ایک آدمی

بدھ 22 نومبر 2023
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی سماج میں ایک آدمی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ ہجوم میں ایک نمبر، قطار میں ایک نقطہ اور شمار میں بس ایک عدد ہوتا ہے۔ نہ وہ کوئی تبدیلی لا سکتا نہ کوئی انقلاب برپا کر سکتا ہے، نہ کوئی جلوس نکال سکتا ہے نہ ہی جلسہ کر سکتا ہے۔ نہ ظالم سماج کے آگے بندھن باندھ سکتا ہے نہ جبر کی دیواریں گرا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک آدمی ہوتا ہے۔ تغیر و تبدل کے لیے جمع کو صیغہ درکار ہوتا ہے۔ ہجوم کا اثبات درکار ہوتا ہے۔ ایک انبوہ پیکار ہوتا ہے۔

اس ساری گفتگو کے باوجود ہم نے بارہا دیکھا کہ معاشروں میں بڑی تبدیلی ایک آدمی کے نام سے منسوب ہوتی ہے۔ انقلابات زمانہ کا سہرا ایک آدمی کے سر پر ہی بندھتا ہے۔ تاریخ کی بڑی بڑی فتوحات کسی ایک سپہ سالار کے نام ہوتی ہیں۔ سائنس کے ایسے کارنامے جن  سے لاکھوں لوگ مستفید ہوئے ہوں کسی ایک آدمی کی کاوش کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ ایک آدمی ہی اصل میں معاشرے کی اساس اور بنیاد ہوتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں کہ  فرد واحد کا وجود لازم ہے جبکہ ہجوم اختیاری کیفیت ہے۔

دور کیوں جائیں ہمارے اپنے ہاں بہت سی مثالیں موجودہ سیاسی تناظر میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر موجود چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہیں تو ایک ہی آدمی نا۔ لیکن ان کے چیف جسٹس کی مسند پر بیٹھنے سے کتنے دقیق معاملات رفع ہوئے۔ ایسے معاملات جو لگتا تھا کبھی حل نہیں ہو سکیں گے۔

یہی عدالتیں تھیں، یہی آئین اور یہی نظام انصاف تھا اور سیاسی جماعتیں انصاف کو ترس رہی تھیں۔ اعلیٰ عدالتوں میں ’تین یا پانچ کا ٹولہ‘ معروف اصطلاح ہو گئی تھی۔ سوائے تحریک انصاف کے کسی اور کو  انصاف نہیں مل رہا تھا۔ عمران خان کے جرائم کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں کسی پر نہ پیشی ہوتی نہ سزا ملتی۔

سیاسی جماعتیں اس نظام انصاف سے مایوس ہوتی جا رہی تھیں۔ سیاسی کارکن اس یک طرفہ انصاف سے بددل ہو چکے تھے۔ ’ٹرکوں والے جج‘ بچے بچے کی زبان پر تھے مگر کوئی کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا۔ سب مایوس ہو چکے تھے کہ پھر قاضی فائز عیسیٰ اعلیٰ عدلیہ کی مسند اعلیٰ پر بیٹھ گئے۔

ہم نے دیکھا کہ وہ بوسیدہ نظام جو سسک کر چل رہا تھا فراٹے بھرنے لگا۔ انصاف ہوتا دکھائی دینے لگا۔ تین کا ٹولہ ٹوٹ کر رہ گیا۔ بے انصافی کا چلن ختم ہو گیا۔ یہ سب کس نے کیا؟ قاضی فائز عیسیٰ نے۔ لیکن ہیں تو قاضی صاحب بہرحال ایک آدمی۔

اب دیکھیں نواز شریف بھی ایک آدمی ہی ہیں نا۔ یہی جماعت تھی، یہی لوگ تھے۔ یہیں پر اس جماعت کو جوتے پڑ رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا شہباز شریف نے جماعت کا جنازہ پڑھا دیا۔ مہنگائی کے حوالے سے ہر گالی مسلم لیگ ن کو پڑ رہی تھی۔ عمران خان سب جرائم کر کے بھی مظلوم بن رہے تھے اور ن لیگ قربانیاں دے کر بھی خوار ہو رہی تھی۔ ایسے میں نواز شریف نے واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ اس جماعت کے تن مردہ میں نئی روح پھونک دی۔

وہی مایوس کارکن کشاں کشاں مینار پاکستان کی جانب رواں دواں ہوا۔ میاں کے نعرے ایک بار پھر ’وجنے‘ لگے۔ اچانک سیاست میں ہنگام آ گیا۔ سب جماعتیں نواز شریف سے اتحاد کے لیے دست بستہ نظر آنے لگیں۔  رانا ثنا اللہ صرف پنجاب سے ہی ن لیگ کو ایک سو بیس نشستیں دلوانے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک شکست خوردہ اور مایوس جماعت کی کایا پلٹ گئی۔ یہ سب کچھ نواز شریف کی وجہ سے ہوا لیکن ہیں تو نواز شریف بہرحال ایک آدمی۔

عمران خان نے جس حد تک ممکن تھا جنرل باجوہ کو رسوا کیا۔ ہر جلسے میں ان پر بہتان لگایا۔ کبھی ان کو غدار کہا، کبھی گیدڑ کا طعنہ دیا۔ کبھی میر جعفر پکارا، کبھی میر صادق کا نعرہ لگوایا۔ خان صاحب نے فوج جیسے ادارے کو دھمکیاں دیں۔ نو مئی والے دن فوج کو للکارا۔ ان کے شہیدوں کی یادگاروں کو نذر آتش کروایا۔ جی ایچ کیو پر حملہ کروایا، کورکمانڈر ہاؤس کو آگ لگوائی۔

 فوج کے سپہ سالار تبدیل ہوئے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے چھڑی اور کمان دونوں سنبھال لیں۔ پہلے اپنی صفوں میں ڈسپلن لایا گیا۔ پھر شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ریاست اور مملکت کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم دہرایا۔

چند ماہ میں ہم نے دیکھا کہ وہ ادارہ جو جنرل باجوہ کی سرعام تضحیک پر پشیمان تھا اس میں نئی جان پڑ گئی۔ اب قومی ترانے پڑھے جانے لگے۔ لوگ جنگی نغمات دہرانے لگے۔ شہیدوں کی عظمتیں گنوانے لگے۔ فوج کا سر اپنے سپاہ سالار کی وجہ سے فخر سے بلند ہونے لگا۔ یہ سب  اتنی جلدی کیسے ہوا؟ ظاہر ہے جنرل عاصم منیر کی وجہ سے۔ لیکن غور کریں تو جنرل عاصم منیر بہرحال ہیں تو ایک ہی آدمی۔

پروٹوکول کی ترتیب کے حوالے سے اب اس کالم کو ختم ہو جانا چاہیے تھا مگر ابھی ایک اور آدمی کا قصہ باقی ہے۔

جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا نام آپ نے سنا تو ہو گا۔ یہ صاحب ہیں جنہوں نے کئی برس تن تنہا اس ملک کو چلایا۔ بشریٰ بی بی سے لیکر فیض آباد دھرنے تک، سب معاملات کی خود نگہبانی کی۔ افغانستان سے شدت پسندوں کو لا کر اس ملک میں بسانے کا فیصلہ انہوں نے خود کیا۔ تحریک انصاف کے سوا باقی سیاسی جماعتوں کو عتاب کا نشانہ خود بنایا۔ ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے مالکوں کو اپنی نگرانی میں ڈرایا دھمکایا۔ حاضر سروس ججوں کے گھر میں جا کر دھمکیاں انہوں نے دیں ۔

اپنے باس کے ہوتے ہوئے اس کی مسند پر بیٹھنے کی سازشیں انہوں نے خود کیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے ان تمام جرائم کے ثابت ہونے کے باوجود آج تک کوئی مائی کا لال  ان کا بال بیکا نہیں کرسکا۔ کسی عدالت میں کوئی پیشی نہیں ہو سکی۔ نیب میں  ایک سوال تک کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اپنے ادارے نے بھی بازپرس کی کوشش نہیں کی۔ اس پر حیرت ہوتی ہے کیونکہ ہیں تو فیض حمید ایک آدمی، بلکہ ایک ریٹائرڈ آدمی ۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp