وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سینیٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 2، 2 نشستیں دی جائیں گی، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ایک، ایک نشست ملے گی۔
طارق فضل چوہدری نے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ سینیٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں نشستوں کی تقسیم کے تحت مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو 2، 2 نشستیں مختص کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابی اصلاحات کمیٹی نے الیکشن قوانین میں کیا ترامیم تجویز کی ہیں؟
انہوں نے مزید بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو بھی کمیٹی میں ایک، ایک نشست دی جائے گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا حتمی فیصلہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اپوزیشن، حکومتی اتحادی جماعتوں اور متعلقہ پارلیمانی قیادت سے مشاورت کے بعد کریں گے۔
واضح رہے کہ 29 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی پر زور دیا تھا کہ وہ عمران خان کی جانب سے دیے گئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کی اہم پارلیمانی کمیٹیوں، خصوصاً انتخابی اصلاحات کمیٹی میں واپسی یقینی بنائیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے انتخابی اصلاحات کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے تو محمود خان اچکزئی قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کے نام نامزد کرکے اسپیکر آفس کو بھجوائیں۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی منظوری ہو چکی، پی ٹی آئی نے مخالفت نہیں کی، طارق فضل چوہدری
اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی سے ملاقات کرکے انہیں انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت بھی دی تھی۔
اس سے قبل 20 اگست کو بھی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن سے پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں میں دوبارہ شرکت کی اپیل کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری سمیت انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کے ساتھ مشاورت اور تعاون پر زور دیا تھا۔











