پیراگوئے کے صدر سینتیاگو پینا نے یوئینو بینک اسکینڈل اور مالیاتی بحران کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ملک کے استحکام، سماجی امن اور سرکاری اداروں کے تحفظ کے پیش نظر انہوں نے صدارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں:فلوریڈا میں قومی پرچم بلند، پاکستان انڈر 18 بیس بال کا چیمپیئن بن گیا، فائنل میں پیراگوئے کو شکست
سینتیاگو پینا کا کہنا تھا کہ ان کی اولین ترجیح ان شہریوں کو ذہنی سکون فراہم کرنا ہے جنہوں نے ملک کے مالیاتی نظام پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی رقوم بینک میں جمع کرائی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ موجودہ واقعات کا فیصلہ کرے گی اور اگر وہ کسی بھی موقع پر عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے تو وہ ان سے معذرت خواہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب پیراگوئے کی پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ صدر کا استعفیٰ منظور کیا جائے یا مسترد۔ یوئینو بینک اسکینڈل پر صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا تھا۔
اپوزیشن کے 35 ارکان اور حکمراں جماعت کے منحرف ارکان نے آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت مواخذے کی کارروائی کے لیے الزامات پیش کیے تھے، جن میں فرائض کی سنگین اور مسلسل غفلت بھی شامل ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق یوئینو بینک کے صارفین کی تعداد قریباً 29 لاکھ 40 ہزار تھی، جو پیراگوئے کی بالغ آبادی کا قریباً 60 فیصد بنتی ہے۔ گزشتہ ماہ تک بینک میں سرکاری شعبے کے قریباً 80 کروڑ ڈالر کے ڈیپازٹس موجود تھے، جو اس کی مجموعی جمع شدہ رقوم کا قریباً ایک چوتھائی تھے۔ ان میں ملک کے بڑے پن بجلی منصوبوں کے منتظمین کی رقوم بھی شامل تھیں۔
مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے والی پیراگوئے نے ترکیہ کو شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا
پیراگوئے کے مرکزی بینک نے یوئینو بینک کا مالیاتی استحکام کا تناسب مقررہ کم از کم حد کے نصف سے بھی کم ہونے پر منگل کو اس کی بندش اور تصفیے کا عمل شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد بینک کی موبائل ایپ، کارڈ کے ذریعے ادائیگی اور رقوم کی منتقلی کی سہولتیں معطل ہوگئیں، جبکہ برانچز بھی بند کر دی گئیں۔
صارفین اپنی جمع پونجی نکلوانے کے لیے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہوگئے، جس سے ملک میں مالیاتی بحران کے ساتھ سیاسی تنازع بھی شدت اختیار کر گیا۔











