بھارتی کرکٹ بورڈ نے دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی کی خطرناک صورت حال اور ممکنہ موسمی رکاوٹوں کے پیش نظر دسمبر میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان شیڈول ایک روزہ بین الاقوامی میچ کا مقام تبدیل کردیا ہے۔
اب یہ میچ 13 دسمبر کو نئی دہلی کے بجائے ساحلی شہر وشاکھاپٹنم میں کھیلا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے آلودہ ترین شہر’دہلی‘ میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کا کیا نیا منصوبہ بنایا جارہا ہے؟
نئی دہلی میں جمعے کو فضائی آلودگی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور فضائی معیار جانچنے والے مانیٹرز کے اعدادوشمار کے مطابق زہریلی آلودگی عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ یومیہ حد سے 25 گنا سے بھی زیادہ ہوگئی۔
“The venue change has been made following a request from the Delhi and District Cricket Association (DDCA), in view of the potential weather disruption and the proposed renovation work at the stadium,” BCCI said in a statement.#INDvSL #India #SriLanka https://t.co/w5YeiHaMyZ
— Circle of Cricket (@circleofcricket) November 5, 2026
بھارتی کرکٹ بورڈ نے میچ کا مقام تبدیل کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ’ممکنہ موسمی رکاوٹوں اور دہلی کے کرکٹ اسٹیڈیم میں مجوزہ تزئین و مرمت کے کام‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
میچ کی منتقلی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دارالحکومت میں فضائی آلودگی ایک بار پھر سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
نئی دہلی میں موسم سرما کے دوران آلودگی کی سطح عموماً مزید بلند ہوجاتی ہے، اس موسم میں سرد ہوا آلودہ ذرات کو زمین کے قریب روک لیتی ہے، جس کے باعث فضا میں زہریلے مادوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: دنیا کے 20 آلودہ ترین شہروں میں 13 بھارتی شہر شامل، نئی رپورٹ جاری
بعض اوقات پی ایم 2.5 ذرات کی سطح 800 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے تجاوز کرجاتی ہے، جو عالمی ادارۂ صحت کی 24 گھنٹے کے لیے مقرر کردہ رہنما حد سے 50 گنا سے بھی زیادہ ہے۔
پی ایم 2.5 ایسے انتہائی باریک آلودہ ذرات ہیں جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوسکتے ہیں اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔
فن لینڈ میں قائم سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے ایک تجزیے کے مطابق 2023 میں نئی دہلی میں فضائی آلودگی کے باعث اندازاً 17 ہزار 188 اموات ہوئیں، جو شہر میں ہونے والی مجموعی اموات کا تقریباً 15 فیصد تھیں۔
مزید پڑھیں: دہلی کی شدید فضائی آلودگی، بیڈمنٹن کے عالمی نمبر 3 کھلاڑی انڈیا اوپن سے دستبردار
تجزیے میں فضائی آلودگی کو شہر میں اموات کا سب سے بڑا انفرادی خطرے کا عامل قرار دیا گیا، دوسری جانب ہندوؤں کے مذہبی تہوار دیوالی کے موقع پر بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اتوار کو منائے جانے والے اس تہوار کے دوران آتش بازی اور پٹاخوں کا استعمال پہلے سے آلودہ فضا میں مزید زہریلے مادے شامل کرسکتا ہے۔
نئی دہلی میں فضائی آلودگی کا مسئلہ ہر سال موسم سرما میں شدت اختیار کرجاتا ہے، جس سے شہریوں کی صحت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ معمولاتِ زندگی اور کھیلوں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔










