوجی میں ‘برائٹننگ’ اور ‘لائٹننگ’ 2 مختلف چیزیں ہیں۔ برائٹننگ کا مطلب ناہموار رنگت اور داغ دھبے بہتر کرنا ہے جبکہ کاسمیٹک مارکیٹ میں اسی لفظ کو مجموعی رنگت ہلکی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مانگ زیادہ تر خواتین کی طرف سے ہے لیکن اب مردوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ کوئی بہتر رشتے کے لیے، کوئی شادی سے پہلے، تو کوئی معاشی مواقع بہتر کرنے کے لیے گورا ہونا چاہتا ہے۔ کچھ مریض سیدھا پاکستانی سیلیبرٹیز کی تصاویر لاتے ہیں جن کے بارے میں انہیں لگتا ہے کہ انہوں نے وائٹننگ انجیکشن لگائے ہیں۔
مزید پڑھیں: کاسمیٹیکوریکسیا: بچیاں اسکن کیئر کے جنون میں مبتلا، جلد اور ذہنی کیفیت دونوں داؤ پر
یہ کہانی دراصل اسکن وائٹننگ انجیکشن کی نہیں بلکہ ایک ایسی بیماری کی ہے جو ہمارے سابق نوآبادیاتی آقاؤں نے پھیلائی اور پھر اربوں ڈالر کی انڈسٹری نے اسے برقرار رکھا جس نے براؤن خواتین کی نسلوں کو سکھایا کہ ہماری قدر اسی قدر بڑھتی ہے جتنا ہم ‘سفید’ کے قریب ہوتے ہیں۔










