کورونا وائرس چینی حکومت کے زیر انتظام تجربہ گاہ سے پھیلا، ایف بی آئی کا دعوٰی

بدھ 1 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف بی آئی) کے سربراہ کرسٹوفر رے کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ یقین کی حد تک قائل ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی ابتدا چینی حکومت کے زیر انتظام تجربہ گاہ میں ہوئی تھی۔

امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایف بی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی نے کافی عرصہ سے اندازہ لگایا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کا نقطہ آغاز ممکنہ طور پر ایک تجربہ گاہ میں وقوع پذیر ہونیوالا واقعہ تھا۔

کرسٹوفر رے کا یہ انٹرویو کووڈ نائنٹین وبا کے آغاز سے متعلق ایف بی آئی کے خفیہ فیصلوں کی عوامی سطح پر سامنے والی پہلی تصدیق قرار دیا جارہا ہے تاہم چین اس الزام کو ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے چین کے علاقہ ووہان کی تجربہ گاہ سے جان لیوا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی تردید کرچکا ہے۔

2021 میں چین اور عالمی ادارہ صحت کی مشترکہ تحقیقات نے بھی کورونا وائرس کی کسی تجربہ گاہ  سے جنم لینے کے مفروضہ کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔ تاہم اس تحقیقات پر عالمی ادارہ صحت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

منگل کو دیے گئے انٹرویو میں ایف بی آئی کے سربراہ کرسٹوفر رے نے بتایا کہ چین ایک عرصہ سے کورونا جیسے وبائی مرض کے ماخذ کی نشاندہی کی کوششوں کو ناکام بنانے اور اس ضمن میں حقائق چھپانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ ایف بی آئی کے نتیجہ کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

گرافکس بشکریہ فوکس نیوز

کچھ دن قبل امریکی توانائی کے ادارے نے  بھی چینی شہر ووہان کی کسی تجربہ گاہ سے کورونا وائرس کے لیک ہونے کے خدشہ کا اظہار کیا تھا تاہم بہت سے سائنس دانوں نے اس ضمن میں فراہم کردہ کسی ثبوت کی تردید کی ہے۔

یونیورسٹی آف گلاسگو میں وائرل جینومکس اور بائیو انفارمیٹکس کے سربراہ پروفیسر ڈیوڈ رابرٹسن نے بھی وائرس کے قدرتی ہونے کے امکان کا اظہار کیا

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وائرس کی کھوج سے متعلق حکومتی کوششں کو سراہتے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی ہمارے پاس عوام کو معلومات دینے کے ضمن میں کچھ خاص نہیں۔

اکتوبر 2021 میں ایک اعلٰی امریکی اہلکار کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں یہ دعوٰی کیا تھا کہ چار امریکی ایجنسیوں نے نسبتاً کم پر اعتماد اندازے کے ساتھ بتایا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ کسی متاثرہ جانور یا اس سے متعلقہ وائرس سے ہوئی تھی۔

دوسری جانب چین میں اسی نوعیت کی ایک سازشی نظریہ کو فروغ دیا گیا کہ کورونا وائرس کو واشنگٹن ڈی سی کے شمال میں قائم تجربہ گاہ میں تخلیق کرکے وہیں سے لیک کیا گیا۔ واضح رہے کہ واشنگٹن سے 50 میل کے فاصلہ پر میری لینڈ میں قائم فورٹ ڈیٹرک میں چیچک اور ایبولا جیسے وائرس پر تحقیق میں مصروف تجربہ گاہیں قائم ہیں۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طیارے کے واش روم میں خرابی، پرواز دو بار ڈائیورٹ، مسافروں کا انوکھا سفر

ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی شاندار تقریب، ندیم لونے والا کے سروں پر شائقین جھوم اٹھے، محسن نقوی بھی شریک

خضدار کے پہاڑی سلسلے میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 10 دہشتگرد ہلاک، متعدد زخمی

پاکستان کا 79واں یومِ آزادی، صوفی سٹی منڈی بہاؤ الدین میں عظیم الشان تقریب

وسیم اکرم کے بعد شاہد آفریدی کا کتا بھی لاپتا، مداحوں سے تلاش میں مدد کی اپیل

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی