پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے دسمبر اور جنوری میں ترسیل کے لیے ایل این جی کے 2 کارگو خریدنے کی بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ میں 4 روز کی توسیع کرتے ہوئے 10 نومبر مقرر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی ایل این جی کمپنیوں کی جانب سے نئے الیکٹرانک خریداری نظام ای پی اے ڈی ایس (EPADS) ورژن 2.0 میں تکنیکی خرابیوں اور بولیاں جمع کرانے میں مشکلات کی شکایات کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 6 نومبر تھی، جبکہ اب 10 نومبر کو ہی بولیاں کھولی بھی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے قطر کی جانب سے ایل این جی فراہمی میں رکاوٹ برقرار، سردیوں میں پاکستان کو گیس کی قلت کا خدشہ
پی ایل ایل نے 4 نومبر کو وزیراعظم کی منظوری کے بعد ایل این جی کے 2 کارگو خریدنے کے لیے عالمی کمپنیوں سے پیشکشیں طلب کی تھیں۔ ٹینڈر کے مطابق ایک کارگو 14 سے 16 دسمبر جبکہ دوسرا 9 سے 11 جنوری کے درمیان پاکستان پہنچایا جائے گا۔ حکام تکنیکی اور تجارتی بنیادوں پر بولیوں کا جائزہ لینے کے بعد خریداری کا فیصلہ کریں گے، تاہم تمام پیشکشیں مسترد کرنے کا اختیار بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ تاریخ میں توسیع کا مقصد زیادہ سے زیادہ عالمی کمپنیوں کی شرکت یقینی بنانا اور مسابقت کے ذریعے بہتر قیمتوں پر گیس حاصل کرنا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 32 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) تک پہنچ گئی ہیں۔ انشورنس، جنگی خطرات کے اضافی اخراجات، بحری کرایے اور بندرگاہ کے اخراجات شامل کرنے کے بعد پاکستان پہنچنے والی ایل این جی کی قیمت 33.50 سے 34 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک ہونے کا تخمینہ ہے۔ اتنی مہنگی گیس کی خریداری سے ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے حکومت کا نجی کمپنیوں کو براہ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور
پاکستان کو دسمبر میں ایل این جی کے 9 جبکہ جنوری میں 11 کارگو درکار ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات نے درآمدی منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حکام دونوں مہینوں کے لیے فی الحال 8 سے 10 کارگو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سردیوں میں گیس کی طلب بڑھنے کے پیش نظر حکومت بروقت درآمدی انتظامات مکمل کرنا چاہتی ہے، جبکہ نئی تاریخ کے تحت عالمی سپلائرز کو بولیاں جمع کرانے کے لیے مزید وقت مل سکے گا۔











