پاکستانی فلم ’میرا لیاری‘ نے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں منعقدہ معتبر لسٹاپاد انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اسپیشل جیوری ایوارڈ اپنے نام کر کے پاکستانی سنیما کے لیے ایک اور بین الاقوامی اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
ابو علیحہ کی تحریر و ہدایت کاری میں بننے والی فلم کی کہانی کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو معاشرتی پابندیوں اور خاندانی مخالفت کے باوجود فٹبالر بننے کا خواب پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔
لیاری کی بیٹی کے خواب نے عالمی فلمی میلے میں پذیرائی حاصل کر لی
فلم ’میرا لیاری‘ ایک ایسی نوجوان لڑکی کی حوصلہ مندانہ جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے، جو فٹبال کے کھیل سے غیر معمولی لگاؤ رکھتی ہے اور اسے اپنا مستقبل بنانے کی خواہش مند ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فلم ‘میرا لیاری’ کی تشہیر کے دوران دنانیر مبین کے لباس پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑگئی
تاہم اس کے خواب کی راہ میں خاندانی مخالفت، معاشرتی رویے اور خواتین کے لیے عائد مختلف سماجی پابندیاں رکاوٹ بنتی ہیں، لیکن وہ مشکلات کے باوجود اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح معاشرتی حدود اور روایتی سوچ کے باعث لڑکیوں کو اپنی پسند کے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ عزم، حوصلے اور مستقل جدوجہد کے ذریعے ان رکاوٹوں کو عبور کیا جا سکتا ہے۔
لیاری کا مثبت تشخص عالمی سطح پر اجاگر
’میرا لیاری‘ کی کہانی صرف ایک لڑکی کے فٹبالر بننے کے خواب تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے کراچی کے علاقے لیاری، وہاں کے رہائشیوں اور مقامی کمیونٹی کی زندگی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
فلم بین الاقوامی ناظرین کو لیاری کا ایک مختلف اور مثبت رخ دکھانے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ اس علاقے کو عام طور پر پائے جانے والے روایتی تصورات سے ہٹ کر وہاں کے لوگوں، ان کے خوابوں، صلاحیتوں اور جدوجہد کے تناظر میں دیکھا جا سکے۔
اس طرح فلم نے کھیل، خواتین کے سماجی کردار اور معاشرتی رکاوٹوں جیسے اہم موضوعات کو ایک مؤثر کہانی کی صورت میں پیش کیا ہے۔
عائشہ عمر اور وقاص رضوی کی مشترکہ پروڈکشن
فلم ’میرا لیاری‘ کی پروڈکشن عائشہ عمر اور وقاص رضوی نے کی ہے، جبکہ اس منصوبے کی تیاری میں حکومت سندھ نے بھی معاونت فراہم کی۔
ابو علیحہ کی تحریر و ہدایت کاری میں بننے والے اس منصوبے نے کراچی کے ایک مقامی علاقے سے جنم لینے والی کہانی کو بین الاقوامی فلمی منظرنامے تک پہنچایا ہے۔
بیلاروس کے لسٹاپاد انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اسپیشل جیوری ایوارڈ کا حصول فلم سے وابستہ تمام فنکاروں، پروڈیوسرز اور دیگر ٹیم ممبران کی کاوشوں کا اعتراف بھی ہے۔
پاکستانی سنیما کے لیے ایک اور بین الاقوامی کامیابی
’میرا لیاری‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ فلم نے مقامی معاشرتی پس منظر، خواتین کے خوابوں اور کھیل کے موضوع کو بین الاقوامی ناظرین کے سامنے پیش کیا ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی جھوٹ پر مبنی فلم دھرندھر کے جواب میں پاکستان کا ’میرا لیاری‘ فلم کا اعلان، شائقین پُرجوش
بیلاروس میں ملنے والا یہ اعزاز اس امر کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ مقامی ثقافت، سماجی مسائل اور انسانی جدوجہد پر مبنی کہانیاں عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
فلم کی کامیابی نے نہ صرف کراچی کے علاقے لیاری کو عالمی توجہ دلائی ہے بلکہ پاکستانی فلم سازوں کی تخلیقی کاوشوں کو بھی بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے۔











