امریکا پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتا، تعلقات میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں، سینیئر صحافی محمد عاطف

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں مقیم سینیئر صحافی محمد عاطف نے کہا ہے کہ امریکی پالیسی ساز اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان خطے کا ایک انتہائی اہم ملک ہے، جسے مکمل طور پر نظرانداز یا تنہا نہیں کیا جاسکتا، دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

’وی نیوز‘ کے پروگرام ’صحافت اور سیاست‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکی انتخابات کے نتائج، صدر ٹرمپ کے سیاسی مستقبل، ڈیموکریٹس کی ترجیحات اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے کہاکہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست محض معمول کی سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر عوامی عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی سے امریکی کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہوگا اور صدر ٹرمپ کے لیے اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد پہلے کی نسبت مشکل ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ کی شکست، ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات بڑھنے لگے

محمد عاطف کے مطابق انتخابی نتائج کے بعد صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت میں بھی ان پر تنقید شروع ہوگئی ہے۔ ریپبلکن رہنما انتخابی شکست کی ذمہ داری صدر ٹرمپ اور ان کی گزشتہ 2 سال کی پالیسیوں پر ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کرس کرسٹی سمیت کئی اہم ریپبلکن رہنماؤں نے کھل کر صدر ٹرمپ پر تنقید کی ہے، جبکہ فلوریڈا کے سابق گورنر اور ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے امیدوار رہنے والے رونالڈ ڈیون ڈی سینٹس نے بھی انتخابی نتائج کو اپنی جماعت کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔

محمد عاطف کے مطابق رونالڈ ڈیون ڈی سینٹس کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کو محض ’بلیو ویو‘ کہنا کافی نہیں، کیونکہ یہ اس سے کہیں بڑی سیاسی تبدیلی ہے اور ریپبلکن پارٹی کو ملک بھر میں غیر معمولی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس نے ایسی ریاستوں میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں جو کئی دہائیوں سے ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جاتی تھیں۔

ان کے مطابق ٹیکساس میں 1988 کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کی گورنر منتخب ہوئی ہیں، جو ہسپانوی نژاد تارک وطن خاتون ہیں۔ اسی طرح تقریباً 28 سال بعد ٹیکساس سے ڈیموکریٹک سینیٹر کی کامیابی بھی ایک اہم سیاسی تبدیلی ہے۔

محمد عاطف نے بتایا کہ اوہائیو میں صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ وویک راماسوامی کو ایک خاتون امیدوار کے ہاتھوں شکست ہوئی، جبکہ کنساس جیسی قدامت پسند ریاست میں بھی ڈیموکریٹس کامیاب ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران بعض ریلیوں میں ووٹرز سے کہا تھا کہ وہ ووٹ دیتے وقت یہ تصور کریں کہ بیلٹ پیپر پر خود ٹرمپ کا نام موجود ہے۔ اس لیے ان نتائج کو براہ راست صدر ٹرمپ کی سیاسی کارکردگی سے جوڑا جا رہا ہے۔

کیا صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوسکتی ہے؟

صدر ٹرمپ کے خلاف ممکنہ مواخذے سے متعلق سوال پر محمد عاطف نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اقدام ہوگا، جس کی کامیابی کے لیے سینیٹ میں 2 تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

ان کے مطابق ڈیموکریٹس کے پاس اتنے ریپبلکن ارکان کی حمایت موجود نہیں کہ وہ صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مطلوبہ ووٹ حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مطلوبہ حمایت کے بغیر مواخذے کی کارروائی شروع کرنا وقت کا ضیاع ثابت ہوسکتا ہے۔

کیا جے ڈی وینس ٹرمپ سے سیاسی فاصلہ اختیار کر رہے ہیں؟

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے انتخابی شکست کی وجوہات بیان کرنے کے معاملے پر محمد عاطف نے کہا کہ اس پیش رفت کو 2028 کے صدارتی انتخابات کی تیاریوں کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 13 ماہ بعد 2028 کے انتخابات کے لیے پہلی پرائمری کا مرحلہ شروع ہوگا اور اگر جے ڈی وینس ریپبلکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی الگ سیاسی شناخت قائم کرنا ہوگی۔

محمد عاطف کے مطابق امریکی سیاست میں نائب صدر کو عموماً مستقبل کے صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کیونکہ اس عہدے پر رہنے والے شخص کو حکومتی تجربے اور قومی سطح پر شناخت کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے ڈی وینس اب تک صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے بھرپور حامی رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا پر ان پالیسیوں کا دفاع کیا اور انتخابی مہم میں بھی ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ تاہم انتخابی شکست کے بعد اگر وہ 2028 میں صدارتی انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی بعض پالیسیوں سے خود کو الگ ظاہر کرنا شروع کریں اور آزادانہ سیاسی سوچ پیش کریں۔

محمد عاطف کے مطابق امریکی انتخابات کے نتائج ایران کے ساتھ جاری جنگ پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں، کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی اس تنازع کو جلد ختم کرنے کی خواہاں ہے۔

کیا امریکا میں اسرائیل کا اثرورسوخ کم ہوگا؟

اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق سوال پر محمد عاطف نے کہا کہ امریکا میں اسرائیل کا سیاسی اثرورسوخ ایک اہم حقیقت ہے، جس میں امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (ایپیک) کا نمایاں کردار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایپیک ایک بااثر تنظیم ہے جو ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے امیدواروں کی انتخابی مہمات کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔

محمد عاطف نے کہا کہ اس لیے یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ اسرائیل نواز تنظیمیں صرف ریپبلکن پارٹی کے ساتھ کام کرتی ہیں۔

کیا امریکا اسرائیل کی 4 ارب ڈالر کی امداد بند کردے گا؟

محمد عاطف نے بتایا کہ انتخابی نتائج کے اگلے روز صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے سال سے اسرائیل کو دی جانے والی 4 ارب ڈالر کی امداد بند کردیں گے۔

ان کے مطابق جب میزبان نے اس غیر متوقع بیان کی وضاحت چاہی تو صدر ٹرمپ نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اب اس امداد کی ضرورت نہیں رہی۔

محمد عاطف نے کہا کہ اس اعلان پر عمل درآمد کے بارے میں فی الحال یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ اسرائیل امریکی خارجہ پالیسی اور مشرق وسطیٰ میں اس کے مفادات کے حوالے سے انتہائی اہم ملک سمجھا جاتا ہے۔

امریکی انتخابات کے عالمی معیشت اور مہنگائی پر کیا اثرات ہوں گے؟

عالمی معیشت سے متعلق سوال پر محمد عاطف نے کہا کہ امریکی انتخابات کو صدر ٹرمپ کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر ریفرنڈم کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی اہم کمیٹیوں، جن میں دفاع، خارجہ امور، معاشی اصلاحات، بجٹ اور اخراجات سے متعلق کمیٹیاں شامل ہیں، کی قیادت ڈیموکریٹس کے پاس ہوگی۔

ان کے مطابق قانون سازی اور حکومتی فیصلوں سے متعلق تجاویز پہلے کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں سے گزریں گی اور پھر حتمی منظوری کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچیں گی۔

محمد عاطف نے کہا کہ اگرچہ حتمی انتظامی اختیارات صدر کے پاس رہیں گے، تاہم ڈیموکریٹس کی اکثریت کے باعث پالیسی سازی میں مذاکرات اور مفاہمت کی ضرورت بڑھ جائے گی۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر عائد کیے گئے تجارتی ٹیرف میں نرمی کے لیے اقدامات کریں گے۔

ان کے مطابق ان ٹیرف کی وجہ سے عالمی تجارت اور امریکا کے ساتھ مختلف ممالک کے تجارتی تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں، جنہیں کم کرنے سے عالمی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

محمد عاطف نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو جاتی ہے اور کسی معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جاتی ہے تو عالمی تجارت اور اشیا کی ترسیل میں تیزی آسکتی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ عالمی معیشت فوری طور پر معمول پر نہیں آئے گی، کیونکہ جنگ اور تجارتی رکاوٹوں سے ہونے والے نقصانات کی تلافی میں وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سابقہ سطح پر واپس آنے میں ممکنہ طور پر ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

2028 کے امریکی صدارتی انتخابات کی تیاریاں کب شروع ہوں گی؟

محمد عاطف نے بتایا کہ آئندہ سال اکتوبر اور نومبر تک صدارتی امیدوار مختلف ریاستوں کے دورے شروع کر چکے ہوں گے، جہاں وہ اپنی انتخابی حمایت مضبوط بنانے اور رضاکاروں کو منظم کرنے پر توجہ دیں گے۔

امریکی انتخابات کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے محمد عاطف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ قربت کی ایک بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو جاتی ہے تو پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں فوری طور پر کوئی بڑی دوری پیدا ہونے کا امکان نہیں، تاہم وہ وجوہات ضرور کمزور پڑ سکتی ہیں جن کے باعث دونوں ممالک غیر معمولی طور پر قریب آئے تھے۔

محمد عاطف کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی عمومی طور پر جمہوری اقدار، شخصی آزادیوں اور آزادی اظہار رائے کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔

امریکا پاکستان کو نظرانداز کیوں نہیں کرسکتا؟

محمد عاطف کے مطابق امریکی پالیسی ساز اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان خطے کا ایک انتہائی اہم ملک ہے، جسے مکمل طور پر نظرانداز یا تنہا نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ماضی میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ اہمیت دینے کی پالیسی کے نتائج دیکھ چکا ہے اور اس تجربے سے یہ سبق ملا ہے کہ پاکستان کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا امریکی مفادات کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق واشنگٹن کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز حلقوں میں یہ سوچ موجود ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے سے وہ چین کے مزید قریب جاسکتا ہے۔

محمد عاطف نے کہا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں مکمل طور پر چین پر انحصار کرنے لگے۔

محمد عاطف نے کہا کہ امریکا یہ بھی سمجھتا ہے کہ چین پاکستان کو دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون فراہم کر رہا ہے اور واشنگٹن پاکستان کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دور نہیں ہونے دینا چاہتا۔

انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ محدود فوجی تصادم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں پاکستان کی فضائی صلاحیتوں اور چینی دفاعی ٹیکنالوجی کے استعمال نے امریکی پالیسی سازوں کے سامنے ایک اہم مثال پیش کی۔

ان کے مطابق اس تجربے سے یہ بات واضح ہوئی کہ اگر امریکا کسی ملک کو دفاعی تعاون سے محروم کرکے تنہا کرنے کی کوشش کرے تو وہ متبادل ٹیکنالوجی اور شراکت داروں کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔

پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام امریکا کے لیے کیوں اہم ہے؟

محمد عاطف نے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام بھی امریکی پالیسی میں ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ پاکستان دنیا کا واحد مسلم اکثریتی ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

ان کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام برقرار رہے اور ملک ایسے حالات سے دوچار نہ ہو جہاں ریاستی اداروں کی کارکردگی متاثر ہو یا دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ڈیموکریٹس کے اثرورسوخ میں اضافے کے بعد پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور افغانستان سے متعلق معاملات میں بھی بہتر امریکی تعاون حاصل ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بچوں کو سوشل میڈیا کی لت سے بچانے کا قانون، گوگل، میٹا اور ٹک ٹاک عدالت پہنچ گئے

بیٹی کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی خلیل الرحمان قمر پر تنقید کیوں ہونے لگی؟

بجلی صارفین سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 23 ارب 33 کروڑ روپے وصول کرنے کی تیاری

امریکی انتخابات کے بعد ٹیکنالوجی اسٹاکس کریش، نیسڈیک سے ڈھائی کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری غائب

نومنتخب امریکی سینیٹر ڈاکٹر عبدالسید کی برطانوی صحافی سے مبینہ بدتمیزی، ویڈیو وائرل

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

اسکول بن گیا، سہولتیں نہ ملیں، پنوں عاقل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟