نئی ٹیکنالوجی کا کرشمہ، 9 سال سے مفلوج خاتون کے جسم میں حرکت

منگل 21 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محققین کا خیال ہے کہ نئی ٹیکنالوجی معذور افراد کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔امریکا میں فالج کے حملے سے بچ جانے والی خاتون نو سال میں پہلی بار اپنے ہاتھ اور بازو کو حرکت دینے میں کامیاب ہوئیں۔

ہیدر رینڈولک کو 2012 میں جسم کے بائیں جانب فالج کا حملہ ہوا تھا۔امریکامیں پٹسبرگ یونیورسٹی اور کارنیگی میلن یونیورسٹی کے محققین نے رینڈولک کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی کو متحرک کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔

تینتیس سالہ رینڈولک نے قریباً ایک دہائی کے بعد سوپ کے ایک ڈبے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا۔ یہی نہیں اسٹیک کو کاٹنے کے لیے چاقو اور کانٹے کا استعمال بھی کیا۔

 رینڈولک امریکا میں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’حرکت تکلیف دہ نہیں لیکن اس کی عادت ڈالنے میں کچھ وقت لگے گا۔انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت اچھا ہے کیونکہ میں اپنے بازو اور ہاتھوں کو حرکت دے سکتی ہوں جو میں نے قریباً ایک دہائی میں نہیں کیا‘۔

محققین پر یقین ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی ان لوگوں کی زندگی میں ماید کی شمع روشن کر سکتی ہے جو معذوری کے ساتھ زبدگی بس کر رہے ہیں۔

نئی تحقیق کے مطابق ریڑھ کی ہڈی کو محرک کرنے کے فوائد چار ہفتوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس کے کوئی سنگین مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پشاور کے مہندی آرٹسٹ محمد حنان علی جن سے خواتین بخوشی حنا لگواتی ہیں

کراچی میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف حادثات میں 18 سے زائد افراد جاں بحق

پنجاب حکومت کی عیدالفطر اور یوم پاکستان کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت

افغانستان میں شوال کا چاند نظر آگیا، عیدالفطر جمعرات کو منائی جائےگی

شاہ چارلس نے نائیجریا کے صدر کو دوپہر کا کھانا کیوں نہیں کھلایا؟

ویڈیو

پشاور کے مہندی آرٹسٹ محمد حنان علی جن سے خواتین بخوشی حنا لگواتی ہیں

اصل غربت دل کی ہوتی ہے، دل تنگ ہو تو دولت بھی بے کار ہے

دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام ہوگیا، افغان طالبان کا پروپیگنڈا بے نقاب

کالم / تجزیہ

افغانوں کی تباہی کے ذمہ دار فسادی افغان طالبان ہیں

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ