امید ہے سپریم کورٹ اپنے اوپر لگے داغ دھوئے گی، بلاول بھٹو

منگل 12 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کے لیے انصاف چاہیے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے خلاف ریفرنس کے ذریعے عدالت عظمی اپنے اوپر لگے داغ دھوئے گی۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں 12 سال بعد سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر سماعت ہورہی ہے جس پر وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور بینچ میں شامل تمام جج صاحبان کے شکر گزار ہیں۔

ریفرنس عدلیہ کے لیے ایک امتحان ہے

بلاول بھٹو نےکہا کہ انہوں نے 2018 میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی کہ اس ریفرنس کو سنا جائے اور انہیں قانونی طور پر وارث ہونے کے ناطے اس کیس میں فریق بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریفرنس ہماری عدلیہ کے لیے ایک امتحان ہے اور ہمارے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے لیے انصاف چاہیے، صدر زرداری نے اپنے ریفرنس میں جو سوالات اٹھائے ہمیں ان کے جواب چاہئیں۔

عدلیہ اپنے اوپر لگا داغ دھوئے

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت، عدلیہ اور قانون پر اس فیصلے کے حوالے سے جو داغ ہے وہ ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا ایسا کرنے سے آپ ہمیں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، میر مرتضی بھٹو، میر شاہنواز بھٹو اور اس جدو جہد میں شہید ہونے والے پیپلز پارٹی کے کارکنان تو واپس نہیں دلوا سکتے مگر موجودہ چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان سے امید ہے کہ جو کچھ وہ کرسکتے ہیں اتنا تو کرلیں۔

انہوں نے کہا، ’اگر ذوالفقار علی بھٹو یا بینظیر بھٹو آپ کے سامنے نہیں ہیں تو مجھے انصاف فراہم کیا جائے اور مجھے اور اس قوم کو بتایا جائے کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو بے قصور تھا، جسے عدالت نے قاتل قرار دیا وہ دراصل مظلوم تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں جنرل ضیاالحق ہی نہیں بلکہ پورا نظام کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے، اس نظام میں آمر، قانون، عدالت اور سیاستدان شامل تھے جنہیں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخ کو درست کرنے کی ضرورت ہے

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام نے بہت پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ قائد عوام بے گناہ ہیں، پاکستانی عوام جانتے تھے کہ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ ہم پاکستان کی ایک بدترین مثال قائم کریں گے مگر ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور اپنے اصولوں کا سودا نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ نے اپنے اوپر لگے خون کے داغ کو دھونا ہے، تاریخ کو درست کرنا ہے، ذمہ داران کو بے نقاب کرنا ہے۔

جس کے قتل کا الزام ہے وہ آج بھی عدالت میں موجود تھا

انہوں نے کہا کہ جس شخص کو قتل کرنے کا الزام بھٹو پر لگایا گیا وہ شخص زندہ ہے، وہ آج بھی آپ کے سامنے عدالت میں موجود تھا اور پریس کانفرنس کر رہا تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو کو ان کو قتل کرنے کے الزام میں شہید کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جس شخص کو قتل کرنے کا الزام بھٹو پر لگایا گیا وہ شخص زندہ ہے، وہ آج بھی آپ کے سامنے عدالت میں موجود تھا اور پریس کانفرنس کر رہا تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو کو ان کو قتل کرنے کے الزام میں شہید کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کیا ہمارا آئین، اسلامی قوانین اور قدرت کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے کہ آپ پر سازش اور ایک شخص کے قتل کا الزام ہے جو زندہ ہے، بھٹو کو اس ’جرم‘ میں پھانسی کی سزا سنائی گئی مگر قانون اور اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس ریفرنس پرایسا فیصلہ آنا چاہیے کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہو اور ہمیشہ کے لیے جھوٹے کیسز کا دروازہ بند کیا جائے اور آگے جاکر پاکستان کی عدلیہ ایسا کوئی فیصلہ نہ کرسکے۔

عدلیہ کو کنٹرول کرنے کا راستہ بند کرنا ہوگا

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدالتوں میں آج تک کسی بھی مقدمے کی سماعت میں بھٹو قتل کیس کا حوالہ نہیں دیا گیا مگر جس طریقے سے اس کیس کا فیصلہ کروایا گیا وہ روایت ابھی بھی قائم ہے، اسی لیے چیف جسٹس اور دیگر تمام ججز سے درخواست ہے کہ وہ اس طریقے سے عدلیہ کو استعمال اور اسے کنٹرول کرنے کا دروازہ بھی ہمیشہ کے لیے بند کردیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو انصاف ملنا چاہیے مگر عوام اس وقت تک سپریم کورٹ کے فیصلوں کو نہیں مانیں گے جب تک یہ بھٹو کو انصاف نہ دے دیں۔

سب جانتے ہیں راؤ انوار کس کے کھلونے ہیں

راؤ انوار کے حالیہ انٹرویو کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ راؤ انوار کس کے کھلونے ہیں اور کس نے انہیں لانچ کیا ہے، میرے لیاری کے جیالوں نے ایک پیغام بھیجا جس میں لکھا تھا ’میاں تیرے جانثار، بشیر میمن، راؤ انوار۔‘

الیکشن 8 فروری کو ہی ہوں گے

انتخابات کی تاریخ آگے بڑھنے کے آصف علی زرداری کے بیان سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے  اپنے فیصلے میں الیکشن کی تاریخ 8 فروری دی تھی اور کہا تھا کہ یہ تاریخ پتھر پر لکیر ہے۔ انہوں نے کہا صدر زرداری کے بیان کو غور سے سنیں تو انہوں نے یہی کہا ہے کہ الیکشن 8 فروری کو ہوں گے مگر جب ان پر دباؤ ڈالا گیا تو انہوں نے ایک بات کہی جسے سوشل میڈیا پر تروڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں