جرمنی میں خود کو ’کتا‘ کہلوانے کے شوقین افراد کا اجتماع

جمعرات 21 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عموماً ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی کوئی خاصیت یا خوبی بیان کرنے کے لیے خود کو کسی دوسرے انسان، چیز یا جانور وغیرہ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اگر انتخاب جانور ہو تو لوگ خود کو فخریہ طور پر شیر، چیتا، شاہین وغیرہ کہنا یا کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر مقصد کسی کو برا بھلا کہنا ہو یا کسی کا مذاق اڑانا ہو تو لوگ ایسے فرد کو کتا، بھیڑیا، گیدڑ، سانپ، بندر وغیرہ کے القابات سے نوازتے ہیں۔

لیکن بعض لوگ عام انسانی برتاؤ یا طرز عمل کے برخلاف جانا ہی پسند کرتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی اس کیس میں ہوا ہے۔ حال ہی میں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سینکڑوں لوگوں کو کتا کہلوانے کا اسقدر شوق پیدا ہوا کہ انہوں نے کتوں کا ہی روپ دھار لیا اور سونے پہ سہاگہ ایک دوسرے سے بھونک بھونک کر باتیں کرنے لگے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برلن میں ایک ہزار کے قریب افراد پوٹسڈامر پلاٹز ریلوے اسٹیشن کے باہر جمع ہوئے، انہوں نے  کتے کے طور پر اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لیے اپنے چہروں پر کتوں کی شکلوں کے ماسک چڑھائے ہوئے تھے۔ اس اجتماع کے شرکاء کو ایک دوسرے کی طرف بھونکتے اور سیٹیاں بجاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

اس واقعے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘پر آئی تو کچھ لوگوں نے اس پر تجسس اور حیرت کا اظہار کیا، کسی نے کتوں کا روپ دھارنے والے لوگوں پر تنقید کی توکوئی ان کی حمایت میں سامنے آیا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’جنس، رجحانات، شخصیت وغیرہ کو ظاہر کرنے کی حد سے زیادہ خواہش رکھنے کے الگ مسائل ہوتے ہیں۔ بس فطری بنیں اور اپنے آپ کو ایک انسان کے طور پر پہچانیں، یہی بہت ہے‘۔

ایک اور صارف نے لکھا، ’جانوروں کو قابو کرنے والے ادارے کو کال کریں اور انہیں (شرکاء) کو ریبیز کی خوراک دیں‘۔

ایک صارف نے سوال کیا، ’لیکن اگر یہ لوگ اپنی شناخت کتا بتاتے ہیں تو پھر وہ ماسک کیوں پہنتے ہیں؟‘۔

کینائن (خود کو کتا سمجھنے والے افراد) کا یہ غیر روایتی اجتماع جاپانی شہری ٹوکو کی شہرت کے بعد سامنے آیا ہے جس نے 14,000 امریکی ڈالر مالیت کا خصوصی سوٹ خریدنے کے بعد کتا بننے کی اپنی زندگی بھر کی خواہش کو پورا کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ’تھیرینز‘ ایسے انسانوں کو کہا جاتا ہے جو اپنی شناخت انسان کے بجائے کسی دوسری مخلوق کے طور پر کراتے ہیں جبکہ ’فرریز‘ وہ انسان ہوتے ہیں جو جانوروں کا لباس پہن کر مل جل کر کھیلنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان دونوں اقسام کے انسانوں میں فرق کریں۔

ڈوکیسن یونیورسٹی، پٹسبرگ میں نفسیات کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر الزبتھ فین نے ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ کچھ تھیریئنز اس بات پر یقین رکھتے ہوں کہ وہ ایک بلی کی روح ہیں جو انسانی جسم میں دوبارہ جنم لیتی ہے، کچھ فرریز ہوسکتا ہے تھیریئنز ہوں اور اسی طرح چند تھیئرنز ممکنہ طور پر فرریز ہوں لیکن حقیقت میں یہ دونوں الگ الگ گروپ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بکری کے شکار پر آئے اژدھے کو ہاتھ پر ڈسنے کے باوجود شخص دبوچ لیا

’قرضوں میں ڈوبا ملک، افسران شاہی بگھیوں میں‘ سرکاری تقریب پر عوامی و صحافتی حلقوں کی تنقید

طالبان حکومت کے اندر ’موقع پرست عناصر‘ موجود ہیں، نائب سربراہ انٹیلیجنس کا اعتراف

نئے صوبوں کا معاملہ محض شور شرابہ، پی ٹی آئی کو سیاسی مذاکرات کے لیے پہلے جمہوری رویہ اپنانا ہو گا، رانا ثنا اللہ

سپریم کورٹ کے 2 اہم فیصلے: خلع کا حق آئینی قرار، جعلی نکاح نامے سے جائیداد ہتھیانے کی کوشش ناکام

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی