خاتون نے پشتون ثقافتی ملبوسات کے شوق کو کاروبار میں کیسے بدلا؟

پیر 11 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کہتے ہیں کہ ’شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا‘  اس بات کو کوئٹہ کی رہائشی فوزیہ کاسی نے سچ کر دکھایا ہے، وہ گزشتہ 40 سالوں سے پشتون ثقافتی ملبوسات کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے فوزیہ نے بتایا کے ابتدائی دنوں میں یہ کام انہوں نے اپنے شوق کو پروان چڑھانے کے لیے کیا جس کے تحت وہ  پشتونوں کو شادیوں پر روایتی ملبوسات تحفے میں پیش کرتی تھیں۔ ’تاہم جس دور میں کوئٹہ میں افغان مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا، اس وقت سے میں نے اس شوق کو اپنے کاروبار میں بدل دیا۔‘

فوزیہ کاسی بتاتی ہیں کہ خواتین کے روایتی ملبوسات بنانے کا کام نہایت منافع بخش ہے کئی بار ایک قسم کا جوڑا بنانے کی بچت 30 سے 40 ہزار تک ہوتی ہے۔ ملبوسات بنانے کے دوران مختلف اشیاء کا استعمال ہوتا ہے جس سے دیگر افراد کا کاروبار بھی چلتا ہے۔

فوزیہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے خواتین کے یہ روایتی ملبوسات امریکا اور یورپ تک بھی بھجوائے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت، وزیراعظم شہباز شریف کا ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار

شہدا کے خلاف ہرزہ سرائی قومی یکجہتی اور قومی مفاد کے منافی ہے، شرجیل انعام میمن کا شدید ردعمل

سونے کی قیمت میں مزید بڑی کمی، فی تولہ کتنے ہزار روپے سستا ہو گیا؟

فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیر مناسب ہے، بیرسٹر دانیال چوہدری

آزاد کشمیر میں کشیدگی کا حل مذاکرات ہیں، فریقین پیچھے ہٹیں، خواجہ سعد رفیق

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم