نئے صوبوں کی تشکیل سے پہلے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، احمد بلال محبوب

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجیسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے بانی صدر اور گورننس امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کے بجائے پہلے مقامی حکومتوں کے نظام کو آئینی تحفظ دے کر بااختیار اور فعال بنانا چاہیے۔

’وی نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے، جبکہ مقامی حکومتوں کو اختیارات اور مالی وسائل کی منتقلی کے ذریعے گورننس کے مسائل بڑی حد تک حل کیے جا سکتے ہیں۔

احمد بلال محبوب نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم دسمبر کے وسط تک آنا ممکن ہے، اگر اس ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو اس کے لیے سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

’نئے صوبوں کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت ضروری ہوگی‘

احمد بلال محبوب نے کہا کہ آئین میں موجود اس شق کو تبدیل کیا جا سکتا ہے جس کے تحت نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں الگ الگ دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم منظور کرانا ہوگی۔

ان کے مطابق اس ترمیم کے بعد نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی دو تہائی اکثریت کی شرط ختم ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود سیاسی مشکلات برقرار رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حمایت اس معاملے میں لازمی ہوگی، کیونکہ اس جماعت کا نئے صوبوں کی مخالفت میں واضح مؤقف اور قرارداد موجود ہے۔ البتہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کے ساتھ کوئی مفاہمت ہو جائے اور وہ حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوں تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔

’صوبوں کی تشکیل اور اختیارات کی منتقلی دو مختلف معاملات ہیں‘

احمد بلال محبوب نے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو ایک معاملہ سمجھنا درست نہیں۔ ’اگر حکومت کا مقصد صرف گورننس بہتر بنانا اور اختیارات عوام تک منتقل کرنا ہے تو اس کے لیے نئے صوبے بنانے کے بجائے مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ اور اختیارات دیے جا سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر مقامی حکومتوں کے اختیارات، وسائل اور ذمہ داریوں کا آئین میں واضح تعین کر دیا جائے تو اختیارات کی منتقلی کا مسئلہ نسبتاً آسانی اور تیزی سے حل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ اختیارات کی منتقلی سے کہیں زیادہ بڑا ہے اور اس کے مقاصد محض گورننس کی بہتری تک محدود دکھائی نہیں دیتے۔

’لسانی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کا معاملہ‘

احمد بلال محبوب نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ چاروں صوبے مختلف لسانی شناختوں کی بنیاد پر اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں، تاہم اگر نئے صوبے انتظامی حدود کی بنیاد پر تشکیل دیے جائیں تو اس سے لسانی تقسیم اور اختلافات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لسانی شناخت کو بذاتِ خود کوئی منفی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر کسی علاقے کے لوگوں کی اپنی زبان اور ثقافتی شناخت ہے تو اسے مصنوعی طریقے سے کمزور کرنے کے بجائے تسلیم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تشکیل کے باوجود وفاقی ڈھانچہ کمزور نہیں ہوا۔

احمد بلال محبوب کے مطابق پاکستان میں بھی بعض علاقوں میں الگ لسانی اور ثقافتی شناخت کی بنیاد پر نئے صوبوں کے مطالبات موجود ہیں۔ سندھ میں اردو بولنے والی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنی الگ شناخت رکھتا ہے، پنجاب میں سرائیکی بولنے والے الگ صوبے کی بات کرتے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن کے لوگ اپنی الگ لسانی شناخت کی بنیاد پر علیحدہ صوبے کے حامی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان بنیادوں پر انتظامی تقسیم کو مکمل طور پر ناجائز نہیں کہا جا سکتا، تاہم ایسا کوئی بھی فیصلہ انتہائی سوچ بچار کے بعد ہونا چاہیے۔

نئے صوبوں کے لیے باقاعدہ کمیشن بنانے کی تجویز

احمد بلال محبوب نے کہا کہ بھارت نے نئی ریاستوں کی تشکیل کے لیے ایک کمیشن قائم کیا تھا جس نے 21 ماہ تک کام کیا اور پارلیمنٹ کو اپنی سفارشات پیش کیں۔

ان کے مطابق اس کمیشن نے معاشی استعداد، زبانوں، تہذیب، ثقافت اور طرزِ زندگی سمیت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا۔ پاکستان میں بھی اگر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اسی طرح تفصیلی مشاورت اور تحقیق کے بعد آگے بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک تھنک ٹینک نے نئے صوبوں کی تشکیل پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ بھی پیش کیا ہے۔ اس لیے جلد بازی میں آئینی ترمیم منظور کرکے نئے صوبوں کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی طرح بغیر جامع مشاورت کے یہ معاملہ آگے بڑھایا گیا تو یہ ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔

مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینے کی ضرورت

احمد بلال محبوب نے کہا کہ پاکستان میں بلدیاتی نظام کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی، اختیارات کی عدم منتقلی اور مالی خودمختاری کا فقدان شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں بلدیاتی انتخابات ہی نہیں کرائے جاتے، جبکہ جہاں مقامی حکومتیں موجود ہیں وہاں بھی انہیں حقیقی اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔

کراچی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں میئر موجود ہیں لیکن ان کے پاس اتنے اختیارات نہیں کہ وہ شہر کے انتظامی مسائل حل کرکے گورننس بہتر بنا سکیں۔

ان کے مطابق مقامی حکومتوں کو فعال بنانے کا واحد مؤثر راستہ یہ ہے کہ آئین میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرح مقامی حکومتوں کے حوالے سے بھی واضح تفصیلات درج کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کام 18ویں آئینی ترمیم کے وقت ہی کر لینا چاہیے تھا، لیکن اس وقت یہ ذمہ داری صوبوں پر چھوڑ دی گئی۔

احمد بلال محبوب کے مطابق صوبائی حکومتوں کا مفاد اس بات میں ہے کہ اختیارات اور وسائل ان کے پاس رہیں، اس لیے وہ انہیں کسی دوسرے ادارے کو منتقل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ تاہم اگر آئین میں ترمیم کرکے مقامی حکومتوں کی تشکیل، اختیارات اور وسائل کی تقسیم کا واضح طریقہ کار مقرر کر دیا جائے تو صوبے اس پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہوں گے۔

’بھارت میں آئینی ترامیم سے بلدیاتی نظام مضبوط ہوا‘

احمد بلال محبوب نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1994 اور 1995 کے دوران وہاں بھی مقامی حکومتوں کا نظام کمزور اور غیر فعال تھا۔ ریاستی حکومتیں مقامی اداروں کو ختم کر دیتی تھیں اور بلدیاتی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کررہا تھا۔

ان کے مطابق بھارت نے اس مسئلے کے حل کے لیے آئین میں دو الگ ابواب شامل کیے، جن میں ایک میونسپل اداروں اور دوسرا پنچایتوں کے لیے تھا۔ پاکستان میں یونین کونسلوں کی سطح پر کام کرنے والے اداروں کے لیے بھی اسی نوعیت کے آئینی انتظامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے آزادی کے بعد تقریباً 45 سال تک مقامی حکومتوں کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی، لیکن جب یہ کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو آئینی ترامیم کے ذریعے مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا گیا۔

احمد بلال محبوب کے مطابق پاکستان میں 18ویں ترمیم 2010 میں منظور ہوئی تھی، لیکن گزشتہ 16 برس میں صوبے مقامی حکومتوں کو نہ تو مؤثر طور پر قائم کر سکے اور نہ ہی انہیں فعال رکھ سکے۔ اس لیے اب آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں پابند کرنا ضروری ہے۔

’نئے صوبوں کی تشکیل سے سرکاری اخراجات میں بڑا اضافہ ہوگا‘

احمد بلال محبوب نے نئے صوبوں کی تشکیل کے ممکنہ اخراجات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے بڑی تعداد میں نئے صوبے بنانا مالی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے نتیجے میں الگ الگ وزرائے اعلیٰ، گورنرز، کابینہ، صوبائی اسمبلیاں اور انتظامی ڈھانچے قائم کرنا پڑیں گے، جس سے سرکاری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

ان کے مطابق ایک تھنک ٹینک نے معاشی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان نئے صوبوں کی تشکیل کے اخراجات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے پہلے کم از کم پہلے مرحلے میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنا کر دیکھا جائے۔ اگر ترقیاتی فنڈز کا 30 سے 35 فیصد مقامی حکومتوں کو منتقل کر دیا جائے تو صوبائی حکومتوں کی مالی وسائل پر گرفت کم ہوگی اور اختیارات حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل ہو سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں نئے صوبے بن بھی جائیں تو وہ یونین کونسل کی سطح پر عوامی مسائل حل نہیں کر سکیں گے، اس لیے مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام بہرحال ضروری ہوگا۔

’پاکستان میں 12 یا 33 صوبوں کی تجاویز زیرِ بحث‘

احمد بلال محبوب نے کہا کہ نئے صوبوں کی تعداد کے حوالے سے دو تجاویز سامنے آئی ہیں۔

’پہلی تجویز کے مطابق پاکستان میں 12 صوبے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اس تجویز کی بنیاد یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملک میں 12 ڈویژن تھے، لہٰذا انہی سابقہ ڈویژنز کو صوبوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ دوسری تجویز موجودہ انتظامی ڈویژنز کی بنیاد پر نئے صوبے بنانے کی ہے، جن کی تعداد اس وقت 33 ہے۔ اس طرح ملک میں 33 صوبے قائم کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں تجاویز کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ان میں زبان یا نسلی شناخت کے بجائے موجودہ انتظامی حدود کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس طرح نئے صوبوں کے لیے کسی نئے لسانی یا نسلی معیار کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

بلوچستان میں نئے صوبوں کی حمایت

احمد بلال محبوب نے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سے ملاقات کے دوران انہوں نے اس مؤقف کا اظہار کیا تھا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے اتنا بڑا صوبہ ہے کہ اسے چلانا مشکل ہو رہا ہے، اس لیے وہاں چھوٹے صوبے بننے چاہییں۔

ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں بھی مزید صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے کوئی واضح اختلافی مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ پنجاب اس معاملے پر تاحال خاموش ہے، تاہم انہیں نہیں لگتا کہ پنجاب میں اس تجویز کی حمایت بہت زیادہ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی جانب سے نئے صوبوں کی تشکیل کی تجویز پر سب سے زیادہ مزاحمت سامنے آ رہی ہے۔

اس سوال پر کہ کیا نئے صوبوں کا قیام مرحلہ وار ممکن ہے، مثلاً پہلے بلوچستان، پھر خیبرپختونخوا اور اس کے بعد دیگر صوبوں میں، احمد بلال محبوب نے کہا کہ ان کے خیال میں نئے صوبے ایک ہی وقت میں قائم کیے جائیں گے، کیونکہ ایک ہی معیار کا اطلاق بعض صوبوں پر کرنا اور دیگر کو اس سے مستثنیٰ رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کی تحریک کا ایک بنیادی ہدف سندھ بھی رہا ہے، اس لیے اگر سندھ میں نئے صوبے نہیں بنتے تو دوسرے صوبوں میں نئے صوبے بنانے سے شاید اس تجویز کے اصل مقاصد پورے نہ ہوں۔

صوبائی حدود کا معاملہ

احمد بلال محبوب نے کہا کہ صوبوں کی حدود، شناخت اور تقسیم کا معاملہ انتہائی حساس ہے اور اسے بہت احتیاط سے حل کرنا چاہیے۔

انہوں نے قیام پاکستان سے قبل کابینہ مشن کی تجاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی بعض صوبوں کو گروپوں میں تقسیم کرنے کی تجویز سامنے آئی تھی، لیکن سندھ، بلوچستان اور اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں اس پر شدید تحفظات پیدا ہوئے تھے۔

ان کے مطابق ون یونٹ کے قیام کے وقت بھی صوبائی شناخت ختم ہونے کے خدشات سامنے آئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صوبے اپنی جغرافیائی حدود اور شناخت کے معاملے پر بہت حساس ہیں۔

صوبوں کے بڑھتے ہوئے اختیارات گورننس میں رکاوٹ

احمد بلال محبوب نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے زیادہ خودمختار اور طاقتور ہوئے ہیں اور بعض معاملات میں ان کا طرزِ عمل ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ وفاقی نظام کے بجائے ایک کنفیڈریشن کا حصہ ہوں۔

ان کے مطابق قومی سطح پر ملک کی بہتری کے لیے بنائے جانے والے منصوبوں کو بھی بعض اوقات صوبائی سطح پر ویٹو کر دیا جاتا ہے، جس سے ملکی ترقی کے اہم منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے چولستان کینالز منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد نہری نظام کے ذریعے کارپوریٹ فارمنگ کو فروغ دینا اور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا تھا، جس کے ذریعے حاصل ہونے والی فصلوں کی برآمد سے زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ زیرِ زمین پانی کی دستیابی کے حوالے سے مسائل اور شدید احتجاج کے باعث منصوبے کو محدود کرنا پڑا، حالانکہ یہ نہریں پنجاب کے اپنے علاقوں سے نکالی جا رہی تھیں۔

احمد بلال محبوب نے کالا باغ ڈیم منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 20 سال پہلے یہ اہم منصوبہ بھی اسی نوعیت کی مخالفت کے باعث آگے نہ بڑھ سکا۔

ان کے مطابق کالا باغ ڈیم پاکستان کے لیے انتہائی اہم منصوبہ تھا، جس کی تعمیر سے بجلی سستی اور پانی کی دستیابی بہتر ہو سکتی تھی۔ بالخصوص خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں، جن میں ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل ہے، کو پانی فراہم کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ملک نے ایسے کئی مواقع ضائع کیے ہیں اور صوبوں کی بڑھتی ہوئی خودمختاری کے تناظر میں بعض حلقے چھوٹے صوبوں کی تشکیل کو ایک ایسے طریقے کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے صوبائی سطح پر طاقت کے ارتکاز کو کم کیا جا سکے۔

’اٹھائیسویں ترمیم پر کام جاری، حتمی فیصلے کا علم نہیں‘

احمد بلال محبوب نے اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ ان کے پاس اس منصوبے یا حکومتی حلقوں میں ہونے والی مشاورت کے بارے میں کوئی مصدقہ اندرونی اطلاع موجود نہیں۔

تاہم ان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی خود کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے پر سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ کام ہو رہا ہے اور اسے عجلت میں آگے نہیں بڑھایا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ایک تجویز یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ اس معاملے کو آئندہ عام انتخابات تک مؤخر کر دیا جائے اور انتخابات کے بعد اس پر پیش رفت کی جائے۔

ان کے مطابق بظاہر اس معاملے پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بچوں کو سوشل میڈیا کی لت سے بچانے کا قانون، گوگل، میٹا اور ٹک ٹاک عدالت پہنچ گئے

بیٹی کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی خلیل الرحمان قمر پر تنقید کیوں ہونے لگی؟

بجلی صارفین سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 23 ارب 33 کروڑ روپے وصول کرنے کی تیاری

امریکی انتخابات کے بعد ٹیکنالوجی اسٹاکس کریش، نیسڈیک سے ڈھائی کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری غائب

نومنتخب امریکی سینیٹر ڈاکٹر عبدالسید کی برطانوی صحافی سے مبینہ بدتمیزی، ویڈیو وائرل

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

اسکول بن گیا، سہولتیں نہ ملیں، پنوں عاقل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟