بھارت انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہراساں کرنا بند کرے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

اتوار 5 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کے قوانین کا استعمال، ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کر نے کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹیف) بھارت پر دباؤ ڈالے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل، چیریٹی اینڈ سیکیورٹی نیٹ ورک اور ہیومن رائٹس واچ نے فیٹیف پر زور دیا ہے کہ وہ ہندوستانی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ بھارت انسانی حقوق کے محافظوں، کارکنوں کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے قوانین کا اطلاق بند کرائے اور غیر منافع بخش تنظیموں کے کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائیوں، ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرے۔

عالمی انسانی حقوق کے نگراں ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ فیٹیف کے ارکان غیر قانونی فنڈنگ سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کے ریکارڈ کا چوتھا متواتر جائزہ 6 نومبر کو شروع کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام شہری جگہ کو محدود کرنے اور اظہار رائے، انجمن اور پر امن اجتماع کے حقوق کی آزادیوں کو سلب کرنے کے لیے ایک منظم مہم کے حصے کے طور پر فیٹیف کی سفارشات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہندوستانی حکومت نے خاص طور پر سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ آبادیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے انسانی حقوق کے گروپوں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس مقصد کے لیے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ ( ایف سی آر اے) ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے ایکٹ ( پی ایم ایل اے) کی آڑ میں بھارتی سرکار نے کالے قوانین متعارف کرا رکھے ہیں۔

’ان کے اقدامات فیٹیف کے معیارات اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون دونوں کی خلاف ورزی ہیں۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے چیئر آف بورڈ آکر پٹیل نے کہا، “ہندوستانی حکام نے ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں، کارکنوں اور غیر منافع بخش تنظیموں کی انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کالے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی سرکار فیٹیف کے معیارات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے ناقدین کو نشانہ بنانے، ڈرانے، ہراساں کرنے اور خاموش کرنے کے لیے جعلی غیر ملکی فنڈنگ اور دہشت گردی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے2002 کا پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ ( پی ایم ایل اے) بھی نافذ کر رکھا ہے تاکہ فیٹیف کی طرف سے مقرر کردہ رکنیت کی شرائط کو پورا کیا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارتی حکام نے قانون کو بطور ہتھیار انسانی حقوق کے محافظوں، کارکنوں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے خلاف استعمال کیا ہے اور اس کی آڑ میں ان پر حملے کیے گئے، انہیں ڈرایا، دھمکایا اور ہراساں کیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا ستمبر 2020 میں اپنے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کے ذریعے پی ایم ایل اے کے تحت کارروائی کا سامنا کر رہی ہے، اس کے کام کو پچھلے 3 سالوں سے روک دیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ میں ایشیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا کہ بھارت نے 3 قوانین ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر نافذ کر رکھے ہیں جس کے نتیجے میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے فیٹیف پر زور دیا کہ اسے ہندوستانی حکومت کو اپنے سیاسی مقاصد، تنظیم کی سفارشات کا استحصال کرنے، تمام قسم کے اختلاف رائے کو خاموش کرانے کے لیے قانون کو بطور ہتھیار استعمال کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ 2014 جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار میں آئی ہے، نے ناقدین کو خاموش کرنے اور ان کی کارروائیوں کو بند کرنے کے لیے ملکی قانون کی حد سے زیادہ دفعات کا استعمال کیا ہے، جس میں ان کے غیر ملکی فنڈنگ کے لائسنس منسوخ کرنے اور انسداد دہشت گردی کے قانون کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات بنا رہی ہے۔

فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ، جو پہلی بار 1976 میں نافذ کیا گیا تھا، اس کا مقصد ہندوستانی سیاست میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا اور ان کو منظم کرنا تھا۔ تاہم، 2010 میں، حکومت نے سیاسی جماعتوں کے لیے غیر ملکی فنڈنگ کی نگرانی میں نرمی کرتے ہوئے، غیر منافع بخش تنظیموں پر زیادہ پابندیاں لگانے کے لیے قانون میں تبدیلیاں کر دی ہیں۔ پچھلے 10 سالوں میں، حکام نے اس قانون کو 20 ہزار 600 سے زیادہ غیر منافع بخش تنظیموں کے لائسنس منسوخ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، جن میں 2022 میں 6 ہزار تنظیموں کو روکنے کے اقدامت بھی شامل ہیں جس سے ان کی غیر ملکی فنڈنگ تک رسائی کو روک دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے انسانی حقوق کے محافظوں اور کارکنوں کو گرفتار کرنے اور حراست میں لینے کے لیے اکثر غیر قانونی سرگرمیاں کی ہیں اوریو اے پی اے ایکٹ کو استعمال کیا ہے جو بھارت میں انسداد دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ یہ قانون 2004 میں دہشت گردی کی روک تھام کے سخت قانون میں اصلاحات کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، لیکن حکومت نے 2008، 2012 اور 2019 میں اس میں ترمیم کرکے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی بہت سی مشکل شقوں کو شامل کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی مالی امداد اور دیگر دفعات کا غلط استعمال کیا گیا ایک ممتاز کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، جو جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر ہیں، اور اتحاد سے وابستہ ایک صحافی عرفان مہراج، کو حراست میں لیا گیا ہے۔

چارجز درج کرنے میں تاخیر اور ان مقدمات میں متعدد بری ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت انسداد دہشت گردی کے قانون کو ناقدین کو برسوں تک بند رکھنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور عدالتی عمل کو ہی حکومتی ناقدین کو اذیت دینے اور سزا دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

3 گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ