بلیک ہول کا سراغ لگانے والی ناسا کی لیجنڈری ٹیلی اسکوپ زمین سے نہ بچ سکی، بے قابو حالت میں نیچے آکر بھسم

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ناسا کی نیل گیرلز سوئفٹ آبزرویٹری بے قابو ہوکر زمین کی فضا میں داخل ہوگئی اور اس طرح اس طرح اس کے شاندار کیرئیر کا اختتام ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش، ناسا کی رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ لانچ کر دی گئی

امریکی اسپیس فورس نے تصدیق کی ہے کہ 3200 پاؤنڈ وزنی خلائی جہاز بدھ کو انڈونیشیا کے شمالی سماٹرا کے علاقے کے اوپر آواز کی رفتار سے 20 گنا زیادہ رفتار سے داخل ہوا۔

فضائی رگڑ نے نزول کے دوران آبزرویٹری کے بیشتر حصے کو جلا دیا تاہم اس کے معمولی ٹکڑے گرنے سے بچ گئے ہوں گے۔

کائناتی دریافتوں کی میراث

اصل میں نومبر 2004 میں محض دو سالہ پرائم مشن کے لیے لانچ کی گئی سوئفٹ نے تمام توقعات سے بڑھ کر تقریباً 22 سال تک کام کیا۔

کائنات کے سب سے شدید دھماکوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی اس ملٹی ویو لینتھ ٹیلی اسکوپ نے 2000 سے زیادہ گاما رے برسٹس، 1400 سے زیادہ پھٹنے والے سپرنووا اور سپر میسیو بلیک ہولز کا مشاہدہ کیا۔

مزید پڑھیے: ناسا کے ہبل ٹیلی اسکوپ سے 18 سال قبل کھینچی گئی تصویر دوبارہ وائرل

خلائی ’فرسٹ ریسپانڈر‘ کے طور پر کام کرتے ہوئے، سوئفٹ نے تیزی سے اپنی پوزیشن تبدیل کر کے مختصر کائناتی چمکوں کا پتا لگایا اور خودکار کوآرڈینیٹس زمینی آبزرویٹریز اور ہبل اور جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ جیسے فلیگ شپ اثاثوں کو گہرے فالو اپ ریسرچ کے لیے بھیجے۔

مدار میں آخری دن

سال کے شروع میں ایک پرائیویٹ آربیٹل ریسکیو مشن نے سوئفٹ کی بلندی بڑھانے کی کوشش کی جو ناکام رہی جس کے بعد زمین کی قدرتی فضائی کشش نے آہستہ آہستہ اس کے مدار کو کم کرنا شروع کر دیا۔

ناسا نے اکتوبر کے آخر میں باضابطہ طور پر سائنس آپریشنز ختم کر دیے کیونکہ خلائی جہاز کی بلندی اتنی کم ہو گئی تھی کہ درست الائنمنٹ برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔

سوئفٹ کا تاریخی مشن اپنے پیچھے ڈیپ اسپیس ڈیٹا کا ایک غیر معمولی کیٹلاگ چھوڑ گیا ہے جو آنے والی دہائیوں تک فلکیاتی پیش رفت کو تقویت دیتا رہے گا۔

مزید پڑھیں: نئی تحقیق میں بڑے بلیک ہولز کے وجود کا راز سامنے آگیا

واضح رہے کہ ناسا کی سوئفٹ ٹیلی سکوپ نے بلیک ہولز کے حوالے سے یہ کارنامہ انجام دیا تھا کہ اس نے کائنات کے سب سے پرتشدد واقعات یعنی گاما رے برسٹس کو پکڑ کر سائنسدانوں کو بتایا کہ کہاں کوئی ستارہ بلیک ہول میں گر رہا ہے یا نیا بلیک ہول بن رہا ہے۔

اپنے 22 سالہ مشن میں اس نے ہزاروں ایسے دھماکوں کی فوری لوکیشن زمین پر بھیجی جس کے بعد ہبل اور جیمز ویب جیسی بڑی ٹیلی اسکوپس نے وہاں دیکھ کر سپر میسیو بلیک ہولز اور ان کے ارد گرد ستاروں کو نگلنے کے عمل کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp