نئی حلقہ بندیوں کی آڑ میں انتخابات میں تاخیر کی جا رہی ہے ، پاکستان بار کونسل

جمعہ 18 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان بار کونسل نے الیکشن کمیشن کی جانب سے 17 اگست کو نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے انتخابات میں 90 روز سے زائد کی تاخیر کے فیصلے کی پرزور مذمت کی ہے۔

 پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون رشید اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل نئی حلقہ بندیوں کے نام پر انتخابات میں 90 روز سے زائد کی تاخیر کے فیصلے کی پرزور مذمت کرتی ہے۔

 پاکستان بار کونسل نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سنجیدہ خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نئی حلقہ بندیوں کی آڑ میں انتخابات میں تاخیر کی جا رہی ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 224 کے مطابق اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے 90 روز میں انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔

 

 پاکستان بار کونسل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ آئین میں دیے گئے وقت کے اندر صاف شفاف انتخابات کا انعقاد کروائے۔ پاکستان بار کونسل کا مسلسل یہ مؤقف رہا ہے اور جس کے لیے وکلا نے جدوجہد بھی کی ہے کہ ملک میں جمہوری نظام کا تسلسل ضروری ہے جو کہ صرف اور صرف صاف شفاف انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اسی طرح ملک کو موجودہ بدترین معاشی حالات سے نکالا جاسکتا ہے۔

گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نئی مردم و خانہ شماری کے نتائج کی روشنی میں حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کیا تھا جس کے  مطابق حلقہ بندیوں کا عمل 14 دسمبر تک مکمل کیا جاسکتا ہے جس کے بعد انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ملک میں 17 اگست کو الیکشن کمیشن کے احکامات کی وجہ سے انتظامی حدود میں رد وبدل کے عمل کو روک دیا جائے گا۔ 21 اگست کو اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے لیے حلقہ بندی کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔

 22 سے 31 اگست کے درمیان صوبائی حکومتوں سے مختلف علاقوں کے نقشے، ضلعی مردم شماری کی رپورٹیں اور دیگر ضروری دستاویزات اور اعداد و شمار منگوائے جائیں گے۔

 اس کے بعد یکم سے 4 ستمبر تک حلقہ بندیاں کرنے والی کمیٹیوں کی تربیت کی جائے گی اور پھر 5 سے 7 ستمبر تک صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں کی سیٹوں کا تناسب طے کیا جائے گا۔

 8 ستمبر سے 7 اکتوبر تک حلقہ بندی کمیٹیوں کی جانب سے ابتدائی حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔ 9 اکتوبر کو ابتدائی حلقہ بندیوں کی رپورٹ شائع کی جائے گی۔ 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک ان حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کیے جا سکیں گے اور 10 نومبر سے 12 دسمبر تک اعتراضات پر سماعت کے بعد فیصلے کیے جائیں گے اور پھر 14 دسمبر کو حلقہ بندیوں سے متعلق حتمی رپورٹ شائع کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شامل حسین اور سعد خان کی سینچریاں، شاہین کی تباہ کن بولنگ، پاکستان گولڈ نے نیشنل چیمپیئنز کپ جیت لیا

عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی پی ٹی آئی کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ

جی سی ایس ای کے بعد ٹی لیولز، گریڈز کتنے اہم اور اے لیولز سے کیسے مختلف، اس کورس کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 34 پیسے، ڈیزل 5 روپے 27 پیسے مہنگا

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد