امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کوشنر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے امن منصوبے میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں اور 15 نکاتی منصوبے پر پیشرفت کو یقینی بنائیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق جیرڈ کوشنر نے نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ منصوبے پر عمل درآمد میں ’رکاوٹیں پیدا نہ کریں‘۔ یہ ملاقات جیرڈ کوشنر کی مصر میں حماس کے اعلیٰ رہنماؤں سے براہ راست بات چیت کے بعد ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ بندی منصوبہ: ٹرمپ کے داماد کی اسرائیل اور حماس سے بات چیت بے نتیجہ ختم
رپورٹس کے مطابق تقریباً 4 گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں کئی اہم معاملات پر اتفاق نہ ہوسکا۔ اسرائیلی وزیراعظم مبینہ طور پر اب بھی امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے سے مکمل طور پر متفق نہیں اور انتخابات کے قریب آنے کے باعث غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے پر اصرار کررہے ہیں۔
جیرڈ کوشنر نے اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں حماس کے ساتھ قاہرہ میں ہونے والی بات چیت کو ’بہت اچھی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملاقات میں متعدد غلط فہمیوں کو دور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حماس کے نمائندوں نے ملاقات کے دوران مثبت باتیں کیں، تاہم ان پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ امریکا حماس کو اس کے بیانات کے بجائے امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اٹھائے جانے والے عملی اقدامات کی بنیاد پر پرکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ امن منصوبے پر بڑا یوٹرن؟ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی مسودہ ماننے سے انکار کر دیا
ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کا انتظام ایک فلسطینی تکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنا، عالمی استحکامی فورس تعینات کرنا اور ہتھیاروں کو بین الاقوامی نگرانی میں دینا شامل ہے۔
منصوبے کے تحت اسرائیل کی جانب سے غزہ سے مرحلہ وار انخلا متوقع ہے، جس کے بعد علاقے کی تعمیر نو کا عمل شروع کیا جائے گا۔
اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں پہلے مرحلے کے تحت جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔














