فری فلسطین ٹور: امریکا کے 9 بڑے کنسرٹ ہالز کا ریپر میکلمور کے شو کی میزبانی سے انکار

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے سخت ناقد اور معروف امریکی ریپر میکلمور نے جمعہ کے روز الزام عائد کیا ہے کہ نیویارک کے ہائی پروفائل ‘میڈیسن اسکوائر گارڈن’ سمیت امریکا کے کئی بڑے کنسرٹ ہالز نے ان کے ’فری فلسطین‘ ٹور کی میزبانی سے انکار کر دیا ہے۔

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریپر نے حال ہی میں یورپ کے 3 بڑے شہروں میں اپنے شوز کا پہلا مرحلہ مکمل کیا ہے۔

‘تھرفٹ شاپ’ (Thrift Shop) جیسے مشہور نغمے کے خالق میکلمور نے یہ مہم اگست میں اس وقت شروع کی تھی جب انہیں معروف موسیقار ایڈ شیران کے کنسرٹ ٹور سے الگ کر دیا گیا تھا۔ اس وقت میکلمور نے بتایا تھا کہ اسٹیڈیم انتظامیہ کو اسٹیج سے ان کی جانب سے ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگانے پر شدید اعتراض تھا۔

یہ بھی پڑھیے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج سے خطاب کرنے پر امریکا نے کولمبیا کے صدر کا ویزا منسوخ کردیا

سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں میکلمور نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد سے رواں سال کے اختتام تک دستیاب تاریخوں کے باوجود امریکا کے کم از کم 9 بڑے ہالز نے انہیں بکنگ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان ہالز میں نیویارک کا میڈیسن اسکوائر گارڈن اور لاس اینجلس کا ‘کیا فورم’ بھی شامل ہیں۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ’ان مقامات پر شوز منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ موسیقی کی دنیا میں گزشتہ 20 سالہ دوروں اور کیریئر کے دوران میں نے کبھی اس قسم کی صورتِ حال کا سامنا نہیں کیا۔‘

دوسری جانب، میڈیسن اسکوائر گارڈن کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی ‘ایم ایس جی انٹرٹینمنٹ’ کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ان کے ہالز ’دنیا کے مصروف ترین مقامات میں سے ہیں جہاں تاریخوں کی شدید قلت ہوتی ہے‘، نیز ان کے بقول ’میکلمور ایسے فنکار نہیں ہیں جو اتنے بڑے ایریینا میں شو کر سکیں‘۔ تاہم ‘کیا فورم’ کے نمائندوں نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ میکلمور نے حال ہی میں ڈبلن، پیرس اور لنڈن میں ’فری فلسطین‘ کنسرٹس کا انعقاد کیا تھا، جس سے حاصل ہونے والی تمام رقم ان تنظیموں کو عطیہ کی گئی جو فلسطینی عوام کی امداد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ گلوکار کا کہنا تھا کہ وہ اس مقصد کے لیے دیگر فنکاروں اور منتظمین کے ساتھ مل کر مزید شوز کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حامی امریکیوں میں اضافہ، تازہ ترین سروے

میکلمور نے امریکی رویے پر تنقید کرتے ہوئے مزید لکھا ’ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جو آزادیِ اظہارِ رائے پر فخر کرتا ہے، لیکن آج ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں چند ارب پتی افراد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سے نظریات قابلِ قبول ہیں، کن آوازوں کا خیرمقدم کیا جائے گا اور کن انسانوں کی زندگیوں کا دفاع کرنا جائز ہے۔‘

فلسطینی حکام کے مطابق، غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 74 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp