کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش، ناسا کی رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ لانچ کر دی گئی

اتوار 30 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارہ ناسا اپنا نیا فلیگ شپ ‘رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ’ خلا میں لانچ کر دیا گیا ہے، جو کائنات کا اب تک کا سب سے وسیع اور تفصیلی نقشہ تیار کرے گا۔

4 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ مشن کائنات کی ابتدا، ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی جیسے فزکس کے سب سے بڑے اور حل طلب رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد فراہم کرے گا۔

جمعہ کو ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ناسا ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خلا کی وسعتوں کا جائزہ لینے کے لیے ڈیزائن کی گئی یہ دوربین ‘کائنات کے رازوں کو افشا کرنے میں مدد دے گی’۔

12 میٹر (39 فٹ) طویل یہ جدید ترین رصد گاہ آج فلوریڈا سے اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے کامیابی سے روانہ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ناسا کی نئی دوربین تاریک توانائی، مادے اور دوسرے سیاروں کے راز کھولے گی

واضح رہے کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی محنت اور 4 ارب ڈالر سے زیادہ کی لاگت سے تیار ہونے والی اس دوربین کا نام امریکا کی نامور ماہرِ فلکیات نینسی گریس رومن کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہیں ناسا کی مشہورِ زمانہ دوربین کی مناسبت سے ‘ہبل کی ماں’ بھی کہا جاتا ہے۔

جہاں ہبل دوربین نے یہ انکشاف کیا تھا کہ کائنات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے، وہیں رومن ٹیلی اسکوپ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی سمیت دیگر حل طلب معموں کے جوابات تلاش کرے گی۔

 ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے رواں برس اپریل میں اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘رومن زمین کو کائنات کا ایک نیا نقشہ فراہم کرے گا’۔

رومن ٹیلی اسکوپ کا فیلڈ آف ویو (دیکھنے کی صلاحیت) ہبل کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ بڑا اور جیمز ویب سے نمایاں طور پر وسیع ہے۔

یہ زمین سے 1.5 ملین کلومیٹر دور ایک خاص مقام سے آسمان کے وسیع حصوں کا جائزہ لے گی، جہاں تک پہنچنے میں اسے تقریباً 100 دن لگیں گے۔

جیمز ویب جیسی طاقتور اور انتہائی درست کام کرنے والی دوربینوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی اس رصد گاہ کا مقصد ہزاروں نئے سیاروں اور دسیوں ہزار سپرنووا (بڑے ستاروں کی موت کے وقت ہونے والے دھماکے) دریافت کرنا ہے۔

رومن کے ٹیکنیکل مینیجر ڈیو کنٹینٹ کے مطابق ‘یہ فلکیاتی اجسام کا اب تک کا سب سے بڑا کیٹلاگ ہوگا اور اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہمارے نظامِ شمسی جیسے دیگر نظام کائنات میں کتنے عام ہیں’۔

فزکس کے 2 بڑے معمے

یہ نئی دوربین فزکس کے 2 سب سے بڑے رازوں یعنی ‘ڈارک میٹر’ اور ‘ڈارک انرجی’ پر بھی روشنی ڈالے گی۔ ان کی ابتدا تاحال نامعلوم ہے، لیکن مانا جاتا ہے کہ یہ دونوں مل کر کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ بناتے ہیں۔

مزید پڑھیں،زمین کی کشش ثقل کچھ دیر رکنے کے دعوے، ناسا نے صورتحال واضح کردی

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ڈارک میٹر ایک قسم کی کششِ ثقل کی گوند کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ ڈارک انرجی ایک ایسی قوت ہے جو کائنات کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے۔

اپنی جدید انفراریڈ بینائی کی بدولت، رومن دوربین اربوں سال قبل اجرامِ فلکی سے خارج ہونے والی روشنی کا پتا لگانے کے قابل ہوگی، جس سے سائنسدانوں کو کائنات کے ماضیِ بعید میں جھانکنے اور ان پراسرار مظاہر کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملے گا۔

کائناتی ماڈل کے لیے چیلنج اور حیران کن انکشافات

رومن کی یہ تحقیق چلی کی روبن آبزرویٹری اور یورپی خلائی ایجنسی کی یکلڈ پروب کے کام کو مزید آگے بڑھائے گی۔

سائنسدانوں کو اس مشن کا بے صبری سے انتظار ہے کیونکہ یہ کائنات کی ساخت کے بارے میں ہمارے موجودہ فہم کو چیلنج کر سکتا ہے۔

رومن کی سینیئر پروجیکٹ سائنٹسٹ جولی میک اینری نے بتایا کہ حالیہ تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کائنات کے ابتدائی پھیلاؤ کے حوالے سے موجودہ ماڈل کی پیش گوئیاں شاید غلط ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حالیہ مشاہدات بتاتے ہیں کہ ہمارا معیاری ماڈل غلط ہو سکتا ہے اور رومن اسے واضح کرنے میں مدد دے گی۔ یہ دوربین یقینی طور پر یہ بتائے گی کہ آیا ہمارا موجودہ ماڈل کام کرتا ہے یا نہیں اور اگر ایسا نہیں ہے، تو یہ ہمیں اس قدر معیاری ڈیٹا فراہم کرے گی کہ ہم کائنات کے رازوں کی نئی توجیہات تلاش کر سکیں گے’۔

یہ بھی پڑھیں:پراسرار فضائی اجسام کی تصاویر موجود ہیں لیکن حقیقت اب بھی معمہ ہے، سربراہ ناسا جیرڈ آئزک مین

اس دوربین کا تمام تر ڈیٹا سائنسدانوں اور عوام کی پہنچ میں ہوگا، تاہم ڈیو کنٹینٹ نے متنبہ کیا کہ اس ڈیٹا کا حجم بہت بڑا ہوگا۔

یہ دوربین روزانہ تقریباً 1.3 ٹیرا بائٹ ڈیٹا تیار کرے گی، جس کا مطلب ہے کہ اسے کسی عام لیپ ٹاپ پر ڈاؤن لوڈ کرنا ناممکن ہوگا۔

جولی میک اینری کے نزدیک جتنا زیادہ ڈیٹا ہوگا، اتنا ہی بہتر ہے۔ وہ پرامید ہیں کہ، ‘رومن سے ملنے والی سب سے دلچسپ سائنسی معلومات یقیناً حیران کن ہوں گی، کچھ ایسا جس کی ہم پیش گوئی بھی نہیں کر سکتے، اور یہی مستقبل کے مشنز کے لیے مزید گہرے سوالات کی بنیاد رکھے گا’۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp