چین نے صاف توانائی کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی پذیر ممالک میں عالمی ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں کا رخ بدل دیا ہے۔ گزشتہ سال چین نے ترقی پذیر دنیا میں 132 ارب ڈالر کی صاف توانائی سے متعلق ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری فراہم کی، جو کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کے لیے کی جانے والی سب سے بڑی معاونت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توانائی کے صاف اور قابلِ تجدید ذرائع کا استعمال، چین امریکا پر بازی لے گیا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے تجزیے کے مطابق چین کی سبز ٹیکنالوجی کی صنعت نے اس پیمانے پر ترقی کی ہے کہ اس کی عالمی سرمایہ کاری اور برآمدات تقریباً ان تمام امیر ممالک کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد، قرضوں اور نجی سرمایہ کاری کے برابر پہنچ گئی ہیں جو انہوں نے 2024 میں غریب ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فراہم کی تھی۔
رائٹرز کے مطابق چین کی یہ کامیابی بڑی حد تک حکومت کی جانب سے اپنی صاف توانائی کی صنعتوں کو بھاری مالی مراعات دینے کا نتیجہ ہے۔ بیجنگ نے عالمی ماحولیاتی امداد کے روایتی طریقے کے بجائے اپنی صنعتوں کو مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی کی تیاری اور عالمی منڈیوں میں اپنی بالادستی قائم کرنے پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں شمسی پینلز، بیٹریوں، بیٹریوں میں استعمال ہونے والی معدنیات، برقی گاڑیوں اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنز کی عالمی منڈی میں چین کا حصہ تیزی سے بڑھا۔
چین کی سرمایہ کاری اور امیر ممالک کی ماحولیاتی امداد
2009 میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران دنیا کے امیر ممالک نے ترقی پذیر ملکوں کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کی بنیاد یہ تھی کہ صنعتی ترقی یافتہ ممالک نے ماحولیاتی بحران پیدا کرنے میں زیادہ کردار ادا کیا ہے اور ان کے پاس اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ وسائل بھی موجود ہیں۔
تاہم رائٹرز کی 2024 کی ایک تحقیق میں سامنے آیا تھا کہ عالمی ماحولیاتی مالی معاونت کا بڑا حصہ قرضوں کی صورت میں فراہم کیا جاتا ہے، جن پر بعض اوقات تجارتی شرح سود بھی وصول کی جاتی ہے اور اس طرح اربوں ڈالر بالآخر امیر ممالک کو واپس چلے جاتے ہیں۔
رائٹرز کے تازہ تجزیے میں چین کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کو برآمد کی جانے والی صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کی مالیت کسٹمز کے اعدادوشمار کی بنیاد پر شمار کی گئی ہے۔ اس میں چین کی جانب سے ترقی پذیر ممالک میں صاف ٹیکنالوجی کے منصوبوں میں کی جانے والی تقریباً 40 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ اس سرمایہ کاری کے اعدادوشمار لندن اسکول آف اکنامکس کے ماہرین میتھیاس لارسن اور شیاؤکانگ ژو نے مرتب کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ’چین مصنوعی ذہانت میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے‘
اس طرح چین کی مجموعی معاونت 132 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو امیر ممالک کی جانب سے 2024 میں اقوام متحدہ کے وعدوں کے تحت فراہم کردہ 137 ارب ڈالر کی ماحولیاتی مالی معاونت کے قریب ہے۔ تاہم دونوں اعدادوشمار کا براہ راست موازنہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ چین کی رقم زیادہ تر تجارتی لین دین اور صاف توانائی کے منصوبوں سے متعلق ہے، جبکہ امیر ممالک کی مالی معاونت میں ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق زراعت کو ڈھالنے اور طوفانوں یا سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی بحالی جیسے منصوبے بھی شامل ہوتے ہیں۔
چین کی ٹیکنالوجی سے کاربن اخراج میں کمی
ماہرین کے تجزیے کے مطابق چین سے ترقی پذیر ممالک کو برآمد کیے گئے صاف توانائی کے آلات مکمل طور پر استعمال ہونے کے بعد ہر سال 25 کروڑ 70 لاکھ میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لانے میں مدد دیں گے۔ یہ مقدار فرانس کے ایک سال کے مجموعی کاربن اخراج کے برابر ہے۔
تجزیہ کار لوری میلی ویرتا، جو ہیلسنکی میں قائم سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے شریک بانی ہیں، کے مطابق رواں سال چین کی برآمدات ترقی پذیر ممالک میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو سالانہ 33 کروڑ 70 لاکھ میٹرک ٹن تک کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امیر ممالک کی جانب سے ترقی پذیر ملکوں کو فراہم کی جانے والی عالمی ماحولیاتی مالی معاونت کے نتیجے میں کاربن اخراج میں ہونے والی مجموعی کمی کا کوئی قابل اعتماد یکجا تخمینہ دستیاب نہیں۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے مطابق 2024 میں امیر ممالک کی مجموعی ماحولیاتی مالی معاونت کا پانچواں حصہ نجی شعبے کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا۔
پاکستان میں بھی چینی شمسی پینلز کی بڑی درآمد
چین کی صاف توانائی کی ٹیکنالوجی نے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں بھی توانائی کے شعبے کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان نے گزشتہ سال چین سے 17 گیگاواٹ صلاحیت کے شمسی پینلز درآمد کیے، جو اسی سال جرمنی میں نصب کیے گئے شمسی توانائی کے نظاموں کی مجموعی صلاحیت کے تقریباً برابر ہے۔
یہ شمسی پینلز پاکستان میں کاربن اخراج کم کرنے کے ساتھ نسبتاً سستی اور قابل اعتماد بجلی فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے، جہاں بجلی کی فراہمی اکثر مہنگی اور غیر یقینی رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین ’مصنوعی سورج‘ بنانے کے مزید قریب، 582 ٹن وزنی فیوژن مقناطیس کا کامیاب تجربہ
رائٹرز کے تجزیے کے مطابق گزشتہ سال چین کے برآمد کردہ شمسی پینلز اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے سیلز کا تقریباً دو تہائی حصہ ترقی پذیر ممالک کو بھیجا گیا۔ چین گزشتہ چند برسوں سے برقی گاڑیوں کا بھی دنیا کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے۔ وہاں حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھانے والی درجنوں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے درمیان قیمتوں کی سخت مسابقت نے برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ایتھوپیا نے بھی 2024 میں پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کردی تھی۔ رائٹرز سے گفتگو میں اس وقت کے نائب وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا تھا کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد کاربن اخراج میں کمی کے بجائے ایندھن کی درآمد پر اٹھنے والے اخراجات کم کرنا تھا۔
لندن اسکول آف اکنامکس کے سینئر پالیسی فیلو میتھیاس لارسن کے مطابق ایتھوپیا میں اس اقدام کے لیے کسی نے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس سے مالی معاونت طلب نہیں کی، بلکہ معاشی حالات تبدیل ہونے کے باعث برقی گاڑیاں سستا اور بہتر متبادل بن گئیں۔
عالمی ماحولیاتی سفارت کاری میں چین کا کردار
اگرچہ چین صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کی عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کرچکا ہے، تاہم عالمی ماحولیاتی مذاکرات میں اس کی سفارتی قیادت کا کردار اب بھی محدود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2025 میں امریکا کو عالمی ماحولیاتی تعاون سے الگ کرنے کے بعد چین سے توقعات بڑھ گئی ہیں، تاہم بیجنگ نے اب تک اس معاشی طاقت کو عالمی مذاکرات میں بھرپور سفارتی قیادت میں تبدیل کرنے میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
رواں ماہ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں اقوام متحدہ کی 31ویں ماحولیاتی کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر چین کا سفارتی کردار اہم توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ ماضی میں امریکا اور چین کے درمیان دوطرفہ معاہدوں نے 2015 کے پیرس معاہدے سمیت کئی اہم عالمی ماحولیاتی سمجھوتوں کی راہ ہموار کی تھی، تاہم سابق مذاکرات کاروں کے مطابق چین ممکنہ طور پر امریکا کی عدم موجودگی میں اکیلے عالمی قیادت کا بوجھ اٹھانے سے گریز کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایندھن کا عالمی بحران، چینی صدر شی جن پنگ نے کون سا متبادل نظام تجویز کیا؟
جرمنی کی سابق وزیر ماحولیات جینیفر مورگن کے مطابق آنے والے برسوں میں چین کا ماحولیاتی معاملات میں کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ایک طرف وہ صاف توانائی کی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں پھیلانے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ دوسری جانب دنیا میں کاربن اخراج کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں بھی شامل ہے۔
چین دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں بھاری صنعتوں، بڑی آبادی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پر انحصار کے باعث عالمی کاربن اخراج کا تقریباً ایک تہائی حصہ پیدا ہوتا ہے۔ ملک میں اب بھی نصف سے زیادہ بجلی کوئلے سے حاصل کی جاتی ہے۔
چین کی وزارت تجارت کے مطابق ملک عالمی سطح پر سبز تبدیلی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران چین کے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے آلات کی برآمدات نے مجموعی طور پر عالمی کاربن اخراج میں تقریباً 4.1 ارب ٹن کمی کی ہے، جو امریکا کے ایک سال کے مجموعی اخراج کے تقریباً 80 فیصد کے برابر ہے۔
چینی وزارت تجارت نے کہا کہ عالمی ماحولیاتی نظام میں عملی اقدامات کی کمی کے باوجود چین ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے، مشکلات پر قابو پانے اور کم کاربن اخراج پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے کام کرے گا۔
دوسری جانب امریکا اور یورپ کے بعض ممالک نے اپنی مقامی صنعتوں کو چینی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی درآمدات سے محفوظ رکھنے کے لیے محصولات اور دیگر پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکا نے چینی برقی گاڑیوں پر 100 فیصد سے زیادہ محصولات عائد کر رکھے ہیں اور دیگر اقدامات کے ذریعے ان کی امریکی منڈی تک رسائی بھی محدود کردی ہے۔
برازیل کے سابق ماحولیاتی مذاکرات کار آندرے کوریا دو لاگو کے مطابق قابل توجہ بات یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی پالیسیوں کی مخالفت اب ان کے ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے نہیں بلکہ تجارت اور مسابقت کے خدشات کے باعث کی جارہی ہے۔











