سوات کے باغبان آڑو کے باغ کاٹنے پر کیوں مجبور ہورہے ہیں؟

پیر 7 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوں تو پاکستان کے تقریباً ہرعلاقے میں ہی آڑو پیدا ہوتاہے، مگر سوات کے آڑو جیسی بات کہیں بھی نہیں۔ کہیں سے سرخ اور کہیں سے زرد رنگ کی جھلکیاں دکھاتا یہ پھل نہ صرف ظاہری خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے بلکہ ذائقہ کے اعتبار سے بھی کوئی ثانی نہیں رکھتا۔

سوات جیسا لذیز آڑو دنیا میں کہیں بھی نہیں

محکمہ زراعت کے ضلعی ڈائریکٹر برائے لوئر سوات ڈاکٹر جان محمد کے مطابق آڑو صوبہ سندھ کے علاوہ پاکستان کے تینوں صوبوں میں اگایا جاتا ہے مگر سوات کے آڑو کا ذائقہ ہی نرالا ہے۔ اس کی بنیاد وجہ سوات کی مٹی ہے جو نہ صرف زرخیز ہے بلکہ آڑو کی پیداوار کے لیے موزوں ترین بھی ہے۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوات جیسا مزیدار آڑو دنیا میں کہیں اور پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سوات کی زرخیز مٹی کے علاوہ یہاں کا درجہ حرارت اور موسمی حالات ہیں جو رس بھرے آڑو پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر سوات میں آڑو کی 8  بڑی اقسام کاشت ہوتی ہیں جن کے آگے مزید چھوٹی اقسام بھی ہیں۔ ان اقسام کو اس طریقے سے تیار کیا گیا ہے کہ ایک قسم کی پیداوار ختم ہوتی ہے تو دوسری قسم مارکیٹ میں فروخت ہونے کے لیے تیار ہوتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات

ڈاکٹر جان کا کہنا تھا کہ دیگر خطوں کی طرح سوات بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہورہا ہے۔ خاص کر ایگریکلچر سیکٹر پر یہ زیادہ اثراندازہو رہی  ہیں۔ یہ اثرات ان باغات اور فصلوں پر زیادہ نمایاں ہیں جہاں زمیندار نے متوازن کھاد کا استعمال نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پورے سوات میں 50 ہزار ایکڑ پر آڑو اگایا جاتا ہےجس میں سے تقریباً 1000 ایکڑ رقبہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہوا ہے۔ ان تبدیلیوں سے تقریباً 30 سے 40 فیصد آڑو یا تو مکمل ضائع ہوا ہے یا پھر اسکی قدر کم ہوئی ہے۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث امسال آڑو کی فصل بھی تقریباً 12 دن لیٹ تیار ہوئی ہے۔

دریائے سوات باغات تباہ کر سکتا ہے

مقامی زمیندار بخت رحیم کے مطابق سوات میں عام لوگ زرعی زمینوں پر آباد ہیں جن کا رقبہ پہلے ہی بہت کم ہے۔ زیادہ تر باغات دریا کنارے ہیں اور دریا چڑھنے کی صورت میں سارا  فروٹ تباہ ہو جاتا ہے۔ اس سال بارش  کے ساتھ ژالہ باری بھی ہوئی جس سے آڑو کی فصل کو بہت نقصان پہنچا۔ مون سون کی بارشوں نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا کیونکہ ان کے باعث دریا کے بہاؤ میں تیزی آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دریا کنارے باغات کے گرد حفاظتی دیواریں نہ بنائی گئیں تو بہت زیادہ نقصان ہوگا کیونکہ گزشتہ برس کی نسبت اس سال زیادہ سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔

ہر درخت سے آدھے آڑو ضائع ہوگئے

بخت رحیم نے مزید بتایا کہ بارشوں کے باعث ان کے باغات بہت متاثر ہوئے۔ پہلے تو اپریل اور مئی کے دوران ہونے والی ژالہ باری نے درختوں پر لگے آدھے سے زیادہ فروٹ کا نقصان کیا جبکہ رہی سہی کسر مون سون کی بارشوں نے پوری کردی۔ ان کے مطابق ان کی آڑو کی کل پیداوار کا 50 فیصد موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ضائع گیا۔

باغبان ذین العابدین نے بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے آڑو کے نقصان کا یہی تخمینہ لگایا۔ ان کے مطابق آڑو کی فصل کا تقریباً 40 سے 50 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ نقصان کی شرح سوات کے بعض علاقوں میں زیادہ ہے اور بعض میں کم۔۔۔ لیکن اوسطاً نقصان  40 فیصد ہے۔

ہم آڑو کے باغ کاٹ دیں گے

ذین العابدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر طوفانی اور بے موسمی بارشوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مجبوراً باغبان اپنے آڑو کے باغ کاٹ دیں گے۔ کیونکہ خرچہ زیادہ آتا ہے اور منافع کم۔۔۔ مجبوراً باغ کاٹنے پڑیں گے۔

انہوں نے زراعت میں حکومتی عدم دلچسپی کا تذکرہ  کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ان باغوں یا زراعت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ محکمہ زراعت بھی لاتعلق ہے۔ان کےمطابق یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ باغبانوں کو فصلوں کی نگہداشت بارے آگاہی فراہم کرے اور جو موسمیاتی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور جو آنے والی ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے باغبانوں کی رہنمائی کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp