سپریم کورٹ: جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف زمین قبضہ کیس میں 8 نومبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری

منگل 14 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف زمین قبضہ کیس میں 8 نومبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے معیز احمد کی درخواست پر جاری کیے گئے فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار فیض حمید پر سنگین الزامات عائد کیے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق ٹاپ سٹی پر قبضہ کے لیے ان کو اور اہل خانہ کو اغوا کیا گیا۔ جنرل (ر) فیض حمید پر رینجرز اور آئی ایس آئی حکام کے ذریعے درخواست گزار کے آفس اور گھر پر چھاپے کا الزام ہے۔

عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید پر درخواست گزار کے گھر کا سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کرنے کا بھی الزام ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے علاوہ کارروائی کے لیے کوئی متعلقہ فورم نہیں بنتا۔

سپریم کورٹ نے لکھا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے رجوع کر سکتے ہیں، درخواست گزار کے الزامات پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے معیار پر پورا نہ اترنے پر فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کے خلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔

فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواستیں نمٹاتی ہے۔

زاہدہ جاوید اسلم کی معیز احمد کے خلاف درخواست پر سماعت کا بھی تحریری فیصلہ جاری

دوسری جانب سپریم کورٹ نے زاہدہ جاوید اسلم کی معیز احمد کے خلاف درخواست پر سماعت کا بھی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے زاہدہ جاوید اسلم کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

عدالت نے کہاکہ زاہدہ جاوید اسلم کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، چیف جسٹس یا کوئی جج ان چیمبر آرٹیکل 184/3 کے مقدمات کے فیصلے نہیں کر سکتا۔

’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد آرٹیکل 184/3 کے مقدمات کے فیصلے کا اختیار اکیلے چیف جسٹس کے پاس بھی نہیں رہا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 8 نومبر کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف زمین قبضہ کیس میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ان چیمبر سماعت اور عدالتی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیدیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ سپریم کورٹ رولز 1980 کے مطابق رجسٹرار آفس کی جانب سے کسی درخواست پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے خلاف صرف چیمبر اپیل کا تصور موجود ہے۔

آرڈر میں مزید کہا گیا کہ زاہدہ جاوید اسلم کی درخواست پر متعلقہ عدالت پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے؛ جبکہ کنور معیز احمد خان ریٹائر فوجی افسران کے خلاف وزارت دفاع اور متعلقہ فورمز پر درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔ اور درخواستیں نمٹا دی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم