وفاقی کابینہ کی جانب سے 10 روپے کے کاغذی نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کی منظوری نے پشاور میں نوٹوں کے ہار اور سہرا بنانے والوں اور شادی بیاہ کی تقریبات میں ڈھول بجانے والے محنت کشوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی جگہ سکہ رائج کرنے کا فائدہ ہوگا یا نقصان؟
حکومت کا مؤقف ہے کہ کاغذی نوٹ کے مقابلے میں سکے کی عمر زیادہ ہوتی ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔ تاہم چھوٹے کاروباریوں اور محنت کشوں کا کہنا ہے کہ 10 روپے کا نوٹ محض کرنسی نہیں بلکہ ان کے روزگار، عام لین دین اور شادی بیاہ کی خوشیوں سے جڑی روایات کا بھی اہم حصہ ہے۔
پشاور کے فوارہ چوک میں نوٹوں والا دلہے کا سہرا بنانے والے جاوید خان کے مطابق 10 روپے کا نوٹ صرف ہار بنانے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ عام شہریوں کے روزمرہ لین دین میں بھی اس کی اہمیت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹ کی بندش سے مارکیٹ میں مشکلات پیدا ہوں گی اور عام لوگوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جاوید خان کے بقول اگر روزانہ 2 سے 3 سو روپے مالیت کے سکے جمع ہونے لگیں تو انہیں سنبھالنا اور کاروبار میں استعمال کرنا مشکل ہوجائے گا۔ 10 روپے کا نوٹ غریب اور متوسط طبقے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ عام آدمی کے پاس ہر وقت 5 ہزار روپے کا نوٹ بھی نہیں ہوتا۔ ایسے میں 10 روپے کے چھوٹے نوٹ کی بندش اس کے لیے روزمرہ لین دین مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کے اس دور میں شادی بیاہ کی تقریبات میں ہار سہرا ایک سستا اور بامقصد تحفہ ہے۔ آج کل مٹھائی 1200 سے 1300 روپے فی کلو مل رہی ہے جبکہ 10 روپے کے نوٹوں سے تیار ہونے والا ایک سہرا 250 سے 300 روپے میں بن جاتا ہے۔ اس طرح تقریب میں شرکت کرنے والا شخص خالی ہاتھ بھی نہیں جاتا اور جسے سہرا پیش کیا جاتا ہے اسے تحفے کے ساتھ نقد رقم بھی مل جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دیدی، 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کا بھی فیصلہ
جاوید خان کے مطابق نوٹوں کے ہار پہنانا ہماری ثقافت اور معاشرتی روایات کا حصہ ہے۔ اس روایت کے خاتمے سے قومی معیشت کو کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوگا، البتہ چھوٹے کاروباریوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے پاس 20 سے 30 ہزار روپے مالیت کے نوٹوں والے ہار موجود ہیں۔ اگر 10 روپے کے نوٹ ختم ہوگئے تو ان کا کاروبار بھی متاثر ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دس روپے کا سکہ متعارف کرانے کے باوجود کاغذی نوٹ کی گردش بھی برقرار رکھی جائے۔
دوسری جانب شادی بیاہ اور دیگر خوشی کی تقریبات میں ڈھول بجانے والے نوید بھی 10 روپے کے نوٹ کی بندش کے فیصلے سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ انہیں خوشی کی تقریبات میں ڈھول بجانے کے لیے بلاتے ہیں اور بطور انعام 10 روپے کے کھلے نوٹ دیتے ہیں۔ 20 روپے کے نوٹ کے مقابلے میں لوگ 10 روپے کے نوٹ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ صاحبِ حیثیت افراد بھی اسی چھوٹے نوٹ کے ذریعے خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔
نوید کے مطابق اگر 10 روپے کا نوٹ ختم کرکے اس کی جگہ سکہ متعارف کرایا گیا تو ممکن ہے کہ کچھ لوگ اسے قبول کرلیں جبکہ کچھ اسے لینے سے گریز کریں۔ اس صورت حال میں ان کی روزانہ کی آمدن متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ پہلے اگر انہیں دن میں 2 سے 3 تقریبات میں ڈھول بجانے کا موقع مل جاتا تھا تو نوٹ کی بندش کے بعد یہ کام کم ہو کر صرف ایک تقریب تک محدود ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دیدی، 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کا بھی فیصلہ
ہار سہروں کا کاروبار کرنے والوں اور ڈھولچیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کے ساتھ کاغذی نوٹ کی گردش بھی برقرار رکھی جائے تاکہ قومی خزانے کی بچت کے ساتھ عام شہریوں، چھوٹے کاروباریوں اور محنت کشوں کے روزگار اور ثقافتی روایات کا بھی تحفظ کیا جاسکے۔










