انور مسعود کی دیوارِ گریہ

اتوار 8 نومبر 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

8 نومبر 1935 کو پنجاب کے ضلع گجرات میں پیدا ہونے والے ممتاز پاکستانی شاعر انور مسعود آج اپنی زندگی کی 91 بہاریں مکمل کر رہے ہیں۔ اردو، پنجابی اور فارسی زبانوں میں شعر کہنے والے انور مسعود کا شمار برصغیر کے نمایاں مزاحیہ شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری نے کئی نسلوں کو اپنے برجستہ مزاح، شگفتہ اسلوب اور منفرد طرزِ اظہار سے محظوظ کیا ہے۔ ان کی شخصیت اور فن کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ قاری کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے کے ساتھ اسے زندگی اور معاشرے کے سنجیدہ مسائل پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔

انور مسعود کی شاعری کا بنیادی وصف مزاح اور طنز ہے، تاہم ان کے کلام کو محض ظرافت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے ہاں مزاح کے پس منظر میں گہرا سماجی شعور، انسانی ہمدردی اور زندگی کا وسیع مشاہدہ موجود ہے۔ وہ روزمرہ زندگی کے معمولی واقعات، معاشرتی تضادات، انسانی کمزوریوں اور سماجی رویوں کو اس مہارت سے شعر کا موضوع بناتے ہیں کہ قاری بے اختیار مسکرانے کے ساتھ ان کے بیان کردہ مسئلے کی معنویت بھی محسوس کرتا ہے۔ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں ان کی شاعری نے مقبولیت حاصل کی، تاہم پنجابی شاعری میں ان کا عوامی رنگ، محاورے کا برمحل استعمال اور مقامی ثقافت کی بھرپور عکاسی انہیں ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔

ان کی سالگرہ کے موقع پر یہ تحریر اسی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے فن کے اس پہلو کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے جو قہقہوں کے شور میں اکثر نگاہوں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔

بڑے نمناک سے ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے

کوئی دیوارِ گریہ ہے ترے اشعار کے پیچھے

کچھ لوگ ہنسانے کا ہنر لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ وہ محفل میں آتے ہیں تو چہروں پر مسکراہٹیں بکھرنے لگتی ہیں، لفظوں سے شرارت پھوٹتی ہے، جملوں میں برجستگی کا جادو جاگتا ہے اور قہقہوں کی ایک لہر اٹھتی ہے جو دیر تک فضا میں گونجتی رہتی ہے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ لوگوں کو ہنسانے والے ان لوگوں کے اپنے اندر کیا گزرتی ہے؟ کیا ضروری ہے کہ جو شخص دوسروں کے لبوں پر پھول کھلانے کا ہنر جانتا ہو، اس کے اپنے دل میں بھی ہر وقت بہار رہتی ہو؟ کیا ہنسی ہمیشہ خوشی کا اظہار ہوتی ہے یا کبھی یہ اپنے اندر کے کسی دکھ پر ڈالا ہوا پردہ بھی ہوتی ہے؟

انور مسعود کی تخلیقی کائنات میں داخل ہوں تو یہ سوال بار بار سر اٹھاتے ہیں۔ بظاہر ان کے اشعار محفلوں کو زعفران زار بنادیتے ہیں، ان کے قطعات پر سامعین بے اختیار ہنستے ہیں اور برجستہ باتوں کی چاشنی مدتوں لوگوں کی زبان پر رہتی ہے۔ لیکن ان کے اپنے کلام میں ایک ایسی اداسی بھی سانس لیتی ہے جسے محض شاعر کا تعارف پڑھ کر محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے قہقہوں میں ایک نمی ہے، ان کی شرارتوں میں ایک سنجیدہ مشاہدہ اور ان کی ظرافت میں ایک ایسا درد پوشیدہ ہے جو کبھی کبھی پوری شدت سے سامنے آجاتا ہے۔ اس درد کی سب سے خوبصورت اور شاید سب سے مستند گواہی خود انور مسعود کا اپنا شعر ہے:

جو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہے

رونے کو چھپانا ہوتا ہے

یہ شعر ان کی شاعری کے سفر کا نقطہ آغاز اور ایک طرح سے ان کی زندگی کا منشور بھی ہے۔ انور مسعود نے راقم کو بتایا تھا کہ اٹھارہ برس کی عمر میں، جب وہ زمیندار کالج گجرات میں انٹرمیڈیٹ کے طالبعلم تھے، انھوں نے اپنی پہلی نظم لکھی تھی۔ اس نظم کا یہی شعر ان کے حافظے کا قیمتی سرمایہ بن گیا۔ بعد میں زندگی کے تجربات نے اس خیال کو ان کے فن کا مستقل حوالہ بنا دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی شاعری کے سفر کی بنیاد بھی یہی شعر ہے۔

اس خیال کی بازگشت ان کی پنجابی شاعری میں بھی سنائی دیتی ہے:

میں رہیا انور سدا زخماں تے پردے تاندا

لوک بھُلیں پے گئے بلھاں تے ہاسا ویکھ کے

(یعنی لوگ میرے ہونٹوں پر ہنسی دیکھ کر غلط فہمی میں مجھے خوش سمجھتے رہے)

فارسی میں بھی انور مسعود نے اسی کیفیت کو بیان کیا ہے:

جز بخندیدن برایم چارہ دیگر نماند

سخت مشکل بود انور درد پنہان داشتن

(مفہوم یہ کہ درد کو چھپانے کے لیے ہنسنے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہ رہا، کیونکہ درد کو چھپانا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔)

اردو، پنجابی اور فارسی، اظہار کے تین الگ پیرائے ہیں، لیکن احساس ایک ہی ہے۔ یہاں انور مسعود کا مزاح محض ہنسانے کا وسیلہ نہیں رہتا بلکہ ایک حساس انسان کی داخلی کیفیت کا اظہار بن جاتا ہے۔ ان کا یہ شعر بھی اسی کیفیت کی ترجمانی کرتا ہے:

میں ہنستے ہنستے انور رو پڑا ہوں

مرا یہ حال اکثر ہو گیا ہے

اور پھر ایک اور شعر میں اسی کیفیت کو کس قدر دل نشین انداز میں بیان کرتے ہیں:

کھل کے رو لینے کی فرصت پھر نہ اُس کو مل سکی

آج پھر انورؔ ہنسے گا بے تحاشا دیکھنا

یہاں ہنسی کسی خوش گوار لمحے کا نام نہیں، ایک ایسی مجبوری کا استعارہ ہے جس میں انسان اپنے آنسوؤں کو چھپانے کے لیے مسکرانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

انور مسعود کے نزدیک یہ درد صرف ان کی ذات تک محدود نہیں۔ وہ اسے اپنی زندگی، بحرانوں میں گھرے اپنے وطن اور دنیا کے اس نظام سے بھی جوڑتے ہیں جہاں ظلم اب بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔

شاعری انھیں ورثے میں ملی۔ ان کی نانی اماں کرم بی بی عاجز بھی شاعرہ تھیں۔ ان کا حمدیہ اور نعتیہ کلام درد و کرب سے لبریز تھا۔ انور مسعود کے تایا مولوی عبد اللطیف افضل اردو اور پنجابی کے سنجیدہ اور مزاحیہ شاعر تھے۔ یوں شاعری ان کے لیے کسی اجنبی دنیا کا دروازہ نہیں تھی بلکہ گھر کے ماحول، بزرگوں کی صحبت اور خاندانی روایت کا حصہ تھی۔

وہ اپنے ددھیال اور ننھیال سے ملنے والی حوصلہ افزائی اور دعاؤں کو اپنی ادبی زندگی کا سرمایہ قرار دیتے ہیں۔ اپنے اس سفر کو وہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور قبولِ خاطر سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس پذیرائی سے ان کی شاعری کو نوازا گیا، اس پر وہ رب کریم کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

لیکن ان کی زندگی کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں رہا۔ ان کے والد کا میلان تصوف کی طرف ہوگیا اور وہ دنیاوی مصروفیات سے کچھ کٹ گئے تھے۔ اس صورتحال میں گھر کی بہت سی ذمہ داریاں کم عمری ہی میں انور مسعود کے کندھوں پر آن پڑیں۔ وہ اسے اپنی زندگی کا کٹھن دور قرار دیتے ہیں، تاہم ان کے بقول اسی زمانے نے انھیں صبر، حوصلہ اور زندگی کو سمجھنے کا ہنر عطا کیا۔

شاید یہی وہ تجربات تھے جنہوں نے ان کے مشاہدے کو گہرائی دی۔ زندگی کی ناہمواریوں سے گزرنے والا شخص جب معاشرے کو دیکھتا ہے تو اسے صرف ظاہری صورتحال دکھائی نہیں دیتی، وہ اس کے پیچھے چھپے تضادات، محرومیاں اور انسانی رویے بھی پڑھنے لگتا ہے۔ انور مسعود کی شاعری میں یہی بصیرت بار بار سامنے آتی ہے۔

ان کے استاد چوہدری فضل حسین، جو زمیندار کالج گجرات کے سابق پروفیسر اور پرنسپل تھے، اور معروف پنجابی شاعر پیر فضل حسین گجراتی نے انھیں پنجابی میں شعر کہنے کی مخلصانہ ترغیب دی۔ انور مسعود اپنی زبانوں کے حوالے سے ایک واضح نسبت رکھتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں پنجابی ان کی مادری بولی ہے، اردو ان کی قومی اور ان کے بچوں کی مادری زبان جبکہ فارسی تدریسی زبان ہے۔

ان کی پنجابی شاعری کے پہلے مجموعے ’میلہ اکھیاں دا‘ کی اب تک 76 اشاعتیں ہوچکی ہیں۔ یہ تعداد ان کی شاعری کی غیر معمولی عوامی مقبولیت کا اظہار ہے۔ انور مسعود اس پذیرائی کو اپنے خالق کی عطا سمجھتے ہیں۔

ان کی پنجابی شاعری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ  قومی ترانے کے خالق ابو الاثر حفیظ جالندھری نے ایک مرتبہ کہا تھا: ’انور مسعود کی پنجابی شاعری میری حسرتِ اظہار ہے۔‘

انور مسعود کے اندر کا مزاحیہ شاعر کس لمحے سامنے آیا؟ اس سوال کا جواب بھی دلچسپ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب ایف اے میں پڑھتے تھے تو پہلی مرتبہ انگریزی شاعری سے تعارف ہوا۔ اس مطالعے نے ان کے زاویہ نظر کو وسعت دی۔ اسی زمانے میں انھوں نے بچپن کے موضوع پر ایک نظم لکھی، کیونکہ بچپن رخصت ہوچکا تھا لیکن اس کی یادیں دل کو ستاتی تھیں۔ اس نظم کا شعر ’جو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہے، رونے کو چھپانا ہوتا ہے‘ ان کے لیے ہمیشہ خاص رہا۔ تاہم مزاحیہ شاعری کا باقاعدہ آغاز ایک قطعے سے ہوا، جس کا موضوع رویتِ ہلال کمیٹی تھی:

چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہلِ ہمت

ان کو یہ دھن ہے کہ اب جانبِ مریخ بڑھیں

ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند ہمیں

ہم اسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں یا نہ پڑھیں

انور مسعود کے بقول انھوں نے اس سے پہلے کبھی مزاحیہ شعر نہیں کہا تھا۔ اس قطعے کے بعد انھیں احساس ہوا کہ ان کے اندر مزاح لکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ یوں ان کی مزاحیہ شاعری کا سفر ’چاند‘ سے شروع ہوا۔

اس سفر میں ان کا سب سے بڑا ہتھیار لفظوں پر گرفت، روزمرہ زندگی کا مشاہدہ اور غیر متوقع صورتحال سے نئے معنی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ وہ عام بول چال، انسانی رویوں اور معمولی واقعات میں بھی شعر کا امکان تلاش کر لیتے ہیں۔ کبھی لفظی رعایت سے کام لیتے ہیں اور کبھی کسی مانوس صورتِحال کو ایسے زاویے سے پیش کرتے ہیں کہ قاری بے اختیار مسکرا اٹھتا ہے۔ ان کی شاعری کی یہی خوبی اسے عام آدمی کے گھروں، بازاروں، گلیوں اور محفلوں سے جوڑتی ہے۔

ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ

قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ

بلی تو یونہی مفت میں بدنام ہوئی ہے

تھیلے میں تو کچھ اور تھا سامان وغیرہ

یا پھر یہ قطعہ:

شوگر نہ ہو کسی بھی مسلماں کو اے خدا

مشکل سا اک سوال ہے یہ بھی حساب کا

انور مری نظر کو یہ کس کی نظر لگی

گوبھی کا پھول مجھ کو لگے ہے گلاب کا

ان کی روزمرہ زندگی کے مشاہدے کی ایک اور مثال دیکھیے:

میرے پانی میں ملا اور ذرا سا پانی

میری عادت ہے کہ پیتا ہوں میں پتلا پانی

مجھ کو شوگر بھی ہے اور پاس شریعت بھی ہے

میری قسمت میں نہ میٹھا ہے نہ کڑوا پانی

انور مسعود کا مزاح صرف ہنسانے کے لیے نہیں۔ وہ اپنے عہد کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی تضادات پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں جمہوریت، مہنگائی، بجٹ، سیاست دانوں، زرد صحافت اور طبقاتی تقسیم پر ایسے اشعار ملتے ہیں جو بظاہر قہقہہ پیدا کرتے ہیں لیکن اپنے اندر ایک سنجیدہ سوال بھی رکھتے ہیں۔ جمہوریت پر ان کا یہ قطعہ دیکھیے:

جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ

جو ووٹ اِدھر کے ہیں وہ ہو جائیں اُدھر کے

ہوتے ہیں سیاست میں یہ امکان وغیرہ

اس قطعے میں لفظوں کی ظرافت کے ذریعے سیاسی وفاداریوں کی خرید و فروخت اور انتخابی نظام کے تضادات پر چوٹ کی گئی ہے۔ سیاست اور سماجی نظام کے ساتھ ساتھ وہ عدالتی اور معاشرتی صورتحال پر بھی اپنے مخصوص انداز میں چوٹ کرتے ہیں:

تو کچہری میں پیشیاں بھگتے

کوئی منصف تجھے بری نہ کرے

نکلے گھر سے ترے کلاشنکوف

تو پُلس کے مقابلے میں مرے

چند مصرعوں میں قانون، انصاف اور طاقت کے مختلف رویوں پر طنز کیا گیا ہے۔ انور مسعود کا کمال یہ ہے کہ وہ سنجیدہ موضوع کو بھی اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ شعر اپنی برجستگی اور طنز دونوں برقرار رکھتا ہے۔ اسی طرح کرپشن اور اس سے وابستہ ذہنیت پر ان کا یہ قطعہ دیکھیے:

یہی تو دوستو لے دے کے میرا بزنس ہے

تمہیں کہو کہ میں کیوں اس سے توڑ لوں ناطہ

کروں گا کیا جو کرپشن بھی چھوڑ دی میں نے

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

یہ قطعہ اس ذہنیت پر طنز ہے جس میں بدعنوانی کو پیشہ اور ناجائز کمائی کو کاروبار سمجھ لیا گیا ہے۔ اسی طرح سرکاری نظام، سفارش اور اقربا پروری پر ان کے ہاں ایک نہایت دلچسپ شعر ملتا ہے:

صرف محنت کیا ہے انور کامیابی کے لیے

کوئی اوپر سے بھی ٹیلیفون ہونا چاہیے

یہ شعر اس نظام پر چوٹ ہے جہاں محنت کے ساتھ سفارش کو بھی کامیابی کی شرط سمجھا جاتا ہے۔ بجٹ کے نام پر عوام کو ملنے والی معاشی اذیت کو وہ اپنے مخصوص انداز میں بیان کرتے ہیں:

بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے

انوکھے انوکھے خسارے ترے

اللے تللے اُدھارے ترے

بھلا کون قرضے اُتارے ترے

پھر مہنگائی کا ذکر ہو تو ان کے ہاں اشیا کی قیمتیں محض اعداد نہیں رہتیں، انسانی زندگی کے ذائقے بدل دیتی ہیں:

چینی کا نرخ سن کے ہوا ہے یہ ماجرا

میری زباں کا ذائقہ کڑوا سا ہو گیا

پٹرول کی بڑھی ہے جو قیمت تو ایک دم

میرا بدن تو آگ بگولا سا ہو گیا

چینی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو انھوں نے عام آدمی کی روزمرہ کیفیت سے جوڑ کر مزاح کا رنگ دے دیا ہے۔ صحافت بھی ان کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہتی۔ زرد صحافت پر ان کے اشعار دراصل اس پیشے کے انحرافات پر ایک کھلا تبصرہ ہیں:

بھیانک خواب دیکھا ہے کہ یا اخبار دیکھا ہے

یہاں ہم نے صحافت کا یہی معیار دیکھا ہے

خبر بھی اب تو اک جنسِ تجارت بن گئی انور

صحافت تو کہاں دیکھی ہے، کاروبار دیکھا ہے

اس قطعے میں خبر کے کاروبار بن جانے اور صحافت کے اپنے بنیادی مقصد سے دور ہونے پر طنز کیا گیا ہے۔ انور مسعود اپنے عہد کی تبدیلیوں اور معاشرتی رویوں سے باخبر رہتے ہیں اور انھیں شعر کا موضوع بناتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک اور شعر قابلِ ذکر ہے:

اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے

اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی

یہ شعر خبر پڑھ کر واقعے سے لاتعلق ہوجانے کے جدید رویے اور انسانی بے حسی کو نمایاں کرتا ہے۔ انور مسعود کے نزدیک مزاح اور طنز کی اپنی حدود اور آداب ہیں۔ وہ طنز کو محض تلخی اور تضحیک میں تبدیل نہیں ہونے دیتے۔ ان کے ایک شعر میں اسی فن کا اعتراف موجود ہے:

شیرینیِ مزاح میں اُس کو لپیٹ کر

انور نے طنز کو بھی گوارا بنا دیا

یہی ان کے اسلوب کی بنیادی خوبی ہے۔ وہ تلخ بات کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ سننے والا اس سے بدکنے کے بجائے پہلے مسکراتا ہے، پھر اس کے مفہوم پر غور کرتا ہے۔

انور مسعود کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے ان کے معاصرین نے بھی اس پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ معروف نقاد ڈاکٹر اسلم انصاری نے انھیں اردو کی مزاحیہ شاعری کا ’فیملی چینل‘ قرار دیا۔ ان کے نزدیک انور مسعود کی شاعری ایسی ہے جسے بیوی بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ بیٹھ کر سنا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم انصاری لکھتے ہیں کہ انور مسعود کے ہاں الفاظ اور مصرعوں سے غیر متوقع معنی پیدا کرنے کی حیران کن صلاحیت ہے۔ ان کے قطعات میں اچانک پن اور برجستگی ایسی ہے کہ قاری حیران رہ جاتا ہے۔ ان کے معاشرتی طنز میں شائستگی کا پہلو نمایاں رہتا ہے۔

انور مسعود کی شاعری میں یہی شائستگی اور برجستگی انھیں دوسرے مزاح نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بھی اپنے اسلوب کا تہذیبی وقار برقرار رکھتے ہیں۔

سید ضمیر جعفری کے نزدیک انور مسعود کی بڑی تخلیقی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے کشمکش کو شگفتگی میں تبدیل کیا۔ وہ زندگی کی تلخی کو اس طرح شعر میں ڈھالتے ہیں کہ قاری پہلے مسکراتا ہے، پھر اس مسکراہٹ کے پس منظر میں موجود حقیقت پر غور کرنے لگتا ہے۔ ان کے قطعات کے مطالعے کے دوران میری روح پر ایک ایسی شبنم قطرہ زن رہی ہے جیسے وہ سرگوشی کر رہی ہو کہ خدا کی بہترین تخلیق خوبصورت پھول یا خوبصورت عورت ہی نہیں ۔ ۔ ۔ سچا شاعر بھی خدا کی بہترین تخلیق ہے۔

مشتاق احمد یوسفی نے انور مسعود کی شاعری کے فنی محاسن پر جس باریک بینی سے اظہارِ خیال کیا، وہ اپنی جگہ ایک اہم ادبی گواہی ہے۔ یوسفی نے ان کے ہاں سادگی اور پرکاری، وسیع مطالعے، گہرے مشاہدے، تازہ کاری اور رعایتِ لفظی پر قدرت کو نمایاں کیا۔ ان کے نزدیک انور مسعود کے لفظ میں کاٹ ہے، لیکن یہ کاٹ کسی مصنوعی تکلف سے پیدا نہیں ہوتی۔

یوسفی صاحب نے انھیں ’ہمارے عہد کا نظیر اکبر آبادی‘ قرار دینے کے امجد اسلام امجد کے خیال کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے نزدیک انور مسعود کی عوامی مقبولیت، موضوعات کا تنوع اور عوامی آہنگ انھیں ایک منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔ غیرمتوقع معنویت پیدا کرنے کی صلاحیت وہ فنی وصف ہے جس کے باعث ان کے بظاہر سادہ اشعار سامع کو چونکا دیتے ہیں۔

Sirf tumhara

اب دیوارِ گریہ کی طرف لوٹتے ہیں، جہاں شگفتہ لہجے کی اوٹ میں چھپے دکھ آہستہ آہستہ نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

انور مسعود کی اہلیہ پروفیسر صدیقہ انور سے ان کی رفاقت پچپن برس پر محیط تھی۔ انور مسعود بتاتے ہیں کہ صدیقہ انور کو قرآن سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ بچوں کو قرآن پڑھاتی تھیں اور درس بھی دیتی تھیں۔ ان کا انتقال رمضان کے مہینے میں ہوا۔ اس جدائی کو انور مسعود نے ایک شعر میں یوں سمیٹا:

خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ

ہم نے سونا سپردِ خاک کیا

شعر پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ بعض اوقات چند الفاظ ہی بڑے سے بڑے دکھ کو بیان کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ سونا، جو انسان کی زندگی میں قیمتی ترین اشیا میں شمار ہوتا ہے، یہاں ایک ایسی ہستی کا استعارہ بن جاتا ہے جس کی جگہ کوئی دوسری چیز نہیں لے سکتی۔

شادی کے بعد جب دونوں کے رہنے کے مقامات الگ الگ تھے تو انور مسعود اپنی اہلیہ کو خطوط لکھا کرتے تھے۔ یہ خطوط بعد میں کتابی صورت میں ’صرف تمہارا‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔ ان مکاتیب میں ان کی زندگی کے پچپن برس کی یادیں اور احوال محفوظ ہیں۔ اس رفاقت کے اختتام پر ان کے یہ اشعار دل چیر دیتے ہیں:

دل میں ہے اُس کی یاد کی خوشبو بسی ہوئی

کیا پھول تھا کہ شاخِ زماں سے اُتر گیا

لگتا ہے یوں کہ چند مہینوں کی بات تھی

پچپن برس کا عہدِ رفاقت گزر گیا

انور نے جس گھڑی بھی صدیقہ کے واسطے

دستِ دعا اُٹھایا تو اشکوں سے بھر گیا

یہاں انور مسعود کے اسی ابتدائی شعر کی معنویت ایک بار پھر سامنے آتی ہے کہ بعض قہقہوں کے پیچھے رونے کو چھپانا ہوتا ہے۔ دل ٹوٹنے، بچھڑنے اور یاد کے باقی رہ جانے کا احساس ان کے ہاں ایک اور شعر میں بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے:

دل جو ٹوٹے گا تو اک طرفہ چراغاں ہوگا

کتنے آئینوں میں وہ شکل دکھائی دے گی

اور جدائی کے اسی موسم کو وہ ایک اور شعر میں یوں بیان کرتے ہیں:

پلکوں کے ستارے بھی اُڑا لے گئی انور

وہ درد کی آندھی کہ سر شام چلی تھی

یہاں درد صرف ایک لمحے کا نام نہیں، ایک ایسی آندھی ہے جو گزر جانے کے بعد بھی اپنی نشانیاں چھوڑ جاتی ہے۔ شاید اسی لیے ان کا یہ شعر بھی اتنا گہرا محسوس ہوتا ہے:

زخم تو خیر بھر گئے انور

لیکن ان کے نشان رہتے ہیں

انور مسعود کی تخلیقی دنیا صرف اردو اور پنجابی تک محدود نہیں۔ فارسی زبان سے ان کی وابستگی بھی ان کے ادبی مزاج کا حصہ ہے۔ ان کے فارسی مجموعے کا نام ’پایانِ سفر نیست‘ ہے، یعنی سفر کا اختتام نہیں۔ وہ اس عنوان کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سفر ہی اصل منزل ہے۔ یہ سفر جاری رہا اور آج تک جاری ہے۔ اسی مجموعے میں ان کا ایک شعر ہے:

بسے دارم اُطاقِ خواب انورؔ

ولیکن خواب در دیدہ ندارم

یعنی میرے پاس سونے کے لیے بہت سے کمرے ہیں، لیکن میری آنکھوں میں نیند نہیں۔ یہاں آسائش کی موجودگی کے باوجود سکون کی عدم موجودگی کا گہرا تضاد سامنے آتا ہے۔ کمرے بہت ہیں، لیکن آنکھوں سے نیند غائب ہے۔ بظاہر سادہ سا خیال انسانی زندگی کی ایک بڑی حقیقت بیان کرتا ہے۔

انور مسعود کی پنجابی شاعری کا ذکر ہو تو ان کی نظم ’مزاح نگار‘ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ نظم ان کے فن اور مزاح کے تصور کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔ اس میں مزاح نگار کی زندگی کو ایک ایسی مشقت سے تشبیہ دی گئی ہے جس میں وہ دوسروں کے لیے ہنسی پیدا کرنے کی خاطر خود تپش اور تکلیف برداشت کرتا ہے:

مزاح نگار:

ہس ہس جر دے

تتیاں ریتاں

دھن مکئی دے دانے

جیویں جیویں

بھانبھڑ مچدا جاوے

ہندے جان مکھانےٖ

اس مختصر نظم میں ایک پوری تخلیقی نفسیات چھپی ہوئی ہے۔ جیسے گرم ریت میں مکئی کے دانے تپش برداشت کرکے پھول کر مکھانے بن جاتے ہیں، اسی طرح مزاح نگار بھی زندگی کی تپش، دکھ اور تلخی کو اپنے اندر جذب کرکے دوسروں کے لیے شگفتگی پیدا کرتا ہے۔ یہ نظم دراصل انور مسعود کی اپنی شاعری کا استعارہ محسوس ہوتی ہے۔

ان کے ہاں مزاح کے ساتھ درد کا رشتہ محض ذاتی زندگی تک محدود نہیں۔ وہ انسانی دکھ، معاشرتی بے حسی، ماحول کی خرابی اور عام آدمی کی محرومیوں کو بھی اپنے کلام میں جگہ دیتے ہیں۔ ماحولیات اور انسانی ذمہ داری کے حوالے سے ان کا یہ شعر دیکھیے:

تیرا اپنا ہی کیا آیا ہے تیرے سامنے

تو اگر بیمار پڑ جائے تو واویلا نہ کر

میں بتاتا ہوں تجھے صحت کا بنیادی اصول

جس ہوا میں سانس لیتا ہے اسے میلا نہ کر

یہاں شاعر کا مزاح ایک سنجیدہ سماجی پیغام میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ انسان اپنی صحت کے لیے پریشان تو ہوتا ہے لیکن جس ماحول میں سانس لیتا ہے، اسے آلودہ کرنے سے باز نہیں آتا۔ انور مسعود اس تضاد کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور اصلاح کا راستہ بھی دکھاتے ہیں۔ اسی طرح کسان، موسم اور فطرت کے ساتھ انسان کے تعلق کو وہ ایک مختلف کیفیت میں بیان کرتے ہیں:

کیسی کیسی پرسشیں انور رلاتی ہیں مجھے

کھیتیوں سے کیا کہوں میں ابر کیوں برسا نہیں

یہ شعر کسی کسان کے دکھ، خشک کھیتوں اور بے رحم موسم کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں سوال صرف بارش کا نہیں بلکہ اس انسان کی بے بسی کا ہے جس کی زندگی کا انحصار آسمان کی طرف دیکھنے پر ہے۔

انور مسعود کی شاعری میں غم اور محرومی کے حوالے سے ایک اور شعر ان کے مزاحیہ مزاج کے پیچھے چھپی سنجیدگی کو نمایاں کرتا ہے:

حاصل یہی جاگیر ہے بے شرکتِ غیرے

انور جو مرا غم ہے وہی صرف مرا ہے

یہاں غم کو جاگیر کہنا ایک غیر معمولی تخلیقی ترکیب ہے۔ دنیا کی جائیداد میں شراکت دار پیدا ہوسکتے ہیں، لیکن انسان کا ذاتی دکھ ایسا اثاثہ ہے جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا۔ اس شعر میں وہی تنہا اور حساس انسان دکھائی دیتا ہے جو ہنسی کے ہجوم میں بھی اپنے دکھ کے ساتھ موجود رہتا ہے۔

ان کی شاعری میں ایسے کئی مقامات ہیں جہاں ہنسی، دکھ، تنہائی اور زندگی کے تجربات ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جاسکتے۔ ان کا مزاح زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کے ساتھ مکالمہ ہے۔ وہ تلخیوں کو دیکھتے ہیں، ان سے متاثر ہوتے ہیں اور پھر انھیں اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری کے لیے ان پر ہنسنا بھی ممکن ہوتا ہے اور سوچنا بھی۔

اپنی شاعری کے بارے میں خود ان کا کہنا ہے کہ شدید گھٹن کے اس دور میں مزاح ہی ایک ایسا دریچہ ہے جو فراوانی کے ساتھ آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ اگر ہنستے ہنستے تارِ احساس بھی تھرتھرا اٹھے تو ان کے نزدیک مزاح کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔

وہ حرفِ سادہ کو گرہ دار بنانے سے حتی الامکان گریز کے قائل ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسا کرتے ہوئے شاعر کو آرائشِ عروسِ سخن سے بیگانہ نہیں ہونا چاہیے۔ فنی پیش کش میں جمال آفرینی ان کے نزدیک پہلی شرط ہے۔ شاید اسی لیے ان کے ہاں مزاح کبھی محض لفظی شعبدہ گری نہیں بنتا۔ اس کے پیچھے مطالعہ، مشاہدہ، زبان کا شعور اور ایک ایسا حساس دل موجود رہتا ہے جو اپنے عہد کے دکھوں سے بے خبر نہیں۔

انور مسعود کی شاعری میں ایک طرف مہنگائی سے پریشان عام آدمی ہے، دوسری طرف اقتدار کی کرسی کے گرد گھومتے کردار۔ ایک طرف زرد صحافت ہے تو دوسری طرف معاشرتی منافقت۔ کہیں مذہبی اور سماجی رویوں پر طنز ہے تو کہیں انسانی تنہائی اور رشتوں کے بچھڑنے کا دکھ۔ ان کا یہ شعر دیکھیے:

سمٹ رہے ہیں ستاروں کے فاصلے انورؔ

پڑوسیوں کو مگر کوئی جانتا بھی نہیں

یہاں وہ جدید دنیا کی ایک ایسی حقیقت بیان کرتے ہیں جسے ہم روز محسوس کرتے ہیں۔ فاصلے سمٹ رہے ہیں، لیکن اپنے ہی پڑوس میں رہنے والے انسان سے ہمارا تعارف نہیں۔ اسی طرح ان کی نظم ’گھر‘ میں چند مصرعے پوری انسانی زندگی کو ایک مشترکہ دکھ میں سمیٹ لیتے ہیں:

چھپے ہیں اشک دروازوں کے پیچھے

چھتوں نے سسکیاں ڈھانپی ہوئی ہیں

دکھوں کے گرد دیواریں چنی ہیں

بظاہر مختلف شکلیں ہیں سب کی

مگر اندر کے منظر ایک سے ہیں

بنی آدم کے سب گھر ایک سے ہیں

یہاں انور مسعود کا وہ سنجیدہ اور درد آشنا شاعر سامنے آتا ہے جسے صرف مزاحیہ شاعری کے حوالے سے پہچاننا ان کے فن کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر گھر کی بیرونی صورت مختلف ہوسکتی ہے، لیکن اس کے اندر چھپی ہوئی محرومیاں، خواہشیں اور آنسو اکثر ایک جیسے ہوتے ہیں۔

ان کی ظرافت کے پیچھے یہی انسانی مشاہدہ کام کرتا ہے۔ وہ کسی کردار کا مذاق اڑانے سے زیادہ اس رویے کو بے نقاب کرتے ہیں جو معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔

وہ کہا کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کے ہونٹوں سے باتیں لے کر ان کے کانوں کو واپس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات ان کی شاعری کی عوامی مقبولیت کی ایک خوب صورت وضاحت ہے۔ وہ اجنبی زبان نہیں بولتے، عام آدمی کے روزمرہ تجربات کو شعر کا حصہ بناتے ہیں اور پھر وہی عام سی بات ایک نئے زاویے سے سامنے آتی ہے:

جم نہ جائے خیال کی قلفی

آمدِ فصلِ برفباری ہے

تیرا رنگِ مزاح بھی انور

ایک اسلوبِ آہ و زاری ہے

اس شعر میں خیال کی قلفی، برفباری اور مزاح کے آہ و زاری بن جانے کی ترکیبیں ایک دوسرے سے مل کر ایک منفرد کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ یہ انور مسعود کی وہی فنی دنیا ہے جہاں لفظوں کی شگفتگی کے پیچھے کوئی نہ کوئی سنجیدہ احساس موجود رہتا ہے۔

انور مسعود کے فن کو سمجھنے کے لیے مختار مسعود کی کتاب ’آواز دوست‘ کا ایک جملہ بھی ذہن میں آتا ہے: ’اچھے لوگ انعام کے طور پر عطا کیے جاتے ہیں، ان کا ہونا دامنِ دل کو کھینچتا ہے۔‘

یہ جملہ انور مسعود کی شخصیت کے حوالے سے بھی بہت بامعنی محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنے کلام سے لوگوں کو خوشی دیتے ہیں، اپنی گفتگو سے محفل کو گرماتے ہیں اور اپنے طرزِ اظہار سے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ ایسے لوگ محض اپنے فن کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی موجودگی کی وجہ سے بھی یاد رکھے جاتے ہیں۔

انور مسعود کی شاعری میں مزاح کے ساتھ جو سنجیدگی موجود ہے، وہ کسی مصنوعی فلسفے کا نتیجہ نہیں بلکہ زندگی کے مشاہدے، تجربے اور انسانی دکھ سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے ان کے اشعار میں قہقہہ بھی اجنبی نہیں لگتا اور آنسو بھی غیر متوقع محسوس نہیں ہوتے۔

انور مسعود کی دیوارِ گریہ شاید کسی ایک شخص کے دکھ کی دیوار نہیں۔ اس کے پیچھے ایک شاعر کی ذاتی زندگی بھی ہے، اس کے بچھڑے ہوئے رشتے بھی، معاشرے کے دکھ بھی، وطن کے بحران بھی اور اس دنیا کا وہ منظر بھی جہاں انسان اپنے زخم چھپانے کے لیے مسکرانے پر مجبور ہے۔

شاعر نے اپنے لیے جو راستہ چنا، وہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا راستہ تھا۔ وہ محفل میں آئے تو لوگ ہنسے، شعر سنایا تو قہقہے بلند ہوئے، لیکن ان کے اپنے الفاظ میں اس ہنسی کے پیچھے رونے کو چھپانے کی ایک داستان بھی موجود ہے۔

شاید اسی لیے انور مسعود کی شاعری سنتے ہوئے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم صرف ایک مزاحیہ شاعر کو نہیں سن رہے، ایک ایسے شخص کی باتیں سن رہے ہیں جس نے زندگی کی تلخیوں کو اپنے اندر جذب کرکے دوسروں کے لیے شگفتگی پیدا کی ہے۔ اور پھر وہ شعر یاد آتا ہے جس میں اس پوری داستان کا خلاصہ موجود ہے:

دیکھ سب کے قہقہے اشکوں میں ہیں بھیگے ہوئے

دیکھ انور بزم میں ایسے نہ تو اشعار پڑھ

یہ محض ایک شاعر کی اپنی کیفیت کا بیان نہیں، شاید ان تمام لوگوں کی کہانی ہے جو دنیا کے سامنے ہنستے ہیں اور اپنے اندر نجانے کتنے دکھ لیے پھرتے ہیں۔ واقعی، ان قہقہوں کے پیچھے کوئی دیوارِ گریہ ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لگژری گاڑیوں پر ٹیکس ریلیف نہیں ملے گا، متوسط طبقے کو سہولت دیں گے، مصدق ملک

پولینڈ میں ایک شخص کی اندھا دھند فائرنگ،5 افراد ہلاک، درجن سے زیادہ زخمی

ایران کے زمینی اور بحری راستوں کی نگرانی بڑھانے کے لیے امریکا کا نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

ایران کے ایٹمی راز بتانے والے کو 20 ملین ڈالر اور محفوظ پناہ دی جائے گی، امریکا کا اعلان

طالبان ترجمان ذبیع اللہ کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا، 2 ہزار دہشتگردوں کی موجودگی برقرار

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟