پھر ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان

بدھ 6 دسمبر 2023
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کے میڈیا پر آنے کے قریباً سب ہی رستے مسدود ہو گئے۔ لوگوں کو  تو عمران خان کی ہر روز کئی کئی پریس کانفرنسز کی عادت تھی، اب اس فرنٹ پر خاموشی سے سیاست پر ویرانی سی چھا گئی۔

چینلوں پر پہلے ہی تقریر اور تصویر پر پابندی کا زمانہ چل رہا ہے۔ اس خاموشی کے درمیان جیل ٹرائل کی بات ہوئی اور اسی حوالے سے کئی ماہ بعد اب عمران خان کی چند اہم صحافیوں سے ملاقات ہوئی۔ جو صحافی عمران خان سے جیل میں ملاقات کر کے آئے، ان میں سے ایک محترم  دوست سے ملاقات ہوئی۔

بہت سے سوال تھے جو ان سے کرنے تھے۔ بہت سے سوالات کا جواب وہ خود کھوج رہے تھے۔ بہت سی معلومات ان کے پاس موجود تھیں مگر بہت سی معلومات ایسی تھیں جو سب کی نظر سے مخفی تھیں۔ بعض باتیں سرعام کی جارہی ہیں، کچھ اندازے سرگوشیوں میں لگائے جا رہے ہیں، کچھ بیانات منصہ شہود پر آ چکے ہیں لیکن کچھ باتیں دلوں میں بھی رہ گئی ہیں۔

جن لوگوں کی عمران خان سے ملاقات ہوئی، ان سب کے بیان میں کچھ باتیں مشترک ہیں۔

ایک تو عمران خان کا مورال بہت بلند ہے۔ وہ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ وہ کسی لندن پلان کا بار بار ذکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں انھیں وزارت عظمیٰ سے نیچے دھکیلا گیا اور اب نواز شریف کو وزیر اعظم بنایا جائے گا۔ وہ اب بھی بار بار جنرل باجوہ اور ڈونلڈ لو تک کو للکار رہے ہیں۔ ان کے خیال میں نو مئی کو ان کے خلاف ایک بہت بڑی سازش کی گئی جس کے ڈانڈے امریکا سے ہوتے ہوئے جنرل باجوہ تک اور جنرل باجوہ سے ہوتے ہوئے نواز شریف تک جا ملتے ہیں۔ سائفر کو وہ اب بھی  بین الاقوامی سازش سمجھتے ہیں۔

عمران خان قریبی ساتھیوں کے تحریک انصاف کو چھوڑنے پر رنجیدہ بھی ہیں اور بعض لوگوں کے چلے جانے پر خوش بھی ہیں۔ عمران خان نے بشریٰ بی بی کے لیے کرسی کا انتظام کیا، اپنی بہنوں سے ملاقات کی۔ اپنے وکلاء سے قانونی اور سیاسی مشورے بھی کیے۔

انتخابات کے حوالے سے وہ بہت پر عزم تھے۔ انھیں بہت زیادہ توقع ہے کہ تحریک انصاف اگلے انتخابات میں کلین سویپ کرے گی۔ کوئی ان کو جیتنے سے روک نہیں سکتا۔ اگر ایسی کوشش کی گئی تو سانحہ بنگہ دیش جیسا واقعہ بھی ہو سکتا ہے۔ مجیب الرحمن والا کردار بھی سامنے آ سکتا ہے۔

 میں مدت سے عمران خان کی ہر ہرزہ سرائی کو بہت اشتیاق سے سنتا ہوں تاکہ اس بات سے باخبر رہ سکوں کہ اس وقت حضور کا اقبال کتنا بلند ہے یا وہ کون سے ہوائی قلعے ہیں جو عمران خان کے ذہن میں تعمیر ہو رہے ہیں۔ عمران خان میں یہ عادت ہے کہ وہ ایک غلط بیانی کرتے ہیں اور پھر اس پر اتنی شدت سے ضد کرتے ہیں کہ جلد ہی خود اس غلط بیانی  کو سچ سمجھنے لگتے ہیں۔

ان میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ وہ اس جھوٹ کے منجن پر ’سچ‘ کا لیبل چسپاں کرکے بہت سے لوگوں میں بیچنے میں  کامیاب ہوجاتے ہیں۔ وہ جو خواب دیکھتے ہیں، وہی انھیں حقیقت بنتا نظر آتا ہے۔ ہر وہ خیال  جو ان کے ذہن میں جنم لیتا ہے، وہ فوراً سچ بن کر ان کے گرد رقص کرنے لگتا ہے۔

اس طرح کی کیفیت کو جانے ماہر نفسیات کیا کہتے ہیں مگر اردو محاورے میں اسے آنکھوں دیکھی مکھی کھانے سے تشبیہ دیا جا سکتا ہے یا پھر اس کو کھلی آنکھوں سے دھوکہ کھانا بھی بتایا جا سکتا ہے۔ جانے یہ کشف کی کون سی کیفیات ہیں جن میں عمران خان یہ بیان دیتے ہیں، بہرحال اس پر ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

عمران خان میں بے وقوف بننے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ نو مئی اس کی عملی مثال ہے۔ عمران خان نےسوچا تھا کہ وہ اپنے جلالی کارکنوں کی مدد سے نہ صرف ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے بلکہ اقتدار پر بزور بازو قبضہ کر لیں گے۔ ان کے قریبی لوگ یہی بتاتے ہیں کہ عمران خان ہر وقت اسی قسم کی خواہشات کا ورد کرتے تھے۔

پھر نو مئی کا دن آ گیا۔ ریاست نے ایک دن تو لوٹ مار، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ برداشت کیا مگر پھر ریاست کی آنکھوں پر پڑا ہائی برڈ پردہ چھٹ گیا۔ ریاست نے اپنے اور  شہداء کی تحفظ کی ایک بار پھر قسم کھا لی۔ اس کے بعد جو کچھ پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔

پارٹی بکھر گئی، ساتھی ٹوٹ ٹوٹ کر دوسری پارٹیوں میں چلے گئے۔ بیانیہ شیر افضل مروت کے انقلاب والی گفتگو کے موافق ہو گیا۔ ٹکٹ لینے والے ہوا ہوگئے۔ نعرے لگانے والے گھروں میں دبک گئے۔ آگ لگانے والے ٹھنڈی ٹھنڈی باتیں کرنے لگے۔ یہ سب اس غلطی کا خمیازہ تھا جو نو مئی کو عمران خان سے سرزد ہوئی تھی۔

اب عمران خان کو ایک اور غلطی درپیش ہے۔ ایک اور کیلے کو چھلکا ان کے سامنے ہے جس پر سے خان نے پھسلنا ہی پھسلنا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ان انتخابات میں پی ٹی آئی کی فتح کا کوئی امکان نہیں۔ پی ڈی ایم والی ٹیم ایک دفعہ پھر اتحاد کر کے برسر اقتدار آتی نظر آ رہی ہے۔ وہی میل ملاقاتیں، وہی شکوے شکایتیں جو پی ڈی ایم کے دورمیں تھیں انہی پر اب بات ہو رہی ہے۔ اس وقت صرف عمران خان ایک طرف ہیں باقی سب دوسری طرف۔ ایسے میں اگر عمران خان انتخابات کا بائیکاٹ کر دیں تو یہ انتخابات بے معنی ہوجائیں گے۔ بغیر کسی اپوزیشن کے سب بلامقابلہ منتخب ہوجائیں گے۔

یہ یک طرفہ انتخابات خان صاحب کے بیانیے کی سب سے بڑی جیت ہوں گے لیکن عمران خان کو اب بھی کچھ لوگ سبز باغ دکھا رہے ہیں کہ الیکشن میں پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر فتح حاصل کرے گی۔ ایسے خواب دکھانے والوں کو انتخابات میں صرف پی ٹی آئی کی شمولیت درکار ہے ان کو پی ٹی آئی کی فتح سے کوئی غرض نہیں۔

عمران خان ایک دفعہ پھر وہی غلطی دہرانے جا رہے ہیں جس طرح کی غلطی انہوں نے نو مئی کو کی تھی۔ ایک دفعہ پھر ان سے وہ بیانات دلائے جا رہے جن کا خمیازہ ان کو آٹھ فروری کے بعد بھگتنا پڑے گا ۔ لیکن سمجھانے والے اب کیا کریں کیونکہ ایک دفعہ پھر حماقت کی مسند پر ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp