انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں کروڑوں نئے افراد انٹرنیٹ استعمال کرنے لگے ہیں لیکن سائبر جرائم پیشہ عناصر بھی ان کی ناتجربہ کاری اور آن لائن رابطوں پر اعتماد کا فائدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت

ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل آگاہی، مضبوط حفاظتی نظام اور فراڈ کی بروقت شناخت ہی ایسے صارفین کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

انٹرنیٹ نے دنیا بھر میں معلومات، تعلیم، کاروبار اور رابطوں کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں لیکن اس تک پہلی بار رسائی حاصل کرنے والے افراد کے لیے آن لائن دنیا کئی خطرات بھی رکھتی ہے۔

جعلی ویب سائٹس، دھوکا دہی پر مبنی پیغامات، بینک اکاؤنٹس کی معلومات چرانے اور نقصان دہ سافٹ ویئر کے ذریعے صارفین کو نشانہ بنانے والے جرائم پیشہ افراد ایسے نئے صارفین کی تلاش میں رہتے ہیں جنہیں انٹرنیٹ کے خطرات کا زیادہ تجربہ نہیں ہوتا۔

سنہ 2022 میں مغربی افریقی ملک بینن کے سیکیورٹی افسر انیسیت ایتیکپو بھی ایسے ہی ایک فراڈ کا شکار ہوئے۔ انہوں نے فیس بک پر ایک ایسے شخص کی جانب سے بھیجا گیا لنک کھولا جسے وہ اپنا دوست سمجھتے تھے۔ یہ لنک انہیں ایک جعلی ویب سائٹ پر لے گیا جہاں ان سے ذاتی معلومات، بشمول بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، طلب کی گئیں۔

ایتیکپو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے میں انہیں خاصا مالی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے بعد وہ اپنے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے بھی پریشان ہو گئے۔

ان کے مطابق وہ اس واقعے سے صرف چند سال پہلے انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع ہوئے تھے۔ ان کا خیال ہے کہ آن لائن فراڈ کا شکار ہونے کی ایک بڑی وجہ تکنیکی معلومات کی کمی سے زیادہ لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہے۔ بہت سے افراد اپنے آن لائن رابطوں پر بھروسا کرتے ہوئے کسی پیغام یا لنک کی حقیقت جانچے بغیر فوری کارروائی کر دیتے ہیں۔

انٹرنیٹ صارفین کی بڑھتی تعداد، سائبر جرائم پیشہ عناصر کے لیے نئے مواقع

ایک اندازے کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی، یعنی 2 ارب 60 کروڑ افراد، اب بھی انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتے۔ اگر انٹرنیٹ کی سہولت موجودہ رفتار سے پھیلتی رہی تو 2030 تک مزید تقریباً 2 ارب افراد آن لائن دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں بڑی تعداد میں ایسے افراد انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کریں گے جنہیں اسپیم پیغامات، رینسم ویئر، جعلی ویب سائٹس اور دیگر آن لائن خطرات کا پہلے کوئی تجربہ نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیے: ’خواتین کسی کو تصاویر نہ بھیجیں‘، محسن نقوی کا بلیک میلنگ اور آن لائن فراڈ کی شکایات پر سائبر پولیس کو مضبوط بنانے کا اعلان

سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ صارفین کی یہ نئی لہر جرائم پیشہ عناصر کے لیے کمائی کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ دوسری جانب ڈیجیٹل آگاہی کے پروگرام اور صارفین کو آن لائن فراڈ سے تحفظ فراہم کرنے والے نظام اس رفتار سے ترقی نہیں کر سکے جس رفتار سے انٹرنیٹ پھیل رہا ہے۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی کراؤڈ اسٹرائیک کے فیلڈ چیف ٹیکنالوجی افسر زیکی تریدی کے مطابق سائبر جرائم کا نظام پہلے سے زیادہ منظم اور پیشہ ورانہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، خودکار ٹیکنالوجی اور لوگوں کو نفسیاتی طور پر دھوکا دینے کے طریقوں کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ان کے مطابق آج انٹرنیٹ استعمال کرنے والے نئے افراد کو ایک طرف معلومات، سہولتوں اور مواقع تک رسائی مل رہی ہے لیکن دوسری طرف انہیں ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کا سامنا ہے جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو چکی ہے۔

زیکی تریدی کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم پیشہ عناصر اب مقامی زبانوں اور ثقافت کے مطابق دھوکا دہی کے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ وہ مقامی بینکوں یا سرکاری اداروں کا روپ دھار کر پیغامات بھیجتے ہیں، جعلی سرکاری امداد کی پیشکش کرتے ہیں یا ایسی موبائل ایپس متعارف کراتے ہیں جو بظاہر عام اور محفوظ دکھائی دیتی ہیں، لیکن درحقیقت ان میں جاسوسی کرنے والا نقصان دہ سافٹ ویئر موجود ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ایسے فراڈ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

سائبر فراڈ اب منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے

سائبر جرائم پیشہ گروہ اکثر ڈارک ویب کے فورمز اور خفیہ رابطہ ذرائع کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ بعض گروہ ایسے افراد کو بھی سائبر فراڈ کے لیے تیار شدہ کِٹس فراہم کرتے ہیں جنہیں تکنیکی مہارت حاصل نہیں ہوتی۔ ان کٹس میں جعلی پیغامات اور ویب سائٹس بنانے کے طریقے یا چوری شدہ اکاؤنٹس کی معلومات تک رسائی شامل ہو سکتی ہے جس سے نئے افراد کے لیے بھی سائبر جرائم میں ملوث ہونا آسان ہو جاتا ہے۔

بین الاقوامی ادارے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ سائبر جرائم اب زیادہ منظم اور تجارتی نوعیت اختیار کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے عالمی سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں بھی نئے انٹرنیٹ صارفین کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں آن لائن فراڈ، فشنگ اور رینسم ویئر حملوں میں اضافہ شامل ہے۔

افریقی ممالک میں یہ خطرہ خاص طور پر نمایاں ہے۔ افریقہ دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی نسبتاً کم ہے تاہم وہاں صارفین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جنوبی افریقہ اور سیشلز جیسے ممالک میں انٹرنیٹ تک رسائی کی شرح تقریباً 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے لیکن بینن کے بعض دیہی علاقوں اور جمہوریہ کانگو جیسے زیادہ آبادی والے ملک میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگ انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔

اس کی وجوہات میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی زیادہ قیمت، محدود اور غیرمستحکم انٹرنیٹ انفرااسٹرکچر اور صارفین کے تحفظ کے ناکافی انتظامات شامل ہیں۔ اندازہ ہے کہ آئندہ 4 برس میں افریقہ میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 28 کروڑ سے زیادہ بڑھ سکتی ہے جس کے پیش نظر سائبر جرائم کی روک تھام کے اقدامات کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: این سی سی آئی اے کی کارروائی، سائبر فراڈ میں ملوث عالمی گروپ کے 34 ارکان گرفتار

انٹرپول کے مطابق افریقہ میں سائبر جرائم کے باعث ہونے والے مالی نقصانات 2024 کے بعد دوگنے سے زیادہ ہو چکے ہیں اور 19 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 48 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

حکومتیں اور ٹیکنالوجی کمپنیاں کیا کر رہی ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن فراڈ سے بچاؤ کے لیے کچھ حفاظتی اقدامات موجود ضرور ہیں، لیکن انہیں مزید مؤثر اور عام لوگوں کی پہنچ میں لانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اسکولوں میں ڈیجیٹل آگاہی کی تعلیم اور آن لائن دھوکا دہی کا شکار ہونے والے صارفین کے لیے مضبوط قانونی تحفظ اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم نے سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے خطرات کی نشاندہی کرنے والی ٹیکنالوجی اور حفاظتی نظام تیار کیے ہیں، جن میں رسائی پر کنٹرول اور نقصان دہ سافٹ ویئر کی شناخت شامل ہے۔ امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بھی اپنے ہر فیلڈ دفتر میں سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے خصوصی تربیت یافتہ ٹیمیں قائم کر رکھی ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے بھی سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کئی بین الاقوامی تحقیقات کی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان میں سے بیشتر اقدامات جرائم کی تحقیقات اور ملزمان کے خلاف کارروائی پر مرکوز ہیں، جبکہ پہلی بار انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے اور محفوظ رہنے کی تربیت دینے پر مزید توجہ درکار ہے۔

غیرسرکاری تنظیم ٹیلی کام فور گڈ کے بانی رابرٹ اینڈرسن کا کہنا ہے کہ سائبر سیکیورٹی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق حکومتوں کو صرف جرائم کی روک تھام کے لیے قانون سازی ہی نہیں بلکہ عوام کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے کی تربیت بھی دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: لاہور میں غیر ملکی شہریوں سے سائبر فراڈ کرنے والے 3 جعلی کال سینٹرز پر چھاپے، 59 ملزمان گرفتار

مختلف ممالک نے اس حوالے سے اپنے اقدامات کیے ہیں۔ میانمار میں سال 2010 کی دہائی کے دوران انٹرنیٹ کے استعمال میں تیزی سے اضافے کے بعد نئے صارفین کے لیے خصوصی آگاہی مہم چلائی گئی۔ نائجیریا نے سال 2024 میں اپنے سائبر جرائم سے متعلق قانون میں ترمیم کرکے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل مارکیٹوں کے تحفظ کے لیے اقدامات شامل کیے۔

بھارت نے بھی ایک قومی ہیلپ لائن قائم کی ہے جہاں فراڈ کا شکار ہونے والے افراد فوری شکایت درج کرا سکتے ہیں تاکہ بینکوں اور ادائیگی کی ایپس کے ذریعے چوری شدہ رقم کو منجمد کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

افریقی یونین نے بھی اپنے ایجنڈا 2063 میں سائبر سیکیورٹی کو اہم ترجیح قرار دیا ہے جبکہ انٹرپول افریقی پولیس اداروں کو سائبر جرائم کی روک تھام اور تحقیقات کی تربیت فراہم کر رہا ہے۔ اس میں چھوٹے کاروباروں کو آن لائن فراڈ سے محفوظ رہنے کے طریقے سکھانا بھی شامل ہے۔

صرف قوانین نہیں، ڈیجیٹل آگاہی بھی ضروری

ماہرین کے مطابق سائبر جرائم سے تحفظ کے لیے صرف قوانین اور پولیس کارروائیاں کافی نہیں بلکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ مشکوک پیغامات، لنکس اور ویب سائٹس کی شناخت کیسے کی جائے۔

تاہم اس معاملے میں حکومتوں کے لیے ایک توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔ رابرٹ اینڈرسن کے مطابق بعض حکومتیں انتخابات، سیاسی بے چینی یا قدرتی آفات کے دوران انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع پر پابندیاں عائد کر دیتی ہیں، جس سے وہ آزادی بھی متاثر ہوتی ہے جس کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل نظام قائم کیے جاتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی صارفین کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، لیکن ان کی توجہ زیادہ تر اپنے پلیٹ فارمز کی سیکیورٹی بہتر بنانے پر رہی ہے، جبکہ پہلی بار انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو نئے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ڈیجیٹل فراڈ کا نیا طریقہ: نہ کارڈ چھینا، نہ پن کوڈ مانگا، پھر بھی اکاؤنٹ خطرے میں؟

مائیکروسافٹ نے سنہ 2018 میں سائبر سیکیورٹی ٹیک اکارڈ متعارف کرایا تھا جس میں دنیا کی 150 سے زیادہ ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہوئیں۔ اس اتحاد کا مقصد سائبر حملوں سے صارفین کا تحفظ اور انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے کے لیے بنیادی اصولوں پر عمل درآمد تھا۔

گوگل کی سیکیورٹی ترجمان کمبرلی سمرا کے مطابق کمپنی صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی مفت سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ ان میں پاس ورڈ مینیجر، 2 مرحلوں میں شناخت کی تصدیق، پاس کیز اور ایڈوانسڈ پروٹیکشن پروگرام شامل ہیں۔ پاس کیز کے ذریعے روایتی پاس ورڈ کے بجائے فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت جیسے طریقوں سے اکاؤنٹ تک رسائی ممکن ہوتی ہے جبکہ ایڈوانسڈ پروٹیکشن پروگرام صحافیوں اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد جیسے زیادہ خطرات کا سامنا کرنے والے صارفین کے لیے اضافی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سے منسلک آلات کی تعداد میں اضافے کے ساتھ سائبر حملوں کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔ صنعتی اندازوں کے مطابق سنہ 2030 تک دنیا بھر میں انٹرنیٹ سے منسلک آلات کی تعداد 3 ہزار 800 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ ان میں کمپیوٹر اور موبائل فون کے علاوہ بجلی گھروں کے نظام، طبی آلات اور خودکار گاڑیاں بھی شامل ہوں گی۔ جتنے زیادہ آلات انٹرنیٹ سے جڑیں گے ہیکرز کے لیے حملے کے ممکنہ راستے بھی اتنے ہی بڑھ جائیں گے۔

اس لیے ماہرین کے نزدیک سائبر سیکیورٹی کو ایک مرتبہ مکمل کر لینے والا کام نہیں بلکہ مسلسل بہتر بنائے جانے والا عمل سمجھنا چاہیے۔ انٹرنیٹ تک رسائی کی رفتار اگر ڈیجیٹل آگاہی اور حفاظتی نظام سے آگے نکل گئی تو نئے صارفین کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: حیدر آباد دکن: سائبر فراڈیوں نے ریٹائرڈ ملازم کی جمع پونجی ہتھیالی

بنیادی سوال اب یہ نہیں کہ پہلی بار انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کو سائبر جرائم کا سامنا ہوگا یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ جب وہ ایسے خطرات سے دوچار ہوں گے تو ان سے نمٹنے کے لیے کتنے تیار ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

کراچی میں سائبر فراڈ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 273 افراد گرفتار

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟